پٹھوں اور جوڑوں کی بیماریوں کی تشخیص اور جدید علاج کے طریقہ کار پر روشنی

ریڈیالوجیکل سوسائٹی آف پاکستان کے زیرِ اہتمام “مسک امیجنگ” کے عنوان سے مسکولواسکیلٹل (Musculoskeletal) اہم سیمینار کا انعقاد نجی ہوٹل میں ہوا جس کی میزبانی میو ہسپتال لاہور کے شعبہ ریڈیالوجی نے کی،سیمینار میں لاہور کے تمام بڑے ہسپتالوں سے ریڈیالوجی کے ریزیڈنٹس اور ماہرین نے شرکت کی ۔سیمینار کا مقصد ہڈیوں، جوڑوں، پٹھوں، کارٹیلیج، رگوں اور اعصاب سے متعلق بیماریوں کی تشخیص میں استعمال ہونے والی جدید امیجنگ ٹیکنالوجی سے متعلق آگاہی فراہم کرنا تھا۔ سیمینار کے کلیدی مقررین میں پروفیسر خالد الرحمن اور ڈاکٹر کاشف (ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ، ریڈیالوجی، شوکت خانم میموریل ٹرسٹ) شامل تھے، جنہوں نے پٹھوں اور جوڑوں کی بیماریوں کی تشخیص اور جدید علاج کے طریقہ کار پر روشنی ڈالی۔تقریب میں صدر ریڈیالوجیکل سوسائٹی آف پاکستان پروفیسر خواجہ خورشید نے اختتامی کلمات ادا کیے جبکہ میزبان ڈاکٹر شہزاد کریم بھٹی، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ریڈیالوجی، میو ہسپتال لاہور، نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر شہزاد کریم بھٹی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “مسکولواسکیلٹل ریڈیالوجی جدید طب میں ایک انتہائی اہم اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا شعبہ ہے جو نہ صرف درست تشخیص ممکن بناتا ہے بلکہ سرجری کے بغیر مؤثر علاج کے راستے بھی فراہم کرتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر خالد رحمان نے شرکاء کو اس شعبے کی اہمیت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ “آج کے دور میں ایم آر آئی، سی ٹی اسکین، ایکس رے اور الٹراساؤنڈ جیسی جدید امیجنگ تکنیکس نے ہمیں سپورٹس انجری، آرتھرائٹس، ٹیومرز، اور دیگر ڈس آرڈرز کی درست اور بروقت شناخت کا موقع فراہم کیا ہے۔”
ڈاکٹر کاشف (ہیڈ آف ریڈیالوجی، شوکت خانم ہسپتال) نے کہا کہ “AI (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) اور جدید سافٹ ویئرز کے ذریعے اب ہم کم وقت میں زیادہ درست رپورٹس تیار کر سکتے ہیں، جو علاج کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ Diffusion Imaging، Cartilage Mapping اور Dual Energy CT Scans جیسی ٹیکنالوجیز اب کئی پیچیدہ بیماریوں کی ابتدائی تشخیص میں انقلاب لا چکی ہیں۔
سیمینار کے دوران ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ امیج گائیڈڈ انٹروینشنز، جیسے جوائنٹ انجیکشن، بایوپسی، اور درد کے علاج کے جدید طریقے، MSK ریڈیالوجی کو محض ایک تشخیصی شعبے سے بڑھا کر علاج میں مددگار اہم کردار ادا کرنے والا شعبہ بنا رہے ہیں۔پروفیسر خواجہ خورشید نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ “ریڈیالوجسٹ کا کردار اب صرف تصاویر پڑھنے تک محدود نہیں رہا، بلکہ وہ اب ایک مکمل کلینیکل ٹیم کا فعال رکن ہیں، جو آرتھوپیڈک سرجنز، ریمیٹولوجسٹس اور فزیشنز کے ساتھ مل کر مریضوں کی مکمل بحالی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔سیمینار کے آخر میں سوال و جواب کا سیشن ہوا جس میں شرکاء نے ماہرین سے مختلف تشخیصی پہلوؤں پر سوالات کیے۔ سیمینار میں شرکت کرنے والے طلبہ اور ریذیڈنٹس نے اس طرح کے علمی پروگرامز کو مستقبل میں جاری رکھنے کی درخواست کی۔ہ سیشن علمی تبادلہ، تجربات کی شیئرنگ اور باہمی سیکھنے کے ایک شاندار موقع کے طور پر سراہا گیا۔ شرکاء نے اس کاوش کو ریڈیالوجی کمیونٹی کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا۔