سندھ حکومت نے وائس چانسلرز کی تقرری کے لیے تلاش کمیٹی میں اچانک تبدیلیاں کردیں

سندھ حکومت نے وائس چانسلرز کی تقرری کے لیے تلاش کمیٹی میں اچانک تبدیلیاں کردیں

کراچی (سید محمد عسکری) سندھ حکومت نے صوبے کی جنرل، میڈیکل، انجینئرنگ، زراعت، فنانس اور لاء کی جامعات میں وائس چانسلرز کی تقرری کے لیے قائم کردہ تلاش کمیٹی کے اراکین میں اچانک تبدیلی کرتے ہوئے نئے افراد کو نامزد کردیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں لیا گیا ہے جب جامعہ این ای ڈی، ڈاؤ یونیورسٹی، سندھ یونیورسٹی، ٹنڈو جامعہ زرعی یونیورسٹی، حیدرآباد یونیورسٹی اور سکھر یونیورسٹی میں وائس چانسلرز کے عہدوں کے لیے اشتہارات جاری کیے جا چکے ہیں۔

تلاش کمیٹی میں نمایاں نام شامل
اس مرتبہ پہلی بار حاضر سروس وائس چانسلرز اور سابق پرووائس چانسلرز کو بھی میڈیکل یونیورسٹی کی تلاش کمیٹی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ ڈاؤ یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سعید قریشی اور سابق پرووائس چانسلر پروفیسر کرتار دیوانی کو کمیٹی کا رکن نامزد کیا گیا ہے۔

انجینئرنگ یونیورسٹی کے لیے این ای ڈی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر سروش حشمت لودھی اور مہران یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قدیر راجپوت کو شامل کیا گیا ہے۔

فنانس اور قانون کی جامعات کے لیے ماہرین
فنانس یونیورسٹیوں کے لیے آئی بی اے کے موجودہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر اکبر زیدی اور ڈاکٹر عطرت رضوی کو کمیٹی کا رکن بنایا گیا ہے۔ جبکہ قانون کی جامعات کے لیے سابق جسٹس ضیا پرویز اور جسٹس ندیم اختر کو نامزد کیا گیا ہے۔

جنرل یونیورسٹیز کے لیے تجربہ کار اراکین
جنرل یونیورسٹیز کے لیے غیر پی ایچ ڈی ریٹائرڈ بیوروکریٹ سہیل اکبر شاہ اور جامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر پیرزادہ قاسم کو تلاش کمیٹی کا رکن مقرر کیا گیا ہے۔

تبدیلیوں پر سوالات
حکومتی اقدام پر تعلیمی حلقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا یہ تبدیلیاں شفافیت کے ساتھ وائس چانسلرز کی تقرری کو یقینی بنائیں گی یا پھر سیاسی اثرات کے تحت کی گئی ہیں۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ کمیٹی کے اراکین کا انتخاب میرٹ اور تجربے کی بنیاد پر ہونا چاہیے تاکہ جامعات کو بہترین قیادت مل سکے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ نئی تلاش کمیٹی صوبے کی اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لیے قابل اور غیر جانبدار رہنماؤں کی تقرری کر پائے گی یا نہیں۔

خبرنامہ نمبر 2025/2534
کوئٹہ 16 اپریل: ـڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کوئٹہ کی جانب سے SBK کے تحت منتخب ہونے والے تدریسی عملے کو تقرری کے احکامات جمع کرنے کے لیے شیڈول جاری کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدامات سیکرٹری سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ حکومت بلوچستان کی منظوری اور ڈی آر سی کی سفارشات کی روشنی میں 14 اپریل 2025 کو جاری کردہ آرڈرز کے مطابق کیے گئے ہیں۔اعلان کے مطابق تمام امیدواروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ تاریخوں میں دفتر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کوئٹہ میں ذاتی طور پر حاضر ہوں اور اپنے اصل تعلیمی و پیشہ ورانہ اسناد، لوکل یا ڈومیسائل سرٹیفکیٹ، قومی شناختی کارڈ اور دیگر متعلقہ دستاویزات ہمراہ لائیں۔ ہر دستاویز کی تصدیق شدہ نقول کے ساتھ ساتھ دستاویزات کی تصدیق کے لیے مقررہ فیس بھی جمع کرانا ضروری ہوگا۔شیڈول کے مطابق 16 اپریل کو EST اور JET کی خواتین امیدوار شام 4 سے شام 6 بجے تک حاضر ہوں گی۔ 17 اپریل کو JET (Tech)، PET، MQ اور JVT کی خواتین و مرد امیدواروں کو صبح 9 بجے سے دوپہر 2 بجے تک حاضری کی ہدایت کی گئی ہے۔ 18 اپریل کو EST، JET، JET (Tech)، PET، JDM اور MQ کے مرد امیدواروں کو حاضری دینا ہوگی جبکہ 19 اپریل کو JVT کے مرد امیدواروں کے لیے وقت مقرر کیا گیا ہے۔مزید برآں، تمام امیدواروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ روپے 100 کے اسٹامپ پیپر پر ایک ضمانتی حلف نامہ بھی جمع کروائیں جس میں اس بات کی یقین دہانی ہو کہ وہ کسی بھی سیاسی، مجرمانہ یا ریاست مخالف سرگرمی میں ملوث نہیں ہوں گے، ان کی تمام جمع کرائی گئی دستاویزات اصلی اور درست ہیں، تقرری کے بعد وہ تبادلے کے لیے درخواست نہیں دیں گے اور نہ ہی کسی دوہری ملازمت میں شامل ہوں گے۔ اگر کسی بھی موقع پر کسی جعلسازی یا دھوکہ دہی کا انکشاف ہوا تو محکمہ ان کی تقرری کو منسوخ کرنے اور قانونی کارروائی کرنے کا مکمل اختیار رکھتا ہے۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کوئٹہ نے تمام امیدواروں سے اپیل کی ہے کہ وہ مقررہ تاریخوں میں وقت کی پابندی کے ساتھ دفتر میں حاضر ہو کر اپنی تقرری کے عمل کو مکمل کریں۔

=====================

پی ایس کیو سی سربراہ تعیناتی کی منظوری کیلئے پینل وزیراعظم کو ارسال
15 اپریل ، 2025FacebookTwitterWhatsapp
اسلام آباد (ساجد چوہدری )وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے ڈائریکٹر جنرل پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے )کے سربراہ ڈائریکٹر جنرل (ایم پی ون سکیل) کی پوسٹ پر تعیناتی کی منظوری کیلئے تین امیداروں ڈاکٹر ضیا ء بتول، اختر بگیو اور ڈاکٹر فاروق پر مشتمل پینل وزیراعظم کو بھجوا دیا ،وزارت کے ذرائع کے مطابق ایم پی ون پالیسی تحت ڈی جی پی ایس کیو سی اے کی تقرری ابتدائی طور پر تین سال کیلئے کنٹریکٹ پر کی جائے گی اور اس کے بعد کارکردگی کی بنیاد پر اس مدت میں ایک ، ایک سال کی توسیع ممکن ہے ، ذرائع کے مطابق موجودہ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی نے وزارت کا چارج سنبھالتے ہی وزارت کے ماتحت سربراہوں کے بغیر اداروں کے سربراہوں کی تقرریوں کیلئے اقدامات اٹھاتے ہوئے پی ایس کیو سی اے کے سربراہ کی تقرری کیلئے امیدواروں کے انٹرویوز کا پراسس مکمل کرتے ہوئے گزشتہ روز امیدواروں کا پینل بھی وزیراعظم کو بھجوا دیا ۔