
سرکاری سنسر بورڈ کی بجائے ٹی وی چینلز کی خودمختاری، ان ہاؤس کمیٹی مواد کی نگرانی کرے گی
اسلام آباد: ٹی وی چینلز پر ڈراموں اور اشتہارات کے مواد کی جانچ پڑتال کے لیے سرکاری سنسر بورڈ بنانے کی تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ اب نجی چینلز اپنی ان ہاؤس کمیٹی تشکیل دیں گے، جس میں پی بی اے، پروڈیوسرز اور اشتہاری کمپنیوں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی چینلز پر نشر ہونے والے ڈراموں اور اشتہارات کا جائزہ لے گی تاکہ معیار اور اخلاقی اقدار کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ فیصلہ منگل کو اطلاعات و نشریات پارلیمانی کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جو پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ ذیلی کمیٹی کا مقصد قابل اعتراض مواد کی نشرکاری کو روکنا تھا۔ اجلاس کی صدارت مہتاب اکبر راشدی نے کی، جبکہ شرمیلا فاروقی، محمد مقدار علی خان اور کرن عمران ڈار بھی اس میں شامل تھیں۔
کمیٹی کے سامنے ابتدائی تجویز پیش کی گئی تھی کہ نجی ٹی وی چینلز کے ڈراموں اور اشتہارات کے لیے ایک سرکاری سنسر بورڈ قائم کیا جائے، جو حکومتی نگرانی میں کام کرے۔ تاہم، طویل بحث و مباحثے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری سنسرشپ کے بجائے چینلز اپنا خودمختار نظامِ نگرانی تشکیل دیں گے۔ اس اقدام سے میڈیا کو معیاری مواد کی تیاری میں زیادہ لچک ملے گی، جبکہ ذمہ داری بھی برقرار رہے گی۔
یہ قدم میڈیا کی آزادی کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے، جس سے صنعت کے اندر خود احتسابی کو فروغ ملے گا۔























