شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور اور ناظم امتحانات ثانوی و اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ لاڑکانہ کے خلاف عوامی شکایات


شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور اور ناظم امتحانات ثانوی و اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ لاڑکانہ کے خلاف عوامی شکایات

کراچی
مور خہ 02 مئی 2025

صوبائی محتسب سندھ دفتر سے سرکاری محکموں کے خلاف درج عوامی شکایات کے ازالے کا سلسلہ جاری ہے

سرکاری محکموں کے خلاف عوامی شکایات کے اندراج میں تیزی صوبائی محتسب سندھ پر اعتماد کا اظہار ہے، صوبائی محتسب سندھ محمد سہیل راجپوت

پرانی شکایات کو تیزی سے نمٹا رہے ہیں اور نئی شکایات کو کم از کم 90 دن میں حل کرنے کے اقدامات کررہے ہیں، محمد سہیل راجپوت

کراچی 02 مئی ۔صوبائی محتسب سندھ دفتر سے سرکاری محکموں کے خلاف درج عوامی شکایات کے ازالے کا سلسلہ جاری ہے۔ جیکب آباد کی رہائشی ریحانہ یاسمین کی شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور کی جانب سے ایم ایڈ کی ڈگری کی تصدیق میں تاخیر کا مسئلہ بھی حل کردیا گیا۔ درخواست گزار ریحانہ یاسمین نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور اسکی ایم ایڈ کی ڈگری کی تصدیق نہیں کررہی ہے جس کے باعث اسکی پرائمری اسکول ٹیچر کا آفر لیٹر تعطل کا شکار ہے۔ درخواست گذار خاتون نے شکایت کے ازالے پر صوبائی محتسب سندھ کا شکریہ ادا کیا۔ دوسری جانب جیکب آباد کے ہی رہائشی معشوق علی نے اپنی شکایت میں ناظم امتحانات ثانوی و اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ لاڑکانہ کی جانب سے میٹرک کے امتحانات برائے سال 2024 کے اسلامیات کے پرچے میں غلطی سے غیر حاضر کیے جانے اور تعلیمی بورڈ کی جانب سے کوئی شنوائی نہ کیے پر صوبائی محتسب سندھ سے مداخلت کی درخواست کی تھی۔ صوبائی محتسب سندھ کی مداخلت کے بعد شکایت کنندہ معشوق علی کو انصاف فراہم کردیا گیا۔ اسی طرح پی ای سی ایچ ایس کراچی کے رہائشی سرفراز عظیم کی غلام محمد مہر میڈیکل کالج اسپتال سکھر کے خلاف مختلف طبی سامان کی فراہمی سے متعلق 9 لاکھ سے زائد کے واجبات کی ادائیگی میں تاخیر کے خلاف صوبائی محتسب سندھ کے دفتر میں درج شکایت بھی حل کردی گئی۔ درخواست گزار سرفراز عظیم نے شکایت کے ازالے پر صوبائی محتسب سندھ سے اظہار تشکر کیا۔ علاوہ ازیں صوبائی محتسب سندھ محمد سہیل راجپوت نے کہا ہے کہ سرکاری محکموں کے خلاف عوامی شکایات کے اندراج میں تیزی صوبائی محتسب سندھ پر اعتماد کا اظہار ہے، ہم پرانی شکایات کو تیزی سے نمٹا رہے ہیں جبکہ نئی شکایات کو کم از کم 90 دن میں حل کرنے کے اقدامات کررہے ہیں۔

