افغانستان کی پولیو کے خاتمے میں پاکستان سے بہتر کارکردگی، وفاقی وزیر صحت کا اعتراف

افغانستان کی پولیو کے خاتمے میں پاکستان سے بہتر کارکردگی، وفاقی وزیر صحت کا اعتراف

وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ “افغانستان پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستان سے بہتر کوششیں کر رہا ہے”، جبکہ پاکستان میں صحت کے شعبے میں تحقیق تو ہو رہی ہے، لیکن “عملی اقدامات ناکافی ہیں”۔

انہوں نے کراچی میں ایک نجی فارماسوٹیکل کمپنی کے ہیلتھ ریسرچ ایڈوائزری بورڈ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “پولیو ویکسین میں کسی قسم کی ملاوٹ نہیں ہے”، لیکن اس کے باوجود ملک میں پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ کیئر سسٹم کی شدید کمی ہے۔

وزیر صحت نے مزید بتایا کہ “ہر شہری کا قومی شناختی کارڈ نمبر جلد ہی اس کا میڈیکل ریکارڈ نمبر بن جائے گا”، تاکہ صحت کے شعبے میں بہتر ڈیٹا مینجمنٹ ممکن ہو سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ “وزارت صحت ایک نازک شعبہ ہے، جہاں کسی غلطی کی گنجائش نہیں”۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اس وقت کیا جب پاکستان اب بھی پولیو کے خاتمے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، جبکہ افغانستان میں اس سلسلے میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے۔