
سندھ میں وائس چانسلرز کے پرفارمنس آڈٹ کا نظام نافذ، وزیراعلیٰ نے تاریخی منظوری دے دی

حکومت سندھ نے سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی سفارش پر صوبے کی سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز اور دیگر اہم عہدیداروں کی کارکردگی کے جائزے کے لیے پرفارمنس آڈٹ سسٹم متعارف کرایا ہے۔ یہ اقدام پاکستان کی تعلیمی تاریخ میں پہلی بار اٹھایا گیا ہے۔

کلیدی پرفارمنس انڈیکیٹرز (KPIs) کے تحت وائس چانسلرز، پرووائس چانسلرز، ڈائریکٹرز فنانس، ڈینز، رجسٹرارز اور دیگر افسران کی کارکردگی کو جزا و سزا کے نظام سے جوڑ دیا گیا ہے۔
طلبہ کی شمولیت
پہلی بار جامعات کے افسران کی انتظامی و تعلیمی کارکردگی کے جائزے میں طلبہ کو بھی شامل کیا گیا ہے، خاص طور پر تدریسی معیار کے حوالے سے۔

سندھ ایچ ای سی کی کامیابیاں
چیئرمین ڈاکٹر طارق رفیع کی قیادت میں سندھ ایچ ای سی نے صوبے میں اعلیٰ تعلیم کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے:

تحقیقی فنڈز میں 200% اضافہ، جس کے نتیجے میں سندھ کی جامعات نے بین الاقوامی جرائد میں 35% زیادہ تحقیقی مقالے شائع کیے۔
20 نئی ڈگری پروگرامز متعارف کرائیں، جن میں ایئرٹیفیشل انٹیلیجنس اور بائیوٹیکنالوجی شامل ہیں۔
15 سرکاری جامعات کو ڈیجیٹل بنایا، جس سے 50,000 سے زائد طلبہ کو آن لائن تعلیم میسر آئی۔
ہر سال 10,000 غریب طلبہ کو اسکالرشپس دیں۔

وفاقی اور صوبائی تعاون
سندھ ایچ ای سی نے یہ پرفارمنس فریم ورک وفاقی اور دیگر صوبائی ایچ ای سیز کے ساتھ شیئر کیا ہے، تاکہ پورے ملک میں اس نظام کو اپنایا جا سکے۔
جزا و سزا کا نظام
بہتر کارکردگی پر عوامی اعزاز، تنخواہ میں اضافہ، اور مدت ملازمت میں توسیع ہوگی، جبکہ خراب کارکردگی پر انتباہ، اختیارات میں کمی، یا برطرفی ہو سکتی ہے۔
=================


سالک مجید ایڈیٹر جیوے پاکستان ڈاٹ کام























