
لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی نے ایک سال میں ریکارڈ 94 سکالرز کو پی ایچ ڈی کی ڈگریاں جاری کر دیں جو تحقیق کے میدان میں جامعہ کی اہم کامیابی یے۔ ان سکالرز کو 20 ویں کانووکیشن میں ڈگریاں عظا کی گئیں جس کے مہمان خصوصی چانسلر گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر تھے۔ کانووکیشن میں مختلف مضامین میں کل 5010 ڈگریاں دی جائیں گی اور اس کا دوسرا سیشن آج (اتوار) کو منعقد ہوگا۔ ایم ایس/ایم فل کی783 جبکہ انڈرگریجوایٹ پروگرامز( بی ایس، بی بی اے، بی کام، بی ای، بی آرکیٹیکچر، بی ایس سی ایس، بی ایف اے، فارم ڈی) کی 2487 ڈگریاں ایوارڈ کی جائیں گی۔ لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کے الحاق شدہ کالجز کی طالبات کو 1646 ڈگریاں دی جائیں گی جن میں گورنمنٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین سمن آباد، گورنمنٹ اسلامیہ گریجویٹ کالج برائے خواتین کوپر روڈ اور گورنمنٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین گلبرگ شامل ہیں۔ کل 748 طالبات کو میڈلز اور رول آف آنرز سے نوازا جائے گا۔ کانووکیشن میں اپنے شعبوں میں نمایاں کارکردگی کی حامل ایلومینائی کی دو ارکان کو بھی خصوصی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ گورنر پنجاب نے طلباء کی شاندار کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ طالبات نے تعلیم کے شعبے میں خود جو منوایا ہے۔ ڈگری لینے والی طالبات مبارک باد اور ستائش کی مستحق ہیں۔ خواتین کو تعلیم یافتہ بنائے بغیر کوئی معاشرہ اور ریاست کامیابی کے زینے پر نہیں چڑھ سکتی۔ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر اور انتظامیہ بھی مبارک باد کی مستحق یے جنہوں نے جاں فشانی سے آج اتنی طالبات کو معاشرے کا مفید اور فعال حصہ بنا دیا۔ وائس چانسلر، پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے
لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کی اور کہا کہ یونیورسٹی نے اپنے نصاب جو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا ہے اور طالبات کی ایمپاورمنٹ کا خیال رکھا ہے۔ وائس چانسلر نے کہا کہ تعلیم و تحقیق کے علاوہ ہم نصابی سرگرمیوں اور سپورٹس میں لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی کامیابیوں می فہرست طویل بھی ہے اور قابل فخر بھی۔ وائس چانسلر نے گورنر پنجاب کو طالبات اور فیکلٹی کا تیار کردہ ایک فن پارہ بھی پیش کیا۔ موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے گورنر پنجاب نے کہا کہ انڈیا اور انڈیا کا باپ بھی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ انشاءاللہ اس ملک نے ہمیشہ قائم رہنا ہے۔ ہمارا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ کوئی پیپلز پارٹی، کوئی پی ٹی آئی، کوئی ن لیگ، کوئی جماعت اسلامی، کوئی مولانا فضل الرحمن کا گروپ، کوئی پولیٹیکل پارٹی نہیں۔ہمارا کوئی مذہبی فرقہ نہیں تمام فرقے تمام پارٹیاں صرف پاکستان ہیں اور پاکستان کے لیے ہم اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہیں۔ گورنر نے کہا کہ پوری قوم اپنی فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے سب سے بڑا رول ماڈل رسول خدا حضرت محمد صلی علیہ وسلم کی ذات اقدس ہے۔ خواتین میں ہماری رول ماڈل ازواج مطہرات ہیں، بی بی خدیجتہ الکبری رضی اللہ عنہ، بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ اور بی بی فاطمتہ الزہرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ سیاسی طور ہماری رول ماڈل محترمہ فاطمہ جناح ہیں اور میری لیڈر بینظیر بھٹو شہید ہیں۔ سردار سلیم۔حیدر نے طالبات پر زور دیا کہ آپ بہت ساری ڈگریاں حاصل کر لیں لیکن اگر تربیت میں کمی رہ گئی ہو تو ان ڈگریوں کا کوئی فائدہ نہیں.