ہینڈآؤٹ نمبر 495۔۔۔۔ایس اے بی

کراچی
مور خہ 02 مئی 2025

کراچی 02 مئی ۔محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان، حکومتِ سندھ کے زیرِ اہتمام اقراء یونیورسٹی کراچی میں ایک روزہ انٹرپرینیورشپ سیشن کا انعقاد کیا گیا۔ اس سیشن کا مقصد نوجوانوں کو کاروباری مہارتوں سے آراستہ کرنا، خود روزگار کے مواقع سے روشناس کروانا اور انہیں معاشی طور پر خودمختار بنانا تھا۔پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا، جس کے بعد قومی ترانہ پیش کیا گیا۔تقریب میں سیکریٹری اسپورٹس و یوتھ افیئرز، حکومتِ سندھ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ ان کے ہمراہ ڈپٹی ڈائریکٹر یوتھ افیئرز سید حبیب اللہ اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر یوتھ افیئرز معیز حسین بھی موجود تھے۔سیکریٹری اسپورٹس و یوتھ افیئرز عبدالعلیم لاشاری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “نوجوان ہمارا سرمایہ ہیں، ان کی رہنمائی، ہنرمندی اور کاروباری تربیت حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے۔ نوجوانوں کو بااختیار بنائے بغیر معیشت کی پائیدار ترقی ممکن نہیں۔ ایسے سیشنز نوجوانوں کو نہ صرف اعتماد دیتے ہیں بلکہ مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار بھی کرتے ہیں۔” تربیتی نشست Skillsrator کی سربراہ اندیلا میر نے منعقد کی، جس میں نوجوانوں کو اسکل ڈیولپمنٹ، کاروباری آئیڈیاز، اور مارکیٹ میں انٹری کے عملی طریقوں پر رہنمائی فراہم کی گئی۔بعد ازاں، ایک پینل ڈسکشن منعقد ہوا جس میں Skillsrator کے بانی پروفیسر ڈاکٹر گلفام، کاروباری ماہر کپل کمار اور Humantek کے سی ای او عتیب ہلال نے نوجوانوں سے خطاب کیا۔ انہوں نے انٹرپرینیورشپ کے چیلنجز، مواقع اور کامیابی کے اصولوں پر روشنی ڈالی۔سیشن کے دوران Proptech Academy کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر مہما سلیم نے اپنی متاثرکن کامیابی کی داستان سنائی، جس نے نوجوان شرکاء میں نیا جوش و ولولہ پیدا کیا۔پروگرام کے اختتام پر مہمانانِ گرامی کو سندھی ثقافت کی نمائندگی کرتے ہوئے اجرک اور یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں، جب کہ طلبہ کو اسناد سے نوازا گیا. تقریب میں اقراء یونیورسٹی کے سینئر عہدیداران نے بھی شرکت کی جن میں پروفیسر ڈاکٹر ارشد عزیز (ڈین)، ڈاکٹر عرفان (پروفیسر، FEST ڈیپارٹمنٹ) اور ڈاکٹر سید شیراز الحسن موہانی (ڈائریکٹر اسپورٹس) شامل تھے۔یہ سیشن محکمہ یوتھ افیئرز، حکومت سندھ کی جانب سے نوجوانوں کے لیے ایک موثر اور بروقت اقدام قرار دیا گیا، جو ان کے روشن مستقبل کی بنیاد بنے گا۔

ہینڈآؤٹ نمبر 494۔۔۔۔آئی ایس
کراچی
مور خہ 02 مئی 2025

صوبائی حکومت کا صوبے بھر میں آر او پلانٹس کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا فیصلہ

