
لاڑکانہ بیرل رپورٹ
ايوان زراعت لاڑکانہ کے زیر اہتمام درخت اگائو سندھ سے گرمی پد کو گھٹائو کے سلسلہ میں راشدی فارم نئوں دیرو میں پھلدار درخت لگوائے گئے جس کے مہمان خاص ڈائو میڈیکل کالج کے معروف سابق پروفیسر ڈاکٹر لیاقت قاضی نے جامن کا پودا لگاتے ہوئے سندھ حکومت سے درخواست کی کہ سندھ کے بنجر پہاڑی سلسلہ میں سعودی عرب کی طرح زیتون کے درخت لگائیں سندھ کے پہاڑوں کو سرسبز بنائیں پروفیسر ڈاکٹر لیاقت قاضی کا کہنا تھا کہ
سعودی عرب نے 2 کروڑ زیتون کے درخت لگائے ہیں، جن سے ہر سال 11 ہزار ٹن سے زیادہ زیتون کا خالص تیل حاصل کیا جائے گا۔ یہ ایک بہت بڑا قدم ہے ماحولیاتی بہتری اور خوراک میں خود کفالت کی طرف۔

یہ درخت نہ صرف زرخیز زمین کو فائدہ دیں گے بلکہ مقامی معیشت اور صحت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوں گے۔ زیتون کا تیل دل کی صحت کے لیے بہترین مانا جاتا ہے اور دنیا بھر میں اس کی مانگ بڑھتی جا رہی ہے۔
لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ سعودی عرب جیسا ریگستانی ملک زیتون جیسے مفید درخت لگا رہا ہے، جبکہ ہم سندھ میں اپنی زمین کو بنجر ہونے دے رہے ہیں۔ ہمارے پاس زرخیز زمین، پانی، نوجوان افرادی قوت موجود ہے، پھر بھی ہم زیتون، اور دیگر خوردنی تیل درآمد کر رہے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہماری سندھ حکومت بھی ایسی ہی پائیدار اور فائدہ مند منصوبہ بندی کریں۔
زیتون کے درخت سندھ کے کھیرتھر پہاڑ کے دامن میں با آسانی اگ سکتے ہیں۔
گورکھ ہل اسٹیشن کے قریب و جوار میں زیتون کے درخت کامیابی سے اگائے گئے ہیں
آئیے مل کر زیتون اُگائیں، اپنی سندھ کو خوردنی تیل میں خودکفیل بنائیں اور ایک خوشحال سندھ کی بنیاد رکھیں۔
اس موقع پر دیوان نرملداس، سید سراج راشدی، ملک خدابخش۔ عطامحمد حب، ایاز علی اور دیگر کاشتکار موجود تھے























