پاکستان کو پیٹرول کی راشننگ کرنی چاہیے فی گاڑی 150 لیٹر سے زیادہ نہیں دینا چاہیے

اقتصادی اور معاشی شعبے کے حوالے سے پاکستان کے سب سے ذہین اور قابل دماغوں میں سے ایک محترم قیصر بنگالی سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو پیٹرول کی راشننگ کرنی چاہیے فی گاڑی150 لیٹر سے زیادہ نہیں دینا چاہیے سری لنکا نے بھی پیٹرول کی راشننگ کر رکھی ہے پاکستان بھر کی سڑکوں پر نئی گاڑیاں دوڑتی ہوئی نظر اتی ہیں اور سارا پٹرول قرضوں سے اتا ہے اس کی کیا ضرورت ہے قرضوں پر پیٹرول لے کر نئی گاڑیاں سڑکوں پر دوڑانے کا کیا فائدہ ؟
ان کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ یقینی طور پر بہت اہمیت کی حامل بندرگاہ ہے لیکن کیا اپ نے سوچا ہے کہ اس میں پاکستان کا حصہ کیا ہے ؟ اس حوالے سے ان کا دعوی ہے کہ گوادر پورٹ میں پاکستان کا حصہ صرف نو فیصد ہے 91 فیصد امدنی چین کو ملے گی ۔
زمینوں پر زرعی ٹیکس لینے کے حوالے سے کافی شور ہوتا ہے اس حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں زیادہ بڑے امیر لوگ نہیں ہیں دکھاوا زیادہ ہے ایک ہزار سے زیادہ بڑے زمیندار نہیں ملیں گے تو پھر ان ایک ہزار لوگوں سے اپ کتنا ٹیکس وصول کر لیں گے اتنا ٹیکس جمع نہیں ہو سکے گا جتنی توقع کی جاتی ہے بہتر ہوگا کہ باہر سے خریدی جانے والی گاڑیوں کی امپورٹ بند کر دیں ۔انہوں نے زور دیکھ کر یہ بات کہی کہ پاکستان کی معیشت کا صرف ایک حل ہے اخراجات میں کمی ۔پاکستان میں ہم لوگ قرضوں پر علی شان زندگی گزارنا چاہتے ہیں یہ کسی طور بھی درست نہیں ہے پاکستان میں مینوفیکچرنگ سیکٹر کو پرموٹ کرنا ہوگا جی ایس ٹی کم کریں انڈیا 1991 کے بعد ایک مرتبہ بھی ائی ایم ایف کے پاس نہیں گیا ہم بھی ایسا کر سکتے ہیں ہم 24 مرتبہ پروگرام چھوڑ کر چلے گئے صرف ایک مرتبہ مکمل کیا ہے ہمارے پاس وسائل کی دولت زیادہ ہے انڈیا میں غربت زیادہ ہےسٹاک مارکیٹ کے حوالے سے قیصر بنگالی کا کہنا ہے کہ سٹاک مارکیٹ تو کیسینو بنی ہوئی ہے سٹا ہو رہا ہے دنیا کیپیٹل کو موبیلائز کرتی ہے لیکن پاکستان کا سٹاک صرف سٹے بازی کرتا ہے پراپر ٹی مارکیٹ میں بھی یہی ہوتا ہے جس ملک میں لوگوں کے پاس رہنے کے لیے ایک کمرے کا مکان نہیں وہاں پر ٹی وی پر اتنے بڑے بڑے پراپرٹی کے اشتہار دکھائے جاتے ہیں جن میں سویمنگ پول جھیلیں فوارے لگزری ہاؤسنگ دکھائی جاتی ہیں اس کی کیا ضرورت ہے یہ سب دیکھ کر شرمندگی ہوتی ہے اور دوسروں کا کوئی احساس نہیں کرتے معیشت کیسے ترقی کرے گی اس حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس کے پیڈل سے پیر ہٹا دینا چاہیے 10 سال تک بزنس کو ٹیکس استثنی دے دیں ائی ایم ایف کو مضبوط اور ٹھوس دلائل کے ذریعے منایا جا سکتا ہے ائی ایم ایف والے خونخوار نہیں ہیں وہ ہمدردی کرنے اتے ہیں اگر اپ ان کو اچھا پلان دیں گے تو وہ مان لیتے ہیں اگلے 20 سال میں پاکستان کہاں ہوگا اس حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہی رہا تو ورلڈ میپ پر پتہ نہیں ہوں گے یا نہیں لیکن وسائل کے لحاظ سے ہم امیر ملک ہیں غربت سے بے روزگاری سے باہر نکل سکتے ہیں دوسرے ملکوں نے بھی قرض لے کر خود کو پیروں پر کھڑا کیا ہے ہم بھی پیروں پر کھڑے ہو سکتے ہیں جس طرح یو ایس ایڈ پوری دنیا میں بنی اسی طرح ہم ترقی کر کے پاکستان ایڈ بنا سکتے ہیں دنیا کی مدد کر سکتے ہیں خاص طور پر بھارت میں 24 کروڑ لوگ سڑکوں پر رہتے ہیں ہم ان کی مدد کر سکتے ہیں

