
لاہور جنرل ہسپتال کے زیر اہتمام تین روزہ سپائن ڈیفارمیٹی اپریٹو کورس کا انعقاد کیا گیا ۔جس میں ملکی اور غیر ملکی نامور سپائن سرجنز نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور ساؤتھ کورین سپائن سرجنز اس میں سر فہرست رہے جن میں پروفیسر سو(ساؤتھ کوریا ) ،پروفیسر سو کینگ( دبئی ) ،پروفیسر ایل ایکس گبسم (انگلینڈ )،پروفیسر حیاتی اے گون ( ترکی ) ڈاکٹر ہانگ جن (ساؤتھ کوریا) ڈاکٹر سری کرشنا( انڈیا )اور پروفیسر الاناي( ترکی ) شامل تھے ،جبکہ نیشنل فیکلٹی میں پروفیسر طارق سہیل، پروفیسر ابوبکر، پروفیسر خالد ،پروفیسر عتیق زمان، پروفیسر عبداللہ شاہ، پروفیسر جودت سلیم ،ڈاکٹر اکبر، ڈاکٹر محمود اور ڈاکٹر عبدالستار شامل ہیں ۔اس تعلیمی سرگرمی کی میزبانی پروفیسر محمد حنیف میاں اور پروفیسر خالد کاظمی نے کی ۔ڈاکٹر خضر غالب نے کورس ڈائریکٹر کی ذمہ داری نبھائی اور ڈاکٹر محمد شکیل نے سائنٹفک سیشن کو لیڈ کیا ۔

میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پروفیسر محمد طارق سہیل (پیٹرن ان چیف )کا کہنا تھا کہ سپائن ڈیفارمٹی کورس کے یہ تیسرا سیشن ہے اور ہر سال باقاعدگی سے اس کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔اس کورس کا مقصد غیر ملکی سطح پر سرجیکل سکلز کا تبادلہ ہے تاکہ کمر کے ٹیڑھا پن کے مریضوں کی بہتر سے بہتر خدمت کی جا سکے ۔

پروفیسر میاں محمد حنیف (چیئرمین) نے میڈیا کو ٹیلیفونک انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ لاہور جنرل ہسپتال ملک بھر سے ائے ہوئے کمر کے مسائل سے دو چار مریضوں کو سٹیٹ اف دی ارٹ سہولیات مہیا کر رہا ہے ۔اور دور جدید کے تقاضوں کے مطابق سرجری کی سہولیات فراہم کر رہا ۔یہ کورس اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ لاہور جنرل ہسپتال نے 2022 میں یونیورسٹی اف میڈیسن ساؤتھ کوریا کے ساتھ سائن کیا جس کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان ہر سال دو سپائن سرجنز کا تبادلہ کیا جاتا ہے تاکہ سکلز کا ایکسچینج ہو سکے ۔اس موقع پر انہوں نے پروفیسر خالد کاظمی اور ڈاکٹر خضر غالب کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی کو سراہا ۔

پروفیسر خالد کاظمی کو چیئرمین کا کہنا تھا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ تعلیم و تدریس کا سلسلہ زندگی بھر جاری رہنا چاہیے ۔ہمارا مذہب اور پیشہ دونوں اس بات کی تلقین کرتے ہیں ۔انہوں نے غیر ملکی ڈاکٹرز کا ان کی تشریف اوری کے لیے شکریہ ادا کیا اور اس کورس کے شرکاء کی بھرپور حوصلہ افزائی کی ۔
ڈاکٹر خضر غالب کورس ڈائریکٹر جو کہ ملک بھر میں نامور سپائن سرجن کی حیثیت رکھتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ کمر کے ٹیڑھا پن میں مبتلا مریضوں کے لیے یہ کورس کسی نعمت سے کم نہیں ہے ۔الحمدللہ پاکستان میں کمر کے مسائل میں مبتلا مریضوں کے ہر قسم کے علاج کی سہولت موجود ہے ۔اور لاہور جنرل ہسپتال سرکاری سطح پر کمر کے مریضوں کا مفت علاج کرنے والا اپنی نوعیت کا واحد ہسپتال ہے ۔انہوں نےان تعلیمی سرگرمیوں کی سرپرستی کرنے کے لیے پروفیسر میاں محمد حنیف کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اسی جوش و جذبے کے ساتھ تعلیم و تدریس کا یہ سلسلہ جاری رکھیں گے ۔
ڈاکٹر شیراز ملک اور ڈاکٹر عبداللہ عائش (اور گنائزرز )نے ورک شاپ کے سٹرکچر کے متعلق بتایا کہ یہ ورکشاپ تین حصوں پر مشتمل ہے حصہ اول میں کمر کی ٹیڑھا پر لیکچر لیکچرز دیے گئے ۔حصہ دوم میں بین الاقوامی سپائن سرجنز کے ہمراہ مریضوں کی لائیو سرجری کی گئی ۔اور حصہ سوئم میں ینگ سرجنز کے لیے ہینڈ زون کا اہتمام کیا گیا ۔انہوں نے ان ورک شاپس کی ینگ سرجنز کے لیے اہمیت پر بھی بات کی ۔
غیر ملکی سپائن سرجنز کی بھرپور مہمان نوازی کی گئی اور تقریب کے اختتام پر ان میں اعزازی اسناد تقسیم کی گئی ۔اور شرکا میں سرٹیفیکیٹس تقسیم کیے گئے ۔























