سلطان راہی کا قتل: 27 سال بعد بھی انصاف کا انتظار

سلطان راہی کا قتل: 27 سال بعد بھی انصاف کا انتظار

گوجرانوالہ شہر کی وہ پراسرار جگہ جہاں 1996 میں پاکستانی فلموں کے عظیم ہیرو سلطان راہی کو رات کے اندھیرے میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، آج بھی ایک بھیانک راز بنی ہوئی ہے۔ راولپنڈی سے لاہور جانے والی اس سڑک پر کھڑے اس درخت کے نیچے جہاں سلطان راہی کا خون بہا، آج بھی ان کے مداح ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں اور انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مگر 27 سال گزرنے کے بعد بھی یہ معمہ حل نہیں ہو سکا۔

وہ رات جو تاریخ کا حصہ بن گئی
9 جنوری 1996 کی رات، سلطان راہی گاڑی میں سفر کر رہے تھے کہ اچانک نامعلوم حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کر دی۔ گولیوں کی آواز سن کر مقامی لوگ دوڑے، مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔ فلمی دنیا کا یہ عظیم اداکار موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت ان کے ساتھ موجود ڈرائیور بھی زخمی ہوا، مگر وہ بھی اس واقعے کی کوئی واضح تفصیل نہ دے سکا۔

پولیس کے لیے ایک حل نہ ہونے والا معمہ
تفتیش کاروں نے کئی نظریات دیے:

کیا یہ ڈاکوؤں کا حملہ تھا؟

کیا کسی ذاتی دشمنی کا نتیجہ تھا؟

یا پھر کسی سازش کا حصہ؟

مگر کوئی ٹھوس ثبوت نہ مل سکا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سلطان راہی کے قتل کے پیچھے فلمی صنعت کے اندرونی اختلافات تھے، جبکہ کچھ کا ماننا ہے کہ یہ محض لوٹ مار کا واقعہ تھا۔ مگر حقیقت کیا ہے؟ آج تک کوئی نہیں جانتا۔

مداحوں کا دکھ: “ہمارا ہیرو بے گناہ مارا گیا!”
سلطان راہی کے لاکھوں چاہنے والے آج بھی اس جگہ پر پھول چڑھاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے:
“ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر ان کو کس نے مارا؟ کیوں مارا؟ کیا کبھی انصاف ملے گا؟”

مگر پولیس فائلز میں یہ کیس آج بھی “غیر حل شدہ” پڑا ہے۔

وہ درخت جو گواہ ہے مگر خاموش ہے
جس درخت کے نیچے سلطان راہی کا خون بہا، وہ آج بھی کھڑا ہے۔ مقامی لوگ کہتے ہیں کہ یہ جگہ “بدقسمتی کی علامت” بن چکی ہے۔ کئی لوگوں نے تو اس درخت کو کاٹنے کی بھی کوشش کی، مگر کوئی نہ کاٹ سکا۔ کیا یہ محض ایک توہم ہے؟ یا پھر سلطان راہی کی روح آج بھی انصاف مانگ رہی ہے؟

کب تک رہے گا یہ راز؟
27 سال گزر چکے ہیں، مگر سچ ابھی تک زمین کے اندر دبے ہوئے خون کی طرح سرخ اور تازہ ہے۔ کیا کبھی سلطان راہی کے قاتل سامنے آئیں گے؟ یا پھر یہ معمہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائے گا؟

“انصاف کی راہ دیکھتے دیکھتے ایک پوری نسل گزر گئی… مگر سلطان راہی کو انصاف نہ مل سکا۔” 😔🎬