
پاکستان فوڈ ایسوسی ایشن کے صدر راشد احمد صدیقی غیر ملکی فوڈ چین پر حملوں کے حوالے سے پاکستانیوں کا ذہن بدلنے کے لیے تیار
اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے دعوی کیا کہ جو کچھ ہو رہا ہے یہ صرف بغض اور عداوت میں ہو رہا ہے یہ کاروباری معاملہ ہے اور اس میں بہت گھٹیا حربہ اختیار کیا گیا ہے یہ احتجاج اور حملے غصے اور نفرت کا نتیجہ نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو پھر کسی ایک غیر ملکی فوڈ چین پر حملہ نہیں ہوتا بلکہ چکن بیچنے والوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی ائس کریم بیچنے
والوں پر اور پیزا بیچنے والوں پر بھی اسی طرح حملے ہوتے لیکن ایسا نہیں ہوا

جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ بزنس کا مقابلہ ہے اور بزنس میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے گھٹیا ہروا اختیار کیا گیا ہے یہ قابل مذمت ہے انہوں نے دعوی کیا کہ وہ اس حوالے سے لوگوں کا ذہن بدلنے کے لیے بات کرتے رہیں گے اور دلیل کے ساتھ اپنی بات لوگوں کے سامنے رکھیں گے لوگوں کو سوچنا چاہیے ایسا کون کرا رہا ہے اور کیوں کرا رہا ہے اور اس میں کس کا فائدہ ہے ۔























