ایف پی سی سی آئی نے مانیٹری پالیسی کو مسترد کردیا ٹر یڈ اور انڈسٹری نے واضح طور پر 500 بیسس پوا ئنٹ کمی کا مطالبہ کیا تھا

وفاق ایوانہائے تجارت وصنعت۔ پاکستان

ایف پی سی سی آئی نے مانیٹری پالیسی کو مسترد کردیا
ٹر یڈ اور انڈسٹری نے واضح طور پر 500 بیسس پوا ئنٹ کمی کا مطالبہ کیا تھا
عاطف اکرام شیخ، صدر ایف پی سی سی آئی

کراچی (5 مئی 2025): صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی کاروباری، صنعتی اور تاجر برادری مانیٹری پالیسی سے مایوس ہے؛ کیونکہ یہ افراط زر کے مقابلے میں بہت بھاری پریمیم پر مبنی ہے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے پیر کو ہونے والی اپنی میٹنگ میں انڈسٹری کی توقعات کے برعکس شرح سود میں محض 100 بیسز پوائنٹس کی کمی کی ہے؛ جبکہ، انڈسٹری کی تواقعات 500 بیسس پوائنٹ کی کمی تھی۔ صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے روشنی ڈالی کہ افراط زر حکومت کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق اپریل 2024 میں 0.30 فیصد رہی۔ لیکن، پالیسی ریٹ کی شرح آج بھی 11.0 فیصد پر برقرار ہے؛ جو کہ افراط زر کے مقابلے میں 1,070 بیسس پوائنٹس (bps) کے پریمیم کی عکاسی کرتی ہے اور یہ معاشی لحاظ سے بھی پاکستا ن کے لیے سود مند نہیں ہے۔ صد ر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ تمام صنعتوں اور شعبوں کے ساتھ ملک کے اعلیٰ ترین ٹر یڈ اور انڈسٹری کے پلیٹ فارم یعنی کہ ایف پی سی سی آئی نے مشاورت کے بعد کلیدی پالیسی کی شرح کو معقول بنانے کے لیے 500 بیسس پوائنٹس کی سنگل اسٹروک کمی کا مطالبہ کیا تھا۔مزید برآں، خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کے وژن سے ہم آہنگ ہونے اور صنعتی ترقی، درآمدی متبادل اور برآمدی نمو کے لیے وزیر اعظم کے وژن کے مطابق شرح سود میں کمی ہونا ضروری ہے۔صد ر ایف پی سی سی آئی عا طف اکرام شیخ نے کہا کہ CPI مئی تا جون 2025 کے مہینوں کے لیے صفرتا 3 فیصد کی حد میں رہنے کی توقع ہے؛ جیسا کہ ٹر یڈ، انڈسٹری اور ماہرین اقتصادیات کی توقعات بھی ہیں اور انہو ں نے اسی بنیاد پر مطالبہ کیا تھاکہ آج کے مانیٹری پالیسی فیصلے میں 500 بیسس پوائنٹ کی کمی کرتے ہوئے کلیدی پالیسی ریٹ کی شرح کو 7 فیصد تک لایا جانا چاہیے۔ عاطف اکرام شیخ نے وضاحت کی کہ تیل کی بین الاقوامی قیمتیں بھی آنے والے مہینوں میں کم یا مستحکم رہنے اور 60 ڈالر فی بیرل کے لگ بھگ رہنے کی توقع ہے۔ پاکستان کے لیے یہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ تیل کی قیمتیں پاکستان میں افراط زر کے دباؤ کے اثرات پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرنے والے عوامل میں سے ہیں۔سنیئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں نے وضاحت کی کہ صرف پچھلے کچھ دنوں میں اوپیک پلس ممالک نے جون 2025 کے مہینے کے لیے اپنی تیل کی پیداوار میں 411,000 بیرل یومیہ اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے اور عالمی بینچ مارک یعنی کہ برینٹ کے لیے تیل کی قیمتیں بھی 3.9 فیصد کم ہوئیں ہیں اور58.9 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہی ہیں۔سنیئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں نے مزید کہا کہ بھارت کے ساتھ سرحدوں پر کسی قسم کی بدامنی سے تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئے گی۔ لہٰذا، پاکستان میں حکام کے پاس اب شرح سود میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کرنے کے لیے تمام لوازمات موجود تھے اور اب پاکستان میں اس معاشی سکڑاؤ اور کاروبار مخالف مانیٹری پالیسی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔
سیکرٹری جنرل ایف پی سی سی آئی