فلمی صنعت زبوں حالی کا شکار ہے
کراچی (اسٹاف رپورٹر )
لیجنڈ اداکار مصطفے قریشی نے کہا ہے کہ پاکستانی فلم صنعت انتہائی زبوں حالی اور کسمپرسی کا شکار ہے سنیما انڈسٹری تباہ ہو گئی ہے فلمیں نہ بننے کی وجہ سے سنیما بند ہو گئے ہیں جسکی وجہ سے ملک بھر میں فلمی صنعت سے وابستہ ہزاروں افراد بے روزگاری کا شکار ہیں اور فاقوں پر مجبور ہیں اپنی رہائیش گاہ پر فلمسٹار سگیتا ، ممتاز ، سابق وزیر پیر مظہر الحق ، صدر آرٹس کو نسل آحمد شاہ و دیگر کے اعزاز میں افطار ڈنر کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں کہی اس موقع پر سینئیر صحافی و تجزیہ نگار مظہر عباس ، جی ایم پی ٹی وی امجد شاہ ،نجمی عالم ، ڈاکٹر ھما میر ، چئیر مین پاکستان فلم ٹی وی جرنلسٹس ایسوسی ایشن اطہر جاوید صوفی و دیگر موجود تھے مصطفے قریشی نے کہا فلمی صنعت کے لئے سابقہ حکومت نے ۲ ارب مختص کئے تھے وہ کہاں گئے فلمی صنعت کی بحالی کے لئے سندھ حکومت ذوالفقار بھٹو شھید کے وژن کے مطابق فلمی صنعت کی بحالی کے لئے پرو فیشنل افراد پر مشتمل “ سندھ فلم ڈیولپمنٹ کارپوریشن “ کا قیام عمل میں لایا جائے اس ادارے کے تحت پاکستان کی تمام زبانوں میں فلمیں پروڈیوس کی جائیں تاکہ ہزاروں بے روز گار استفادہ کر سکیں اور فلمی صنعت دوبارہ مستحکم ہو سکے اس موقع پر اداکا رہ ممتاز نے کہا کہ ماضی کے فلمی دور کی بحالی نا ممکن ہے سنگیتا نے کہا کہ حکومت کی سر پرستی کے بغیر فلمی صنعت کا ریوایول ممکن نہیں صدر آرٹس کونسل احمد شاہ نے کہا
سندھ حکومت مصطفے قریشی کی تجویز پر عملدرآمد کو یقینی بنائے فلمی صنعت فعال ہو سکتی ہے پیر مظہر الحق نے کہا سندھ حکومت فلمی صنعت کے ریوایول کے لیے نیف ڈیک کی طرز پر صوبے میں سیف ڈیک بنائے مظہر عباس نے کہا کہ احمد شاہ نے آرٹس کونسل کا نقشہ تبدیل کردیاہے مجھے یقین ہے کہ اگر سندھ فلم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کا قیام عمل میں لایا جائے اور اس کی قیادت احمد شاہ کرینگے اور بورڈ میں مصطفے قریشی جیسے سینیئر فلمی شخصیات کو شامل کیا جائے تو فلم صنعت کا ریوایول ممکن ہو سکتا ہے























