
پاکستان میں ایک اور گندم کا بحران جنم لے رہا ہے، پنجاب کے کسان مایوس، اگلی فصل نہ اگانے کا اعلان
لاہور: پاکستان میں ایک بار پھر گندم کے بحران کے بادل منڈلا رہے ہیں، کیونکہ پنجاب کے کسان سرکاری پالیسیوں سے شدید نالاں ہیں اور اگلے سیزن میں گندم کی کاشت نہ کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے گندم کی سرکاری خریداری نہ کرنے اور کسانوں کو اوپن مارکیٹ میں فروخت کرنے کی ہدایت کے بعد صورت حال مزید گمبھیر ہو گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسانوں نے گندم کی کاشت ترک کر دی تو یہ پاکستانی زراعت کے لیے ایک نئے چیلنج اور تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔
لاہور ہائیکورٹ نے سنگین نتائج سے خبردار کیا
جمعہ کے روز لاہور ہائیکورٹ میں گندم کی امدادی قیمت مقرر کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس دوران جسٹس سلطان تنویر احمد نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا، “آپ جتنے بھی ٹریکٹر دے دیں، اگلے سال کسان گندم نہیں اگائے گا۔ ایک من گندم پر 2 ہزار سے 2,500 روپے سے کم خرچ ممکن ہی نہیں، مگر کسانوں کو مڈل مین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، جس کے نتائج بہت سنگین ہوں گے۔”
انہوں نے سوال اٹھایا کہ “کسان فی من گندم کتنے میں بیچ رہا ہے؟ حکومت نے کسانوں سے گندم اگانے کی اپیل کی تھی، لیکن اب انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔ اوپن مارکیٹ کسانوں سے کم قیمت پر گندم خرید رہی ہے، جبکہ حکومت کو چاہیے کہ وہ پیداواری لاگت سے زیادہ قیمت پر گندم خریدے۔”
حکومتی وکیل کا موقف: “ویئر ہاؤس اور قرضے دیں گے”
اس کے جواب میں پنجاب حکومت کے وکیل نے کہا کہ “حکومت کسانوں کے لیے ویئر ہاؤس بنا رہی ہے، جہاں وہ 4 ماہ تک اپنی گندم محفوظ رکھ سکیں گے۔ چھوٹے کسانوں کو 5,000 روپے امداد دی جائے گی، جبکہ ویئر ہاؤس میں رکھی گندم کی مالیت کے 70% تک قرضہ بھی دیا جائے گا۔” تاہم، عدالت نے سوال اٹھایا کہ “کیا حکومت خود کسانوں سے گندم خریدے گی؟” جس پر وکیل نے جواب دیا کہ “نہیں، کسان اوپن مارکیٹ میں فروخت کر سکتے ہیں۔”
سماعت ملتوی، بحران بڑھنے کا خدشہ
عدالت نے محکمہ پرائس کنٹرول کو مزاد تیاری کا موقع دیتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔ تاہم، کسانوں کا موقف ہے کہ “اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ اٹھائے تو اگلی فصل کم ہوگی، جس سے گندم کی قلت اور مہنگائی کا نیا بحران جنم لے سکتا ہے۔”
ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ “کسانوں کی مایوسی دور کرنے کے لیے گندم کی مناسب قیمت کی ضمانت دی جانی چاہیے، ورنہ ملک کو خوراک کے بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔”























