سرسید یونیورسٹی، انٹرپرینورشپ یوتھ امپاورمنٹ کے موضوع پر پینل ڈسکشن

سرسید یونیورسٹی، انٹرپرینورشپ یوتھ امپاورمنٹ کے موضوع پر پینل ڈسکشن

انٹرپرینور شپ کو فروغ دینے میں جامعات کا کردار مرکزی اہمیت کا حامل ہے،چانسلر اکبر علی خان

کراچی( نعیم اختر)سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے زیرِ اہتمام سندھ کے نوجوانوں کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے انٹرپرینورشپ اپنانے کے موضوع پر ایک سیمینار اور پینل ڈسکشن کا انعقاد کیا گیا۔۔ تقریب کے شرکاء میں سرسید یونیورسٹی کے چانسلر محمد اکبر علی خان، رجسٹرار کموڈور (ر) سید سرفراز علی، فلپائن کے قونصل جنرل ڈاکٹر عمران یوسف، ڈپٹی ڈائریکٹر یوتھ افیئر برائے حکومت سندھ، جناب حبیب اللہ، کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے میری ٹائم افیئرز کے ایڈوائزر عتیق الرحمان، پروفیشنلز نیٹ ورک کے سی ای او جناب محمود ترین، شہلا انڈسٹریز کے شاہ رخ احمد اورشعبہ کمپیوٹر سائنس کے چیئرمین کاشف شیخ سمیت فیکلٹی ممبرز اور طلباء کی ایک کثیر تعداد شامل تھی۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سرسید یونیورسٹی کے چانسلر محمد اکبر علی خان نے کہا کہ انٹرپرینور شپ کو فروغ دینے میں جامعات کا کردار مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات ممحض سیکھنے کے مراکز نہیں ہیں بلکہ نئے آئیڈیاز اور کاروبارکے لیے انکوبیٹر کا کام بھی کرتی ہیں۔ نظریاتی علم فراہم کرنے کے علاوہ، یونیورسٹیاں ورکشاپس، سیمینارز اور پروجیکٹس کی تیارے کے ذریعے عملی مہارتوں کو فروغ دینے کے لیے بھی سہولت فراہم کرتی ہیں۔ سرسید یونیورسٹی نے طلباء، فیکلٹی، سابق طلباء، اورمختلف صنعتو ں سے تعلق رکھنے والے ماہرین کی ایک فعال و متحرک کمیونٹی کی تشکیل کی ہے جن سے اچھے روابط، رہنمائی اور تعاون کا ایک ایسا ماحول پیدا ہوا ہوگا جو کامیاب کاروباری کوششوں کا باعث بن سکتا ہے۔
چانسلر اکبر علی خان نے کہا کہ انجینئر محمد ذاکر علی خان پچاس سال تک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے اعزازی جنرل سکریٹری رہے اور وہ نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے پرجوش حامی تھے۔ ان کا خیال تھا کہ نوجوان افراد معاشرے اور عالمی سطح پر موثر تبدیلی لانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، اور ہم ان کی میراث کو لے کر چل رہے ہیں۔
فلپائن کے اعزازی قونصل جنرل ڈاکٹر عمران یوسف نے کہا کہ کاروبار میں منافع دیکھا جاتا ہے جبکہ انٹرپرینورشپ میں کسٹمرز پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔ہمیں نام سے نہیں کام سے پہنچانا جانا چاہئے۔بیج میں پورا درخت ہوتا ہے مگر بیج سے پھل آنے تک ایک طویل عرصہ لگتا ہے۔اصل لیڈر شپ کا مطلب ہے دوسروں کی زندگی کو بہتر بنانا۔اگر آپ اپنی مصنوعات کی ضمانت نہیں دے سکتے تو اس کا معیار مشکوک ہوجاتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ کم پڑھے لکھے لوگوں کی نوکری کرتے ہیں۔
کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے میری ٹائم افیئرز کے ایڈوائزر عتیق الرحمان نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ سب سے پہلے ناکامی کے خوف پر قابو پانے کی کوشش کرو۔ عملی تجربہ حاصل کرنے کے لیے انٹرن شپ ضروری ہے۔اعتماد کے بغیر کسی کام میں بھی کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔ بحری شعبے میں انجینئرز کی ضرورت ہے۔میری ٹائم کی100 ملین ڈالر کی اکانومی ہے۔ہم دنیا کی سب بڑی ساحلی پٹی رکھتے ہیں۔
پروفیشنلز نیٹ ورک کے سی ای او، محمود ترین نے اعتراف کیا کہ پاکستان میں ملازمت کے مواقع محدود ہیں، نئی صنعتیں نہیں لگ رہی ہیں اور موجودہ صنعتوں میں مزید ملازمتوں کی گنجائش نہیں رہی ہے۔ انٹرپرینیورشپ کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے۔
شہلا انڈسٹریز کے شاہ رخ نے کہا کہ کاروبار کے لیے اعتماد اور اسمارٹ ورکنگ ضروری ہے۔فری لانسنگ ورک کی کامیابی کے لیے مخصوص مہارتوں کے حصول کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے انکیوبیشن سینٹرز اور نیٹ ورکنگ کو وسعت دینے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
سید حبیب اللہ نے کہا کہ مسائل اور مواقع ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، انہوں نے نوجوانوں کو مصروف رکھنے پر زور دیا۔
شعبہ کمپیوٹر سائنس کے چیئرمین ڈاکٹر کاشف شیخ نے کہا کہ ہمیں سوچنا سیکھنا چاہئے۔اگر آپ کے پاس ہنر اور علم ہے تو سرمایہ کار خود ہی آپ کے کاروبار میں سرمایہ کاری کریں گے۔ مسائل کو حل کرنے کی ذہنیت کو فروغ دینا بہت ضروری ہے۔

کیپشن
سرسید یونیورسٹی کے چانسلر محمد اکبر علی خان، ڈاکٹر عمران یوسف کو سوونیئر پیش کررہے ہیں۔رجسٹرار سید سرفراز علی اور حبیب اللہ بھی اس موقع پر موجود ہیں۔