
کراچی کے خالی اسٹیڈیمز: غیر ملکی کھلاڑیوں کی مایوسی، شائقین کی عدم دلچسپی پر سوالات
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2025 کے دوران کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں شائقین کی کم حاضری نے نہ صرف مقامی کرکٹ پرستاروں بلکہ غیر ملکی کھلاڑیوں کو بھی حیران اور مایوس کر دیا ہے۔ نیوزی لینڈ کے نامور وکٹ کیپر بلے باز ٹم سائفرٹ نے کھلے انداز میں اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “کراچی جیسے بڑے شہر میں اسٹیڈیمز خالی دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔”

سائفرٹ نے جیو نیوز سے بات چیت میں کہا، “ہم چاہتے ہیں کہ ہوم میچز میں شائقین اس طرح سپورٹ کریں کہ مخالف ٹیم خود کو گھرے ہوئے محسوس کرے۔ پی ایس ایل کا معیار بہترین ہے، لیکن کراچی میں کراؤڈ کی کمی محسوس ہوتی ہے۔” ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب کراچی کنگز کے متعدد میچز میں اسٹیڈیم کی سیٹیں خالی نظر آئیں، حالانکہ یہ شہر پاکستان کا سب سے بڑا اور کرکٹ کے پرجوش مداحوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
شائقین کا اعتماد کھو چکا؟
سوال یہ ہے کہ “کراچی کے لوگوں نے پی ایس ایل 2025 کو مکمل طور پر مسترد کیوں کر دیا ہے؟” کیا وہ ٹورنامنٹ کے معیار سے مایوس ہیں؟ کیا پی سی بی کی انتظامیہ اور پی ایس ایل کے منتظمین کے پاس اس کا کوئی جواب ہے؟ شہر کے لاکھوں کرکٹ پرستاروں نے اسٹیڈیم کا رخ کیوں نہیں کیا؟ کیا وہ ٹکٹوں کی قیمتوں، سیکیورٹی کے مسائل یا میچز کے شیڈول سے ناخوش ہیں؟

پی سی بی پر تنقید: کیا وہ صورتحال کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں؟
حیرت کی بات یہ ہے کہ پی سی بی اور پی ایس ایل کی انتظامیہ نے اب تک اس مسئلے پر کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا۔ کیا وہ شائقین کی عدم دلچسپی کو نظرانداز کر رہے ہیں؟ کیا انہیں یہ سمجھ نہیں آرہا کہ “بغیر تماشائیوں کے کرکٹ کا کوئی مزہ نہیں؟” ٹم سائفرٹ جیسے کھلاڑیوں کی آواز کو کیوں نظرانداز کیا جا رہا ہے؟

کراچی کے شائقین کا پیغام: ہمیں کچھ بدلاؤ چاہیے!
یہ واضح ہے کہ کراچی کے کرکٹ مداحوں نے پی ایس ایل 2025 کو اپنی غیرحاضری سے ایک واضح پیغام دیا ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ “ہمیں صرف میچز دکھا کر مطمئن نہ کیا جائے۔” کیا ٹکٹوں کی قیمتیں کم کرنے، بہتر انتظامات، یا مقامی کھلاڑیوں کی زیادہ شمولیت سے صورتحال بہتر ہو سکتی ہے؟ کیا شہر کے اندر ٹرانسپورٹ اور سیکیورٹی کے مسائل نے لوگوں کو روکا ہے؟


آخر کون ذمہ دار ہے؟
سوالات کے جوابات دینے کی ضرورت ہے۔ کیا پی سی بی کراچی کے شائقین کی بے اعتمادی کو دور کرنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات کرے گی؟ کیا پی ایس ایل کے منتظمین شہر کے جذبات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے؟ یا پھر کراچی کے اسٹیڈیمز اسی طرح خالی رہیں گے؟
“کرکٹ بغیر تماشائیوں کے صرف ایک کھیل رہ جاتا ہے۔”
اب دیکھنا یہ ہے کہ کون کراچی کے دل ٹوٹے ہوئے کرکٹ مداحوں کے اعتماد کو واپس لے کر آتا ہے۔