کراچی 02 مئی ۔سندھ حکومت نے صوبے بھر میں نصب ریورس اوسموسس (RO) اور الٹرا فلٹریشن (UF) واٹر پلانٹس کی کارکردگی بہتر بنانے، شفافیت یقینی بنانے اور عوام کو صاف پانی کی فراہمی کو موثر بنانے کے لیے ان پلانٹس کی حقیقی وقت میں ڈیجیٹل مانیٹرنگ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت ہونے والے ایک اہم اجلاس میں کیا گیا، جس میں وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ محمد سلیم بلوچ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری لوکل گورنمنٹ خالد حیدر شاہ، سیکریٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سید اعجاز علی شاہ، سیکریٹری آئی اینڈ سی عابد سلیم قریشی، ایڈیشنل سیکریٹری پبلک ہیلتھ محمد بخش جروار اور متعلقہ انجینئرز شریک ہوئے۔اجلاس میں سیکریٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سید اعجاز علی شاہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سندھ میں 2,529 واٹر پیوریفیکیشن پلانٹس نصب ہیں جن میں 2,032 آر او اور 497 یو ایف پلانٹس شامل ہیں۔ سکھر ریجن میں 527 پلانٹس نصب ہیں جن میں سے 354 فعال ہیں، یعنی 67 فیصد آپریشنل ہیں۔ شکارپور کی کارکردگی 88 فیصد رہی، جبکہ جیکب آباد میں صرف 46 فیصد پلانٹس فعال ہیں۔ شہید بینظیر آباد ریجن میں 1,329 پلانٹس نصب ہیں لیکن فعال صرف 445 ہیں، جس سے آپریشنل شرح 33 فیصد رہتی ہے۔ تھرپارکر میں سب سے زیادہ یعنی 832 پلانٹس نصب ہیں لیکن صرف 101 فعال ہیں، جس سے کارکردگی کا تناسب 12 فیصد بنتا ہے۔ اس کے برعکس میرپور خاص میں 98 فیصد پلانٹس فعال ہیں۔ حیدرآباد میں 673 میں سے 462 پلانٹس فعال ہیں، جس سے شرح 69 فیصد بنتی ہے۔ بدین، ٹھٹھہ اور ٹنڈو محمد خان میں صورت حال اطمینان بخش ہے، تاہم جامشورو میں صرف 30 پلانٹس فعال ہیں، جو کہ 27 فیصد ہے۔چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پورے صوبے میں فوری طور پر جدید ڈیجیٹل مانیٹرنگ نظام نافذ کیا جائے، تاکہ ہر پلانٹ کی فعالیت، پیداوار، فلٹریشن کی کارکردگی اور مرمت کی ضرورت کو حقیقی وقت میں مانیٹر کیا جا سکے۔ اس نظام کو GPS میپنگ اور ڈیش بورڈز کے ساتھ مربوط کیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ غیر فعال پلانٹس کی فوری بحالی یقینی بنائی جائے، خاص طور پر تھرپارکر اور جامشورو جیسے اضلاع میں جہاں کارکردگی تشویشناک حد تک کم ہے۔چیف سیکریٹری نے کہا کہ اس نظام کے نفاذ سے نہ صرف احتساب اور نگرانی کا عمل مؤثر ہو گا بلکہ دور دراز علاقوں میں بسنے والے عوام کو صاف پانی کی بلاتعطل فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ انہوں نے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کو ہدایت کی کہ دو ہفتوں کے اندر ڈیجیٹل نظام کے نفاذ کا تفصیلی منصوبہ پیش کیا جائے۔اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی محمد سلیم بلوچ نے کہا کہ زیادہ تر پلانٹس دیہی اور پسماندہ علاقوں میں نصب کیے گئے ہیں جہاں صاف پانی کی دستیابی سب سے اہم مسئلہ ہے۔ بجٹ کا بڑا حصہ تنخواہوں پر خرچ ہوتا ہے جس سےآر او پلانٹس کی مرمت اور دیکھ بھال متاثر ہو رہی ہے۔ انہونے کہا کہ سندھ کے 70 فیصد آر او پلانٹس فعال ہیں، غیر فعال آر اوز جو جلد بحال کردیا جائے گا، آر او پلانٹس کو مقامی کمیونٹی کے تحت چلانے کے کیے پائلٹ منصوبہ شروع کیا جائے گا، دور دراز علاقوں کو صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کے ساتھ ساتھ مالیاتی اصلاحات اور محکمہ کو انتظامی خودمختاری دینا بھی ناگزیر ہے تاکہ وہ ان پلانٹس کو بہتر طور پر چلا سکے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے اس منصوبے پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں پائیدار اصلاحات ناگزیر ہیں تاکہ عوام کو مستقل بنیادوں پر صاف پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے۔
ہینڈآؤٹ نمبر 496۔۔۔۔ایف ایم

کراچی
مور خہ 2 مئی 2025

کم عمر ترین مصنفہ عنایہ عمیر کی کتاب Reel to Reveal کی شاندار تقریب رونمائی، وزیر تعلیم سندھ اور غیر ملکی نمائندگان کی شرکت*

