
پاکستانی گریجویٹس نوکریوں کی تلاش میں کیوں جدوجہد کرتے ہیں؟ سونیا ارم
Why Pakistani Graduates STRUGGLE to Find Jobs!? Ft Sonia Irum
“پاکستانی گریجویٹس کو ملازمتوں کی تلاش میں کیوں مشکلات کا سامنا ہے؟ سونیا اروم کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو”
تفصیلی کہانی:
پاکستان میں ہر سال ہزاروں طلبہ یونیورسٹیوں سے گریجویشن کرتے ہیں، لیکن ان میں سے بہت کم کو فوری طور پر ملازمت مل پاتی ہے۔ اس مسئلے کی وجوہات اور ممکنہ حل جاننے کے لیے ہم نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی استاد اور ماہر تعلیم ڈاکٹر سونیا اروم سے بات کی، جو طلبہ کی تربیت اور روزگار کے حوالے سے گہری بصیرت رکھتی ہیں۔
زبان اور مواصلاتی صلاحیتیں: سب سے بڑی رکاوٹ
ڈاکٹر سونیا کے مطابق، پاکستانی گریجویٹس کو سب سے بڑا چیلنج انگریزی زبان پر عبور نہ ہونا ہے۔ وہ کہتی ہیں:
“ہمارے طلبہ کو علمی صلاحیت ہوتی ہے، لیکن وہ اپنے خیالات کو مؤثر طریقے سے پیش نہیں کر پاتے۔ بین الاقوامی سطح پر کام کرنے کے لیے انگریزی زبان پر دسترس ناگزیر ہے۔”
ان کا کہنا ہے کہ طلبہ میں اعتماد کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے وہ انٹرویوز یا پیشکش کے دوران اپنی صلاحیتوں کو صحیح طریقے سے نہیں دکھا پاتے۔
تعلیمی نظام اور ہنر میں فرق
پاکستانی تعلیمی نظام اکثر روایتی نظریاتی تعلیم پر زور دیتا ہے، جب کہ موجودہ مارکیٹ میں عملی مہارتوں (جیسے کہ تنقیدی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، اور ٹیکنالوجی کا استعمال) کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر سونیا نے اس بات پر زور دیا کہ:
“ہمیں طلبہ کو صرف ڈگریاں دینے کے بجائے انہیں ہنر مند بنانا ہوگا۔ عالمی سطح پر کام کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور لینگویج سکلز کی تربیت ضروری ہے۔”
بیرونِ ملک مواقع کی تلاش
ڈاکٹر سونیا، جو خود برطانیہ سے پی ایچ ڈی ہیں، کا کہنا ہے کہ پاکستانی نوجوانوں کو بیرونِ ملک تعلیم اور روزگار کے مواقع کو بھی غور سے دیکھنا چاہیے۔ وہ کہتی ہیں:
“بین الاقوامی تجربہ نہ صرف آپ کے علم میں اضافہ کرتا ہے بلکہ آپ کو عالمی معیار کا پیشہ ور بھی بناتا ہے۔ اسکالرشپس اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنا اب پہلے سے زیادہ آسان ہے۔”
حل کی طرف قدم
انگریزی زبان کی تربیت: یونیورسٹیوں کو طلبہ کے لیے لینگویج کورسز لازمی بنانے چاہئیں۔
ہنر کی ترقی: طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی، ڈیٹا اینالیسس، اور کمیونیکیشن سکلز کی تربیت دی جانی چاہیے۔
بین الاقوامی رابطے: پاکستانی یونیورسٹیوں کو عالمی اداروں کے ساتھ شراکت داری بڑھانی چاہیے تاکہ طلبہ کو بیرونِ ملک مواقع میسر آسکیں۔
آخری بات
ڈاکٹر سونیا کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان میں بہتری کے لیے طویل عرصہ درکار ہوگا، لیکن نوجوان اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنا کر اس صورتحال کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ ان کا پیغام واضح ہے:
“اپنی تعلیم اور ہنر پر توجہ دیں، اعتماد پیدا کریں، اور عالمی سطح پر اپنا مقام بنائیں۔”
اس گفتگو کی مکمل ویڈیو یوٹیوب پر دیکھیں:
Why Pakistani Graduates Struggle to Find Jobs? Ft. Sonia Irum | TBT 431
کیا آپ کو لگتا ہے کہ پاکستانی گریجویٹس کو ملازمتوں کے لیے کون سی مہارتیں سیکھنی چاہئیں؟ اپنی رائے کمنٹس میں شیئر کریں!























