پاکستان میں پولیو کے خلاف جنگ جاری: اپریل 2025 میں نئی مہم کا آغاز

پاکستان میں پولیو کے خلاف جنگ جاری: اپریل 2025 میں نئی مہم کا آغاز

کراچی: پاکستان میں پولیو کے خلاف جنگ ایک بار پھر تیز ہونے والی ہے، جہاں اگلے ہفتے سے ملک بھر میں پولیو ویکسین کی نئی مہم شروع ہو رہی ہے۔ اس مہم کا مقصد لاکھوں بچوں کو زندگی بھر کے لیے پولیو سے محفوظ بنانا ہے۔ حکومت پاکستان، عالمی ادارہ صحت (WHO) اور دیگر شراکت داروں کے اشتراک سے یہ مہم کراچی سمیت ملک کے تمام صوبوں میں چلائی جائے گی، جہاں اب بھی پولیو وائرس کے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

ہدف: 7 ملین بچوں کو ویکسین کی فراہمی
اس مہم کا بنیادی ہدف ملک بھر میں تقریباً 70 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں ویکسینیشن کی شرح کم ہے۔ کراچی، پشاور، کوئٹہ اور فاٹا کے کچھ حصے اب بھی پولیو کے لیے خطرناک زون میں شمار ہوتے ہیں۔ ہیلتھ ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو قطروں سے محفوظ بنائیں گے، جبکہ عوامی مقامات پر بھی ویکسینیشن کے اسٹال لگائے جائیں گے۔

چیلنجز: افواہوں اور عدم اعتماد کا مقابلہ
حکام کے مطابق، سب سے بڑا چیلنج غیر مستند افواہوں اور ویکسین کے بارے میں غلط معلومات کا پھیلاؤ ہے۔ کچھ والدین اب بھی ویکسین کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں، جس کی وجہ سے بچوں کو قطروں سے محروم رکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، دور دراز اور غیر محفوظ علاقوں تک رسائی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ تاہم، ہیلتھ ٹیموں نے عزم کر لیا ہے کہ وہ ہر گھر تک پہنچ کر بچوں کو اس موذی مرض سے بچائیں گی۔

عالمی برادری کی حمایت
پاکستان کی اس کوشش میں عالمی ادارہ صحت، یونیسیف اور دیگر تنظیمیں مالی و تکنیکی مدد فراہم کر رہی ہیں۔ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں پولیو کے کیسز میں نمایاں کمی آئی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مہمات کا مثبت اثر ہو رہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے نمائندے نے کہا ہے کہ “پاکستان پولیو کے خاتمے کے قریب پہنچ چکا ہے، اور ہم اسے آخری مرحلے تک لے جائیں گے۔”

عوام سے اپیل
ماہرین صحت نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں، کیونکہ یہ مرض نہ صرف معذوری کا سبب بن سکتا ہے بلکہ جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔ ایک محفوظ پاکستان کے لیے ہر بچے کا ویکسینیشن کے عمل سے گزرنا انتہائی ضروری ہے۔

پولیو کے خاتمے کی یہ جنگ جاری رہے گی، اور امید ہے کہ اگلے چند سالوں میں پاکستان بھی دنیا کے ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جہاں پولیو کا خاتمہ ہو چکا ہے۔