آپریشن کے نتیجہ میں بے گھرہونے والوں کی مدد کے لئے سپرٹیکس لگایا گیا تھا۔ بعد ازاں پندرہ کروڑسے زیادہ کمانے والے افراد اور کاروباروں پریہ ٹیکس لگا دیا گیا مگرحکومت یہ ٹیکس لگا کرواپس لینا بھول گئی ہے

ہمارا ٹیکس نظام سرمایہ کاری اورمعاشی ترقی میں رکاوٹ ہے۔
کئی اہم شعبوں اورمتمول شخصیات سے ٹیکس وصول ہی نہیں کیا جاتا ہے۔
آمدن میں اضافے کے لئے ٹیکس گزاروں اورعوام کو ہدف بنایا جاتا ہے۔ میاں زاہد حسین

(24۔مارچ۔2025)
نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، ایف پی سی سی ائی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کا ٹیکس سسٹم سرمایہ کاری اورمعاشی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ ہمارے ٹیکس سسٹم میں بہت سے شعبوں اورمتمول شخصیات سے ٹیکس وصول ہی نہیں کیا جاتا ہے جبکہ ٹیکس دینے والوں سے ضرورت سے زیادہ ٹیکس لیا جاتا ہے۔ اسکےعلاوہ ٹیکس آمدن میں اضافے کے لئےعوام کوہدف بنانا سب سے آسان طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دستاویزی کاروبارکرنے والوں پرمسلسل ٹیکس بڑھانے سے جہاں انکے کاروبارمتاثر ہوتے ہیں وہیں بہت سے لوگ انکی پریشانی دیکھ کر ٹیکس نیٹ میں آنے سے کتراتے ہیں۔ ٹیکس نیٹ میں نہ آنے کی ایک بڑی وجہ ٹیکس وصول کرنے والوں پر اعتماد کا فقدان بھی ہے۔ اسکےعلاوہ ٹیکس سسٹم اس طرح سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ دستاویزی معیشت میں شامل نہ ہونے والے آسانی سے بچ جاتے ہیں۔ بہت سے لوگ ٹیکس دینا چاہتے ہیں مگروہ ٹیکس حکام کا رویہ دیکھتے ہوئے رسمی معیشت کے دائرے سے باہرکام کرنے کوترجیح دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے پاکستان کا ٹیکس ٹوجی ڈی پی تناسب تشویشناک حد تک کم ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ اس صورتحال میں ٹیکس میں کمی کی وجہ سے کبھی قرضے لینا پڑتے ہیں توکبھی منی بجٹ لایا جاتا ہے مگراب قرضوں کا حصول بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ٹیکس آمدن میں کمی کی وجہ سے ہی حکومت عوامی فلاح کے بہت سے کام نہیں کرپاتی، صنعتی ترقی نہیں ہوپاتی، برآمدات جمود کا شکاررہتی ہیں اورعوام کو روزگارنہیں ملتا۔ حکومت کوچائیے کہ ٹیکس محصولات کوبڑھانے کے لیے اصلاحات کے عمل کوتیزکرے، ڈائریکٹ ٹیکس کوترجیح دے اوررئیل اسٹیٹ، زراعت، ہول سیل اورریٹیل کے شعبوں کوٹیکس نیٹ میں لائے۔ اس سلسلہ میں پرچون فروشوں پرفکسڈ ٹیکس عائد کیا جائے تاکہ انھیں ٹیکس معاملات میں زیادہ سرنہ کھپانا پڑے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ فوجی آپریشن کے نتیجہ میں بے گھرہونے والوں کی مدد کے لئے سپرٹیکس لگایا گیا تھا۔ بعد ازاں پندرہ کروڑسے زیادہ کمانے والے افراد اور کاروباروں پریہ ٹیکس لگا دیا گیا مگرحکومت یہ ٹیکس لگا کرواپس لینا بھول گئی ہے جس سے کاروبارمتاثرہو رہے ہیں۔ میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ جب تک حکومت ٹیکس کا دائرہ وسیع نہیں کرے گی اورایماندار ٹیکس گزاروں پرٹیکس کے بوجھ میں کمی نہیں لائے گی اس وقت تک ملک میں سماجی اورمعاشی ترقی مشکل ہے۔