پاکستانی اور غیر ملکی جامعات: تعلیمی صورتحال کا موازنہ-بلوچستان یونیورسٹی بند، ہارورڈ میں ٹیوشن فیس معاف

بلوچستان یونیورسٹی کو سیکیورٹی خدشات کی بنا پر غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق تمام تدریسی سرگرمیاں اب آن لائن موڈ میں منتقل کر دی گئی ہیں۔ اسی طرح، سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی میں بھی طالبات کے لیے آن لائن کلاسز کا آغاز ہو چکا ہے۔ بلوچستان آئی ٹی یونیورسٹی نے بھی موجودہ صورتحال پر غور و خوض کے لیے اجلاس طلب کر لیا ہے۔

دوسری جانب، امریکہ کی معروف جامعہ ہارورڈ نے تاریخی اقدام اٹھاتے ہوئے متوسط طبقے کے طلبہ کے لیے ٹیوشن فیس معاف کر دی ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے مطابق، سالانہ 2 لاکھ ڈالرز سے کم آمدنی والے خاندانوں کے طلبہ کو ٹیوشن فیس میں مکمعافی دی جائے گی، جبکہ 1 لاکھ ڈالرز سے کم آمدنی والے خاندانوں کے طلبہ کے لیے رہائش اور ہیلتھ انشورنس کے اخراجات بھی یونیورسٹی برداشت کرے گی۔ یہ پالیسی 2025-2026 کے تعلیمی سال سے نافذ ہو گی۔

پاکستان میں تعلیمی شعبے کے حوالے سے ایک اور اہم خبر سندھ کی جامعات سے متعلق ہے۔ سندھ حکومت نے سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کی تقرری کے لیے اہلیت کے معیارات میں کمی کر دی ہے۔ اب امیدواروں کے لیے تحقیقی جرائد کی تعداد 15 سے کم کر کے 10 کر دی گئی ہے، جبکہ پی ایچ ڈی کی شرط کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، سندھ کے ڈومیسائل کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے۔ یہ اقدامات انتظامی امیدواروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔

پاکستانی جامعات کی کارکردگی کے حوالے سے ایک خوش آئند خبر کامسیٹس یونیورسٹی کی جانب سے سامنے آئی ہے۔ کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ 2025 میں کامسیٹس یونیورسٹی نے انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبے میں 207 واں نمبر حاصل کیا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 29 درجے کی بہتری ہے۔ یہ کامیابی یونیورسٹی کی فیکلٹی اور طلبہ کی محنت کا نتیجہ ہے۔
6۔ پاکستانی جامعات کے مسائل:
پاکستانی جامعات کو نہ صرف سیکیورٹی کے مسائل کا سامنا ہے، بلکہ تعلیمی معیار، فنڈنگ کی کمی، اور انتظامی ناکامیوں جیسے چیلنجز بھی درپیش ہیں۔ بلوچستان یونیورسٹی کا غیر معینہ مدت کے لیے بند ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح سیکیورٹی خدشات تعلیمی سرگرمیوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال طلبہ کے مستقبل کے لیے تشویشناک ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں تعلیم ہی ترقی کا واحد ذریعہ ہے۔

7۔ غیر ملکی جامعات کی ترقی:
دوسری طرف، ہارورڈ جیسی عالمی جامعات نہ صرف تعلیمی معیار کو بلند رکھتی ہیں، بلکہ وہ مالی مشکلات کا شکار طلبہ کے لیے بھی سہولیات فراہم کرتی ہیں۔ ہارورڈ کا ٹیوشن فیس معاف کرنے کا فیصلہ متوسط طبقے کے خاندانوں کے لیے ایک بڑی راحت ہے۔ اس اقدام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ غیر ملکی جامعات طلبہ کی مالی مشکلات کو سمجھتے ہوئے انہیں تعلیم تک رسائی دینے کے لیے پرعزم ہیں۔

8۔ سندھ کی جامعات میں اصلاحات:
سندھ حکومت کی جانب سے وائس چانسلرز کی تقرری کے معیارات میں کمی کا فیصلہ بھی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اس اقدام سے یہ خدشات پیدا ہوئے ہیں کہ کہیں یہ تعلیمی معیار کو مزید گرانے کا باعث نہ بن جائے۔ تاہم، حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات انتظامی امیدواروں کو مواقع فراہم کرنے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔

9۔ کامسیٹس یونیورسٹی کی کامیابی:
کامسیٹس یونیورسٹی کی بین الاقوامی رینکنگ میں بہتری پاکستان کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبے میں 207 واں نمبر حاصل کرنا یونیورسٹی کی فیکلٹی اور طلبہ کی محنت کا نتیجہ ہے۔ یہ کامیابی پاکستانی جامعات کو عالمی سطح پر بہتر پوزیشن حاصل کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔

10۔ تعلیمی نظام میں تبدیلی کی ضرورت:
پاکستان کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے بنیادی سطح پر تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ سیکیورٹی خدشات، فنