پی ایس ایل پر کراچی کے عوام کا عدم اعتماد، پرکشش انعامات کی اسکیمیں بھی ناکام

پی ایس ایل پر کراچی کے عوام کا عدم اعتماد، پرکشش انعامات کی اسکیمیں بھی ناکام

کراچی: پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے موجودہ سیزن میں کراچی کے عوام کی عدم دلچسپی انتظامیہ اور سپانسرز کے لیے لمحہ فکریہ بنی ہوئی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے میچز کے دوران خوبصورت ڈریسنگ، پراعتماد انداز، شاندار بھنگڑا ڈالنے، ڈانس کرنے یا منفرد نظر آنے والوں کے لیے پرکشش انعامات کا اعلان کیا گیا، لیکن یہ حربہ بھی کامیاب نہ ہو سکا۔ تین کروڑ سے زائد آبادی والے شہر قائد کے لوگوں نے اسٹیڈیم کا رخ نہ کر کے ٹورنامنٹ اور انتظامیہ کے اقدامات پر مکمل عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

سابق کھلاڑیوں اور میڈیا میں تنقید
سابق کھلاڑیوں نے بھی کراچی کے عوام کی اسٹیڈیم سے دوری پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وہ ایک دوسرے سے سوال کر رہے ہیں کہ آخر ایسا کیا ہو گیا ہے کہ لوگوں کا کرکٹ سے اتنا بڑا اعتماد اُٹھ گیا؟ میڈیا میں بھی اس معاملے پر زوردار بحث جاری ہے، جہاں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور پی ایس ایل انتظامیہ کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ کی بے بسی واضح ہے، کیونکہ کسی کے پاس اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں کہ آخر کراچی کے لوگ اسٹیڈیم کیوں نہیں آ رہے۔

انعامی اسکیموں کے باوجود ناکامی
پی ایس ایل انتظامیہ اور سپانسرز نے عوام کو اسٹیڈیم کھینچنے کے لیے بڑے بڑے انعامات اور مقابلے شروع کیے، لیکن کراچی کے لوگ ان لالچوں میں بھی نہیں آئے۔ کراچی نیشنل اسٹیڈیم کے قریب رہنے والے افراد بھی میچز دیکھنے نہیں پہنچے، جبکہ کرکٹ کے دلدادہ بھی اسٹیڈیم بھرنے کے لیے تیار نہیں دکھائی دیے۔ شہر کی ٹریفک اور دیگر مسائل نے بھی لوگوں کو میچز سے دور کر دیا ہے۔ کئی شہریوں کا کہنا ہے کہ جب گھروں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے تو اسٹیڈیم میں رات کے میچز منعقد کرنا عوامی غصے کو بڑھاوا دے رہا ہے۔

کراچی کے عوام کے غم و غصے کی وجوہات
ماہرین کے مطابق، کراچی کے عوام کا پی ایس ایل سے دور ہونے کی کئی وجوہات ہیں۔ شہر میں سیکیورٹی کے مسائل، ٹریفک جام، بجلی کے بحران اور مہنگائی نے لوگوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ ایسے میں کرکٹ میچز دیکھنے کے لیے اسٹیڈیم جانا ان کی ترجیح نہیں رہا۔ علاوہ ازیں، کچھ شہریوں کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل میں کراچی کنگز کی مسلسل ناکامی نے بھی ان کا جوش ختم کر دیا ہے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ کراچی کے عوام کے مسائل کو سمجھے اور ان کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

انتظامیہ کی بے بسی اور مستقبل کے خدشات
پی سی بی اور پی ایس ایل انتظامیہ اس صورتحال پر قابو پانے میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔ اگرچہ لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں میچز کے دوران اسٹیڈیمز کھچا کھچ بھرے ہوئے ہیں، لیکن کراچی کی خالی گیلریاں ٹورنامنٹ کی کامیابی پر سوالیہ نشان ہیں۔ اگر یہی صورتحال رہی تو مستقبل میں پی ایس ایل کے کراچی میں میچز منعقد کرنے پر بھی سوال اٹھ سکتے ہیں۔