
اعلامیہ برائے چیف منسٹر سندھ
جامعہ کراچی میں سیلابی صورتحال، واٹر بورڈ کی مجرمانہ غفلت پر سخت نوٹس لیا جائے۔
جامعہ کراچی کی انجمن اساتذہ شدید تشویش کے ساتھ حکومت سندھ، خاص طور پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی توجہ حالیہ دنوں میں جامعہ کراچی میں پیش آنے والی افسوسناک اور تباہ کن صورتحال کی جانب مبذول کرانا چاہتی ہے۔
واٹر بورڈ کی مجرمانہ غفلت کے باعث نکاسی آب کے ناقص انتظامات کی وجہ سے جامعہ کراچی کا ایک بڑا حصہ زیرِ آب آ چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر مفلوج ہو گئی ہیں۔ رہائشی علاقے، کلاس رومز، تجربہ گاہیں، کیمیکل اسٹورز، اساتذہ کے دفاتر اور دیگر عمارتوں میں پانی داخل ہوچکا ہے، جس سے کروڑوں روپے کا مالی نقصان ہوا ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف بنیادی سہولیات کے فقدان کو ظاہر کرتی ہے بلکہ متعلقہ اداروں، خصوصاً واٹر بورڈ کی غیر ذمہ داری اور ناقص کارکردگی کا واضح ثبوت ہے۔ جامعہ کراچی جو کہ سندھ کی اعلیٰ ترین درسگاہ ہے، اسے اس حالت میں چھوڑ دینا قابلِ افسوس ہے۔
انجمن اساتذہ جامعہ کراچی حکومت سندھ سے درج ذیل فوری اقدامات کا مطالبہ کرتی ہے
1. ریلیف اور بیل آؤٹ پیکج کا اعلان کیا جائے تاکہ تعلیمی و تحقیقی نقصانات کے ساتھ رہائیشیوں کے نقصانات کا بھی ازالہ ہوسکے اور متاثرہ انفرا اسٹرکچر کی جلد از جلد بحالی ممکن بنائی جا سکے۔
2. کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی غفلت کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داران کا تعین کیا جائے، اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ تحقیقات کی رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے۔
ہم امید کرتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ سندھ اس سنگین معاملے پر فوری نوٹس لیتے ہوئے مثبت اور مؤثر اقدامات کریں گے تاکہ جامعہ کراچی کے اساتذہ، طلبہ اور تعلیمی نظام کو درپیش اس بحران کا تدارک ممکن بنایا جا سکے۔
ڈاکٹر معروف بن رؤف
سیکریٹری
انجمن اساتذہ جامعہ کراچی (KUTS)























