
ڈیٹا نہ جمع کرانے والے اسکولوں کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکتی ہے، جس میں جرمانہ یا رجسٹریشن منسوخ کرنے جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔
ا آخری تاریخ 20 اپریل 2025 تک بڑھا دی گئی
حیدرآباد: صوبہ سندھ کے محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران کی جانب سے اسکولوں کے آن لائن رجسٹریشن کی آخری تاریخ 20 اپریل 2025 تک بڑھا دی گئی ہے۔ یہ احکامات ٹاپ ایجوکیشن آفیسر محترمہ رفیعہ ملاح نے جاری کیے ہیں۔ اضافی ڈائریکٹر رجسٹریشن کی جانب سے تمام متعلقہ اسکولوں کو ایک سرکلر/خط ارسال کیا گیا ہے، جس کا عنوان تھا “فائنل ریمائنڈر برائے اسکول ڈیٹا کی جمع آوری”۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ اسکول ڈیٹا جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 اپریل 2025 ہوگی۔ اس ڈیٹا میں اسکولوں کی تعلیمی سرگرمیوں، طلبہ و طالبات کی تعداد، اساتذہ کی تفصیلات اور دیگر اہم معلومات شامل ہوں گی۔ یہ ڈیٹا سندھ حکومت کے ریکارڈ میں رکھنے اور مستقبل کی پالیسی سازی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
تاہم، اسکولوں کے پرنسپلز اور انتظامیہ کے درمیان اس بات پر بحث جاری ہے کہ آیا یہ ڈیٹا وقت پر جمع کرایا جا سکے گا یا نہیں۔ کچھ پرنسپلز کا کہنا ہے کہ ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے درکار وسائل اور وقت کم ہونے کی وجہ سے یہ کام مشکل ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف، محکمہ تعلیم کے افسران کا مؤقف ہے کہ ڈیٹا کی فراہمی انتہائی ضروری ہے اور اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اب سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ اگر اسکول پرنسپلز مقررہ وقت میں ڈیٹا جمع نہ کرائیں تو حکومت کیا اقدامات کرے گی۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ ڈیٹا نہ جمع کرانے والے اسکولوں کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکتی ہے، جس میں جرمانہ یا رجسٹریشن منسوخ کرنے جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔
محکمہ تعلیم کے ترجمان نے بتایا کہ اسکول ڈیٹا کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے اسکولوں پر زور دیا کہ وہ وقت پر ڈیٹا جمع کرائیں تاکہ تعلیمی نظام کو بہتر بنانے میں مدد مل سکے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا اسکول انتظامیہ اس اہم کام کو وقت پر مکمل کر پاتی ہے یا نہیں، اور اگر نہیں تو حکومت کیا ردعمل ظاہر کرتی ہے۔
=============================
32 کالجوں کی داخلہ اور ٹیوشن فیس کی کروڑوں کی رقم اسٹیٹ بینک میں جمع نہ کرانے کا انکشاف
22 مارچ ، 2025FacebookTwitterWhatsapp
کراچی( سید محمد عسکری) کراچی کے 32 کالجوں کے پرنسپلز کی جانب سے داخلہ اور ٹیوشن فیس کی وصول کی جانے والی کروڑوں روپے کی رقم اسٹیٹ بنک میں جمع نہ کرانے کا انکشاف ہوا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ریجنل ڈائریکٹر کالجز کراچی فقیر محمد لاکھو نے اس مالی بے ضابطگی کا سنگین نوٹس لیا اور اس حوالے سے کالج پرنسپلز سے بی ایس، اے ڈے اے، اے ڈی سی اور ڈی ایس پروگرام کی فیس ادائیگی کی رسیدیں طلب کرلی ہیں جن 32کالجوں نے فیسیں اسٹیٹ بنک کے اکاؤنٹ میں جمع نہیں کرائی ہیں ان میں رعنا لیاقت علی خان گورنمنٹ کالج برائے ہوم اکنامکس، خورشید گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج، گورنمنٹ کالج آف کامرس اینڈ اکنامکس Iکراچی ،ڈگری سائنس اینڈ کامرس کالج برائے خواتین ایف بی ایریابلاک16،سراج الدولہ گورنمنٹ ڈگری کالج (شام)، گورنمنٹ کالج برائے خواتین ناظم آباد، گورنمنٹ ڈگری گرلز کالج بلاک 13گلستان جوہر، گورنمنٹ کالج آف کامرس اینڈاکنامکس نمبر2،گورنمنٹ نیشنل کالج (صبح )، شہیدملت گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین،گورنمنٹ ڈگری گرلز کالج سیکٹر11-Iنارتھ کراچی، لیاقت گورنمنٹ ڈگری بوائزکالج نمبر2 (شام)ملیرکراچی، عثمانیہ گورنمنٹ کالج برائے خواتین، پی ای سی ایچ ایس گورنمنٹ کالج برائے خواتین، خاتون پاکستان گورنمنٹ کالج برائے خواتین، گورنمنٹ کالج برائے خواتین سعودآباد، گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج زم زمہ (گذری)I،گورنمنٹ کالج برائے خواتین شاہراہ لیاقت، گورنمنٹ ڈگری بوائز کالج جنگل شاہ، گورنمنٹ ڈگری بوائز اینڈگرلز کالج اسٹیڈیم روڈ،گورنمنٹ کالج برائے خواتین11-Fنیوکراچی، گورنمنٹ ڈگری گرلز کالج سیکٹر11-B نارتھ کراچی، گورنمنٹ جامعیہ ملیہ ڈگری کالج(شام) ،پریمئرگورنمنٹ گرلزکالج بلاکH، گورنمنٹ نیشنل کالج (شام)،گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین کورنگی4، گورنمنٹ آرٹس اینڈ کامرس کالج (شام)، گورنمنٹ اسلامیہ آرٹس اینڈ کامرس کالج(صبح) عبداللہ گورنمنٹ کالج برائے خواتین،گورنمنٹ اسلامیہ کالج برائے خواتین لائنزایریا، رونق اسلام گورنمنٹ کالج برائے خواتین اور لیاقت گورنمنٹ گرلز کالج ملیر (شام)شامل ہیں۔
====================























