“مشہور ڈراما سیریل ‘گیسٹ ہاؤس’ کے کرداروں کی کہانی – کہاں ہیں اب یہ اداکار؟”

ڈرامہ سیریل ‘گیسٹ ہاؤس’ کے کرداروں کی کہانی | فنکار تازہ ترین کہانی | پی ٹی وی ڈرامہ |
Story of the Characters of Drama Serial ‘Guest House’ | Artist Latest Story | PTV Drama |

“مشہور ڈراما سیریل ‘گیسٹ ہاؤس’ کے کرداروں کی کہانی – کہاں ہیں اب یہ اداکار؟”

پی ٹی وی کے کلاسک ڈرامے “گیسٹ ہاؤس” نے اپنے منفرد اسٹائل اور دلچسپ کہانیوں کے ذریعے ناظرین کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑا۔ اس ڈرامے کے کردار آج بھی لوگوں کو یاد ہیں، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ اداکار اب کہاں ہیں؟ کس کا کیا حال ہے؟ اور کون اس دنیا میں نہیں رہا؟ آئیے، آج ہم آپ کو “گیسٹ ہاؤس” کے مرکزی کرداروں کی موجودہ زندگی کے بارے میں بتاتے ہیں۔

شامی صاحب – گیسٹ ہاؤس کے مالک
ڈرامے میں شامی صاحب کا کردار ادا کرنے والے اداکار شمیم احمد (خالد حفیظ خان) نے اپنی بہترین اداکاری سے شامی صاحب کو یادگار بنا دیا۔ وہ اپنی اہلیہ سرسوتی کے ساتھ ڈرامے کا اہم حصہ تھے۔ شمیم احمد نے بعد میں “مسٹر منسٹر” جیسے ڈراموں میں بھی کام کیا، لیکن انہوں نے صنعت سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ اب وہ اپنے پوتے پوتیوں کے ساتھ خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں اور اپنے گھر میں پھلوں اور سبزیوں کا باغ لگا کر اس کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔

زہرہ – تعلیم یافتہ خاتون کا کردار
زہرہ کا کردار نبھانے والی اداکارہ نے اپنے کیرئیر کا آغاز فلم “سچ جھوٹ” سے کیا تھا۔ بعد میں انہوں نے “دستک” اور “گیسٹ ہاؤس” جیسے ڈراموں میں کام کیا۔ گیسٹ ہاؤس میں ان کا کردار ایک پڑھی لکھی خاتون کا تھا، جسے انہوں نے بہترین طریقے سے پیش کیا۔ تاہم، ڈرامے کے بعد انہوں نے شادی کر لی اور صنعت چھوڑ دی۔ اب تک ناظرین ان کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں کہ وہ کہاں ہیں، لیکن ان کے حالات کے بارے میں واضح معلومات نہیں ملتیں۔

نونیت ویاس – ریسپشنسٹ کا کردار
نونیت ویاس نے گیسٹ ہاؤس میں ریسپشنسٹ کا کردار ادا کیا تھا۔ ان کا اصل نام اقبال تھا اور وہ نہ صرف ایک اچھے اداکار تھے بلکہ مصنف اور ڈائریکٹر بھی تھے۔ انہوں نے 1982 میں پی ٹی وی میں شمولیت اختیار کی اور کئی یادگار کردار ادا کیے، جن میں “لالہ کشوری” بہت مشہور ہوا۔ 1999 میں وہ امریکہ چلے گئے اور وہاں ریڈیو اور ٹی وی پروڈکشن سے وابستہ ہو گئے۔ اب وہ ٹیکساس میں رہائش پذیر ہیں۔

طارق ملک – ویٹر مراد کا کردار
طارق ملک نے ڈرامے میں ویٹر مراد کا کردار نبھایا تھا، جو راولپنڈی سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے ریڈیو اور اسٹیج تھیٹر سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا، لیکن “گیسٹ ہاؤس” کے بعد وہ گمنامی کے اندھیروں میں کھو گئے۔ 11 جون 2020 کو ان کا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو گیا۔ ان کی وفات نے فن کے دنیا کو سوگوار کر دیا۔

