
1993 کا وہ وقت جب “نجات” پہلی بار ٹیلی کاسٹ ہوا، اس کا ہر منظر آج بھی ذہن میں ترو تازہ ہے، جیسے وقت کی دھندلی سی یاد ہو۔ میں صرف ایک سال کا تھا، اور وہ لمحے میری نظر سے گزر گئے، لیکن 2000 کے اوائل میں جب یہ دوبارہ نشر ہوا تو ایسا لگا جیسے کوئی پرانی فلم دوبارہ چل رہی ہو، جہاں ہر کردار، ہر منظر، ہر لفظ میں ایک کہانی چھپی ہوئی ہو۔
عتیقہ اوڈھو کی دل چھو لینے والی اداکاری: عتیقہ اوڈھو نے اس ڈرامے میں جو کردار ادا کیا، وہ صرف ایک خاتون کا کردار نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا جذباتی سفر تھا جو ہر دل پر اثر کرتا تھا۔ ان کی شخصیت کی گہرائی اور دکھ، بیماری اور بڑھتے بچوں کی مشکلات نے ناظرین کے دلوں میں ایک ناقابل فراموش جگہ بنا لی۔ ان کی آنکھوں میں ایک ایسی مایوسی چھپی تھی جو ہر منظر میں گہری محسوس ہوتی تھی۔
نعمان اعجاز کا درد اور خواب: نعمان اعجاز کی اداکاری میں ایک ایسی حقیقت تھی جو آج بھی دل کو چھوتی ہے۔ ایک شکاری کا کردار، جو اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے دن رات محنت کرتا اور چھوٹی سی دکان کے خواب دیکھتا ہے۔ وہ خواب جو کبھی حقیقت کا رنگ نہیں لیتے، دکان کا جلنا، اس کا دکھ، اس کی ناکامی، ہر منظر دل کو چیر دیتا تھا۔
لطیف کپاڈیا کا کمال: لطیف کپاڈیا، ہما نواب کے والد کے طور پر، ایک نیا اور پیچیدہ کردار ادا کر رہے تھے۔ تین بچوں کا باپ، جو دوسری شادی کی آرزو میں تھا، اس کی لگان اور تلاش ایک عجب قسم کی کٹھن حقیقت تھی۔ اس کا کردار ان تمام تضادات کو ظاہر کرتا تھا جن سے کوئی بھی انسان کبھی نہ کبھی گزرتا ہے۔
کاشی کا کردار – ایک دل دہلا دینے والی یاد: “نجات” کا ایک بچہ، کاشی، جس نے نثار قادری (ماسٹر) کی مار سے گھبرا کر شہر کا رُخ کیا، اس کی معصومیت اور خوف نے اس ڈرامے کو اور بھی حقیقت کا رنگ دیا تھا۔ وہ چائلڈ رول جو ناظرین کے دلوں میں آج بھی ایک خاص جگہ رکھتا ہے۔
مضبوط پیغام: “نجات” صرف ایک ڈرامہ نہیں تھا، یہ ایک سماجی پیغام تھا جو بڑھتی ہوئی آبادی اور معاشرتی مسائل کی طرف اشارہ کرتا تھا۔ ساحرہ کاظمی کی پروڈکشن نے اس ڈرامے کو ایک کلاسک کی حیثیت دی، اور 18 اقساط کا یہ سفر آج بھی ناظرین کے دلوں میں ایک گہرا اثر چھوڑ چکا ہے۔
ایک سنہری یاد: جب بھی “نجات” کا ذکر آتا ہے، ایک پرانی دھندلی سی یاد ذہن میں ابھرتی ہے، جیسے ایک نیا دور اور ایک نئی دنیا ہو۔ جب ہم چھوٹے تھے اور ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر اس ڈرامے کو دیکھتے تھے، وہ لمحے کسی خواب سے کم نہیں تھے۔ وہ ڈرامہ، وہ کردار، وہ جذبات آج بھی دلوں میں زندہ ہیں۔
کیا آپ کو بھی “نجات” یاد آتا ہے؟ وہ لمحے جب اس ڈرامے نے آپ کو متاثر کیا؟ وہ منظر جب آپ نے عتیقہ اوڈھو اور نعمان اعجاز کے کرداروں کو اپنی زندگی کے قریب محسوس کیا؟