کراچی (2 مئی 2025) کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں پاکستان کی کم عمر ترین مصنفہ عنایہ عمیر کی انگریزی زبان میں لکھی گئی کتاب Reel to Reveal کی تقریب رونمائی کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی صوبہ سندھ کے وزیرِ تعلیم سید سردار علی شاہ تھے، جنہوں نے نوجوان لکھاری کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اُن کے ادبی سفر کو سراہا۔ اس موقع پر متحدہ عرب امارات کے قونصل جنرل بخیت عتیق الرمیتھی، ملائیشیا کے قونصل جنرل حرمن ہارڈیناتا بن احمد، سلطنت عمان کے قونصلیٹ کے نمائندے، معروف ادیب ذوالفقار ہالیپوٹو، اور کتابوں سے محبت رکھنے والے دیگر ممتاز افراد بھی موجود تھے۔ عنایہ عمیر نے یہ کتاب صرف 14 برس کی عمر میں تحریر کی ہے، جس میں “سرپرستی” یعنی مینٹورشپ کے موضوع پر اپنے خیالات اور تجربات کو قلمبند کیا ہے۔ کتاب میں وہ اپنی دادی کو اپنا پہلا سرپرست قرار دیتی ہیں، اور اس بات پر روشنی ڈالتی ہیں کہ وہ افراد جو ہمیں راستہ دکھاتے ہیں، وہ ہمارے دلوں کے سب سے قریب ہوتے ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے کہا کہ “گرل رائٹر بننا خود ایک مینٹور بننے کے مترادف ہے۔ عنایہ عمیر نے مثبت راہ دکھانے والوں کے جذبات کو محسوس کیا اور انہیں اپنی تحریر کا حصہ بنایا۔” انہوں نے مزید کہا کہ سرپرستی کوئی محض رہنمائی نہیں بلکہ نسل در نسل منتقل ہونے والی تجربے کی دولت ہے، “دوسروں کو دیکھ کر سیکھنا بھی خود کی مدد کرنے کے مترادف ہے۔” سید سردار علی شاہ نے عنایہ عمیر کے والدین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے ادبی سفر کی شروعات ہے، جو آگے چل کر ایک بڑی ذمہ داری کی صورت اختیار کرے گا، جہاں عنایہ جیسے بچے ہماری رہنمائی بھی کریں گے۔ اس موقع پر متحدہ عرب امارات کے قونصل جنرل بخیت عتیق الرمیتھی نے کہا کہ “اپنی ثقافت سے جُڑے رہنا سب سے اہم کام ہے، اور والدین اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔” ملائیشیا کے قونصل جنرل حرمن ہارڈیناتا بن احمد نے کہا کہ “زندگی تجربات اور ایک دوسرے سے سیکھنے کا عمل ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی اگلی نسل کو بہترین اقدار منتقل کریں۔اس موقع پر عنایہ عمیر نے تقریب کے شرکاء سے اپنے خطاب میں کہا کہ “سرپرستی وہ چراغ ہے جو اندھیروں میں راستہ دکھاتا ہے۔ میں ان سب کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے میری زندگی میں روشنی کی۔ یہ دل سے جُڑا ہوا رشتہ ہوتا ہے، اور میری کوشش ہے کہ اس تجربے کو کتاب کے ذریعے دوسروں تک پہنچاؤں۔” تقریب میں دیگر شرکاء نے اپنے خیالات میں کہا کہ یہ تقریب نہ صرف ایک نوجوان لکھاری کی تخلیقی کاوش کا اعتراف تھی بلکہ ایک مثبت پیغام بھی، جو نسلوں کے درمیان علم اور تجربے کی منتقلی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
ہینڈ آؤٹ نمبر 497۔۔۔اے وی
کراچی
مور خہ 02 مئی 2025

سندھ حکومت نےکراچی،سکھر، لاڑکانہ اور حیدرآباد میں “یوتھ سٹیزن جرنلزم پروگرام اوریوتھ ایمرجنگ سٹارپروگرام” 16 مئی سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے.

