سنڈروم کی وجہ سےمریض کو چیزیں پکڑتے وقت ہاتھ کمزور لگتا ہے یا چیزیں ہاتھ سے گرنے لگتی ہیں اور ہاتھوں میں سوئیوں کی چبھن کا احساس ہوتا ہے

لاہور()شعبہ نیورالوجی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے سربراہ معروف نیورالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر احسن نعمان کا کہنا ہے کارپل ٹنل سنڈروم ہاتھ اور کلائی کی نسوں کے دبنے کی ایسی بیماری ہے جس کی وجہ سے درد کلائی سے نکل کر کندھے کی جانب بڑھتی ہے اور بعض کیسز میں اس کی نوعیت شدید ہو جاتی ہے۔کارپل ٹنل سنڈروم کی علامات کی تفصیل بتاتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر احسن نعمان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ سے انگلیاں سن ہونا یا جھنجھناہٹ (Numbness & Tingling)جو
زیادہ تر انگوٹھے، شہادت اور درمیانی انگلی میں ہوتا ہے۔ بعض اوقات چوتھی انگلی تک بھی محسوس ہو سکتا ہے۔ یہ کیفیت خاص طور پر رات کے وقت یا صبح اٹھتے وقت زیادہ ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کلائی سے لے کر بازو، کندھے یا گردن تک درد محسوس ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب کلائی کا استعمال زیادہ کیا جائے۔اس موقع پر پروفیسر احسن نعمان نے بتایا کہ اس سنڈروم کی وجہ سےمریض کو چیزیں پکڑتے وقت ہاتھ کمزور لگتا ہے یا چیزیں ہاتھ سے گرنے لگتی ہیں اور ہاتھوں میں سوئیوں کی چبھن کا احساس ہوتا ہے
ایسا لگتا ہے جیسے انگلیوں میں باریک سوئیاں چبھوئی جا رہی ہوں۔کارپل ٹنل سنڈروم کے علاج پر بات کرتے ہوئے پروفیسر احسن نعمان نے بتایا کہ
وہ سرگرمیاں روکنا جو دباؤ پیدا کرتی ہیں (مثلاً کمپیوٹر پر طویل کام، مسلسل موبائل استعمال)۔ سپلنٹ کا استعمال (Wrist Splint):
کلائی کو سیدھا رکھنے کے لیے خاص قسم کی پٹی یا سپلنٹ پہنائی جاتی ہے، خاص طور پر رات میں اور درد کم کرنے والی دوائیں:
جیسے آئبوپروفین (Ibuprofen) یا نیپروکسن (Naproxen)۔کے ساتھ فزیو تھراپی یعنی کلائی کی حرکت اور خون کے بہاؤ کو بہتر بنانے والی نرم ورزشیں فائدہ مند ہوتی ہیں۔اگر مرض کی شدت ذیادہ ہو سوجن بہت زیادہ ہو تو کارپل ٹنل میں انجیکشن دے سکتے ہیں تاکہ اعصاب پر سے دباؤ کم ہو اور مریض صحت یابی کی جانب بڑھے۔
کارپل ٹنل ریلیز سرجری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پروفیسر احسن نعمان نے بتایا کہ سرجن کارپل ٹنل کی چھت کو کاٹ کر نالی کو کھول دیتا ہے، تاکہ میڈیئن نرو پر دباؤ کم ہو جائے۔ یہ ایک چھوٹا سا آپریشن ہوتا ہے اور اکثر مریض جلد صحت یاب ہو جاتے ہیں۔