=====================

قیصر بنگالی ایک معیشت دان ہیں جن کے پاس پاکستان اور بیرون ملک تدریس، تحقیق اور پالیسی مشاورت کے 40 سال سے زائد کا تجربہ ہے۔ انہوں نے معاشیات میں ماسٹرز بوسٹن یونیورسٹی، امریکہ سے اور پی ایچ ڈی کراچی یونیورسٹی، پاکستان سے حاصل کی۔ انہوں نے پاکستان کے معتبر اداروں جیسے اپلائیڈ اکنامکس ریسرچ سینٹر (AERC)، کراچی یونیورسٹی، سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (SDPI)، اسلام آباد، شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (SZABIST) میں تدریس اور تحقیق کی ہے اور سوشل پالیسی اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر (SPDC)، کراچی کے مینیجنگ ڈائریکٹر بھی رہے۔

ان کے تحقیقی شعبوں میں منصوبہ بندی اور ترقی، میکرو اکنامک اور مالیاتی پالیسیاں خاص طور پر انفرادی اور علاقائی عدم مساوات، غربت، بے روزگاری، سماجی انصاف، شہری اور علاقائی منصوبہ بندی، ڈی سینٹرلائزیشن اور مقامی حکومت اور مالیات، تعلیم، اور نسلی، فرقہ وارانہ اور مذہبی شدت پسندی اور تشدد شامل ہیں۔ ان کے مہارت اور تجربے کے شعبوں میں منصوبہ بندی اور ترقی کا سیاسی انتظام، اداروں، عملے اور مالیات کا انتظام شامل ہے۔ انہوں نے متعدد سرکاری عہدوں پر بھی خدمات انجام دی ہیں۔ حال ہی میں وہ چیف منسٹرز پالیسی ریفارم یونٹ، حکومت بلوچستان کے سربراہ رہے۔ اس سے قبل وہ سندھ کے وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے منصوبہ بندی و ترقی بھی رہے۔ وہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے پہلے سربراہ بھی تھے اور انہوں نے اس پروگرام کو ڈیزائن کیا۔ وہ ساتویں نیشنل فنانس کمیشن میں سندھ کے نمائندہ بھی تھے جس نے کامیاب ایوارڈ دیا۔ اب انہیں آٹھویں این ایف سی میں بلوچستان کی نمائندگی کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

ان کی 50 سے زائد تحقیقی تصانیف قومی اور بین الاقوامی جرائد اور کانفرنسوں میں شائع ہو چکی ہیں اور وہ 8 کتابوں کے مصنف یا ایڈیٹر ہیں جن کے موضوعات بے روزگاری، عدم مساوات اور غربت سے لے کر تعلیم، پانی، صنفی مسائل اور علاقائی ترقی تک پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ اخبارات میں معاشی اور سیاسی مسائل پر باقاعدگی سے مضامین لکھتے ہیں اور الیکٹرانک میڈیا پر بھی نظر آتے ہیں۔ انہوں نے 2019 میں بورڈ میں شمولیت اختیار کی۔

وہ انگرو پاورجن قادرپور لمیٹڈ، سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن برگد (این جی او)، پیپلز پارٹی سپورٹ فنڈ (سندھ گورنمنٹ) اور عمر اسغار خان فاؤنڈیشن (این جی او) کے بورڈز پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