کراچی2 مئی۔ سندھ حکومت نے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر صوبے کےنوجوانوں کو با اختیار بنانے کے لیےاہم فیصلے کیے ہیں۔سندھ حکومت نےکراچی،سکھر، لاڑکانہ اور حیدرآباد میں “یوتھ سٹیزن جرنلزم پروگرام” اور “یوتھ ایمرجنگ سٹار پروگرام” 16 مئی سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس کے علاوہ، صوبے کی تمام 6 ڈویژنوں میں نوجوانوں کیلئے کیپسٹی بلڈنگ اور ڈیجیٹل اسکل ٹریننگ پروگرام بھی رواں ماہ مئی سے شروع کیے جائیں گے.وزیر کھیل سندھ سردار محمد بخش مہر نے بتایا کہ یوتھ سٹیزن جرنلزم پروگرام کے تحت 18 سال سے لیکر 29 سال تک کے نوجوان صحافیوں کو خصوصی تربیت دی جائے گی۔ اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ اپنے مسائل، اہم واقعات اور مثبت کہانیوں کو مؤثر انداز میں دنیا تک پہنچا سکیں۔سردار محمد بخش مہر نے زور دیا کہ اس پروگرام کے ذریعے نوجوان معاشرے میں شعور اور آگاہی پھیلانے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے. سردار محمد بخش مہر نے یوتھ ایمرجنگ سٹار پروگرام کے حوالے سےبتایا کےیہ پروگرام نوجوانوں میں موجود چھپی ہوئی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم مہیا کرے گا۔ اس پروگرام کے تحت آرٹس، کلچر، سائنس، ٹیکنالوجی اور دیگر مختلف شعبوں میں باصلاحیت نوجوانوں کی نشاندہی کی جائے گی اور انہیں اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور آگے بڑھنے کے لیے رہنمائی اور مواقع فراہم کیے جائیں گے.صوبائی وزیر نے کیپسٹی بلڈنگ پروگرام کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسکا بنیادی مقصد نوجوانوں میں ٹیم ورک جیسی اہم مہارتوں کو بہتر بنانا ہے۔ اس پروگرام کے تحت مختلف ورکشاپس، سیمینارز اور تربیتی سیشنز کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ نوجوان ایک پر اعتماد اور فعال شہری کے طور پر معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں.سردار محمد بخش مہر نے ڈیجیٹل اسکل ٹریننگ پروگرام کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور کی اہم ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔ اس کےتحت نوجوانوں کو ویب ڈویلپمنٹ، گرافک ڈیزائننگ،سوشل میڈیا, ڈیٹا انٹری، مارکیٹنگ اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز کے استعمال کی تربیت دی جائے گی۔انہوں نےکہاکہ نوجوانوں سے پروگرامز سے متعلق درخواستیں طلب کرلی ہیں، اس اقدام سے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور وہ ڈیجیٹل دنیا میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل ہو سکیں گے.

ہینڈآؤٹ نمبر 492۔۔۔۔آئی ایس

مور خہ 02 مئی 2025

کراچی میں آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں پر 7 لاکھ کے چالان، سیپا کی پانچ ماہ کی رپورٹ جاری

ماحولیاتی دشمنوں کے خلاف زیرو ٹالرنس، یہ مہم نہیں انقلاب ہے، سیکریٹری آغا شاہنواز خان

کراچی 2 0مئی ۔سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) نے ویکولر ایمیشن کنٹرول پروگرام (VECOP) کے تحت فضائی آلودگی کے خلاف پانچ ماہ میں ہونے والے چالانز کی رپورٹ جاری کردی۔ نومبر 2024 سے مارچ 2025 کے دوران 356 غیر معیاری دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو فیل قرار دے کر ان پر مجموعی طور پر 7 لاکھ 6 ہزار 140 روپے کے چالان عائد کیے گئے۔ اس خصوصی مہم میں کل 1578 گاڑیوں کا معائنہ کیا گیا جن میں سے 1222 گاڑیاں کلیئر ہوئیں۔ یہ مہم شہریوں کو آلودگی سے محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے جس میں غیر معیاری اخراج پر زیرو ٹالرنس اپنائی جا رہی ہے۔ سیکریٹری ماحولیات آغا شاہنواز خان نے کہا ہے کہ صاف فضا سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ماحول دشمن گاڑیوں کے خلاف کارروائی مزید تیز کی جا رہی ہے۔ یہ صرف مہم نہیں بلکہ ماحولیاتی انقلاب کی طرف عملی قدم ہے جس میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

ہینڈآؤٹ نمبر 493۔۔۔۔ایم ڈبلیو