وہ بھاگا ، نہ اس نے پیٹھ دکھائی


ہاں یہ بات سچ ہے وہ جب سے اس کرسی پر آیا ہے اس کے بارے میں بحث ہو رہی ہے بحث کرنے والے تقسیم ہیں کچھ اس کی بے پناہ تعریف کرتے ہیں اس کے کاموں سے متاثر ہیں اور اس کی صلاحیتوں کے معترف ، کچھ کو وہ سخت ناپسند ہے وہ اس کی شکل نہیں دیکھنا چاہتے اس کو مغرور مانتے ہیں اور کسی کا منظور نظر اور چہیتا ۔ لیکن بات کام کی کرنی چاہیے جس مقصد کے لیے اسے اس کرسی پر بٹھایا گیا ہے وہ کام اسے آتا بھی ہے اور وہ کر بھی خوب رہا ہے ایسا نہیں ہے کہ وہ کوئی پہلا شخص ہے جو اس عہدے پر بٹھایا گیا ہے اس سے پہلے بھی بڑے بڑے طرم خان آئے انہوں نے بلند و بانگ دعوے بھی کیے لیکن جب وہ گئے تو حالات پہلے سے بہتر نہ کر سکے بلکہ معاملات کو مزید بگاڑ کر چلے گئے ۔


جب سے یہ شخص محکمے کا سیکرٹری بنا ہے چیزوں میں جمود نہیں رہا پورے محکمے میں ایک ہلچل مچانے والا یہ شخص ہے جس نے سب کی مخالفت بھی مول لی اور ان سب پر بھی ہاتھ ڈالا جن کے بارے میں سمجھا جاتا تھا کہ وہ بڑے طاقتور زور آور ہیں کوئی ان کا بال بیکا نہیں کر سکتا لیکن اس نے وہ سب کچھ کر دکھایا جو کسی نے سوچا نہیں تھا ۔ ماضی کی کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کے خلاف ڈنڈا اٹھایا تو بہت سے لوگوں کی چیخیں نکل گئیں کالی بھیڑوں کی شامت ائی تو

شور ہغوغا تو فطری تھا بہت سے لوگوں نے شور مچایا اس کے خلاف منفی پروپیگنڈا شروع کر دیا اور جتنے بے بنیاد اسکینڈلز گھر سکتے تھے گھڑتے چلے گئے لیکن دوسروں کے خلاف گڑھا کھودنے والے خود اسی میں گرتے ہیں اور اس شخص کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو بھی منہ کے بل گرتا دیکھا گیا ۔ یہ شخص آج بھی مسکرا رہا ہے اور روز اپنا کام آگے بڑھا رہا ہے جو سمجھ رہے تھے کہ یہ ڈر کر بھاگ جائے گا خوفزدہ ہو جائے گا پریشان ہو جائے گا پیٹھ دکھائے گا لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا اور یہ شخص ایک چٹان کی مانند ان تمام کالی بھیڑوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے جو مختلف مافیاز کی آشیر باد اور آڑ لے کر گھناؤنے اور مکروہ دھندے کرتے ہیں اور محکمے کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں اور یہاں لوٹ مار کرتے مریضوں کو پریشان کرتے ہیں ان کے لواحقین کی پریشانی کا باعث بنتے ہیں اور اپنی قبر کی آگ بھی بڑھا رہے ہیں ۔