افضل خان (رمبو) – گارڈ کا کردار
افضل خان، جو رمبو کے نام سے مشہور ہوئے، نے گیسٹ ہاؤس میں ایک گارڈ کا کردار ادا کیا تھا۔ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، لیکن اپنی محنت اور لگن سے وہ پاکستان کے مشہور ترین کامیڈین اداکار بن گئے۔ انہوں نے تھیٹر، فلم، ٹی وی اور ریڈیو پر بے شمار کام کیا۔ پاکستان کی پہلی اینیمیٹڈ فلم “ڈان” میں بھی ان کی آواز شامل تھی۔ آج بھی ان کے فنی کارنامے یاد کیے جاتے ہیں۔

کیا سرسوتی اب بھی زندہ ہیں؟
ڈرامے کی ایک اہم کردار سرسوتی کے بارے میں معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ انتقال کر چکی ہیں، جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ وہ گوشہ نشین ہو گئی ہیں۔ اگر وہ اس دنیا میں نہیں رہیں، تو اللہ انہیں جنت میں جگہ دے۔

نتیجہ
“گیسٹ ہاؤس” کے بیشتر اداکار اب یا تو اس دنیا میں نہیں رہے یا پھر ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں۔ تاہم، ان کے کردار آج بھی ناظرین کے دلوں میں زندہ ہیں۔ اگر آپ پاکستانی ڈراموں کے کلاسک کرداروں کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں، تو ہماری ویڈیو کے نیچے دیے گئے لنکس کو ضرور چیک کریں۔

ہمیں کمنٹس میں ضرور بتائیں کہ آپ کو “گیسٹ ہاؤس” کا کون سا کردار سب سے زیادہ پسند تھا۔ اگر آپ کو یہ ویڈیو اچھی لگی ہو، تو چینل کو سبسکرائب کرنا نہ بھولیں۔ آپ کی حمایت ہمارے لیے حوصلہ افزائی ہے۔
===========================

“مہمان خانہ” کے مشہور ستارے خالد حفیظ (شمیم احمد) سے خصوصی ملاقات

اسلام آباد: جان رامبو یوٹیوب چینل کے ذریعے، “مہمان خانہ” کے یادگار کرداروں میں سے ایک خالد حفیظ (شمیم احمد) سے ایک خصوصی نشست میں ملاقات ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی، کیرئیر، اور یادگار لمحات کے بارے میں دلچسپ باتیں شیئر کیں۔

مہمان خانہ اور شمیم احمد کا کردار
خالد حفیظ، جنہیںشمیم احمد کے نام سے جانا جاتا ہے، نے بتایا کہ “مہمان خانہ” ایک ڈرامہ تھا جو ختم ہوگیا، لیکن لوگ آج بھی انہیں اسی کردار سے پہچانتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ مہمان خانہ کے بعد کہاں چلے گئے؟ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک ڈرامہ تھا، جو ختم ہوگیا، لیکن لوگوں کی محبت آج بھی برقرار ہے۔”

پی ٹی وی کے سنہری دور کی یادیں
خالد حفیظ نے 1966 میں پی ٹی وی سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا اور کئی مشہور ڈراموں میں کام کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا پہلا ڈرامہ “لیموں کا موسم” تھا، جس میں انہوں نے مرکزی کردار ادا کیا۔ وہ پی ٹی وی کے سینئر ڈائریکٹر شاکر صاحب کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔

فلمی دنیا اور موجودہ زندگی
خالد حفیظ نے فلموں میں کم کام کیا، لیکن ٹی وی ڈراموں میں ان کی پہچان بنی رہی۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں کئی پیشکشیں ملیں، لیکن انہوں نے اپنے خاندان اور گھر کو ترجیح دی۔ اب وہ اپنے پوتے پوتیوں کے ساتھ خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں۔

نئی نسل کے لیے پیغام
خالد حفیظ نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے شعبے میں مستقل رہیں اور ایک ہی میدان میں مہارت حاصل کریں۔ انہوں نے کہا، “میں نے بہت سے شعبوں میں کام کیا، لیکن اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ایک ہی چیز کو بہترین طریقے سے کریں۔”

جان رامبو کا شکریہ
جان رامبو نے خالد حفیظ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقات ناظرین کے بہت سے سوالوں کا جواب تھی۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ مستقبل میں مزید ایسی ملاقاتیں پیش کی جائیں گی۔

مزید دیکھیں: جان رامبو یوٹیوب چینل پر مکمل انٹرویو دیکھیں اور سبسکرائب کریں۔

اللہ حافظ!