ہاں سچ ہے محکمہ صحت میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے بہت سی شکایات ہیں بہت سی کمی بیشی کے معاملات نظر آتے ہیں لیکن سیم درست ہو تو منزل نزدیک ا جاتی ہے چیزیں بہتری کی طرف گامزن ہیں ابھی فیصلوں میں مشاورت سے مزید بہتری لائی جا سکتی ہے اور مختلف کاموں کو نیچے مختلف ہاتھوں میں تقسیم کرنے سے چیزوں کو زیادہ بنایا جا سکتا ہے شروع شروع میں اپنی ٹیم بنانے میں مشکل ہوتی ہے وقت لگتا ہے دوسروں پر بھروسہ کرنا آسان اور عقلمندی نہیں ہوتی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب اپ لوگوں کو پرکھ لیتے ہیں لوگوں کے بارے میں ساری رپورٹیں مل جاتی ہیں تو پھر ان کے بارے میں رائے قائم کرنے میں اور ان سے کام لینے میں بھی فیصلہ کرتے ہوئے آسانی ہوتی ہے سیکرٹری صحت کی حیثیت سے ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں فرائض کم نہیں ہیں توقعات کا گراف ہمیشہ کے ٹو کی بلندی پر رہتا ہے یہ ایک طرح سے تھینک لیس جاب ہے اپ 364 دن اچھا کام کریں لیکن ایک دن کوئی غلطی ہو جائے تو سارے کیے کرائے پر پانی پھر جاتا ہے بہرحال مستقبل کے لیے نیک خواہشات اور نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں اچھے کاموں کی نیت ہو تو نتائج اچھے آتے ہیں اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اگر یہ سیکنڈری اچھے کام کرے گا تو لوگ اس کو دعائیں دیں گے اور اگر یہ کسی شیطان کے قابو اگیا تو پھر اس کے ساتھ بھی وہی ہوگا جو اس سے پہلے والوں کے ساتھ ہوا ۔ باہر تو اچھے کی امید رکھنی چاہیے اور یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کر بھلا سو بھلا ۔
===========================

سرکاری صحت کے سیکرٹری ریحان اقبال بلوچ کی انتظامی صلاحیتوں اور اصلاحات کو عوام اور حلقوں کی طرف سے خراج تحسین

کراچی: صوبہ سندھ کے محکمہ صحت کے سیکرٹری ریحان اقبال بلوچ کے انتظامی اقدامات اور ان کی محنت کو ہر طرف سراہا جا رہا ہے۔ انہوں نے محکمے میں گزشتہ کئی برسوں سے جاری ناقص کارکردگی اور بدعنوانی کے خلاف سخت اقدامات کرتے ہوئے ایک بہترین منتظم ثابت کیا ہے۔

ریحان اقبال بلوچ نے محکمہ صحت میں شفافیت اور نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ ان کی سخت نگرانی کی وجہ سے محکمے میں کام کرنے کا معیار بلند ہوا ہے، جبکہ انہوں نے مریضوں کی بہتر سہولیات فراہم کرنے پر بھی خصوصی توجہ دی ہے۔ ان کی جانب سے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور عملے کی حاضری کو یقینی بنانے، ادویات کی بروقت فراہمی، اور نجی کلینکس پر پابندی جیسے اقدامات نے عوامی سطح پر ان کی پذیرائی میں اضافہ کیا ہے۔

تاہم، ان کی اصلاحات اور بدعنوانی کے خلاف صفائی مہم نے محکمے کے کچت “کالی بھیڑوں” اور مافیا کو بے چین کر دیا ہے، جو اب ان کے خلاف ہر ممکن طریقے سے پراپیگنڈہ کر رہے ہیں۔ مگر ریحان اقبال بلوچ کسی دباؤ یا بلیک میلنگ سے متاثر ہونے والے افسر نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی یا دباؤ کے آگے جھکنے والوں میں سے نہیں ہیں۔

صوبائی حکومت اور محنت کشوں کے حلقوں کا کہنا ہے کہ ریحان اقبال بلوچ جیسے باصلاحیت اور بہادر افسران ہی ملک و قوم کی ترقی کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان کی لگن اور ایمانداری کی وجہ سے عوام میں امید پیدا ہوئی ہے کہ سندھ کا محکمہ صحت واقعی ایک بہتر مستقبل کی طرف گامزن ہوگا۔

دعا ہے کہ ریحان اقبال بلوچ اپنی ایمانداری، محنت اور بہترین انتظامی صلاحیتوں کے ذریعے مزید کامیابیاں حاصل کریں اور انہیں ملک و قوم کی خدمت کرنے کا مزید موقع ملے۔

#سندھ_حکومت #محکمہ_صحت #ریحان_اقبال_بلوچ #بدعنوانی_کا_خاتمہ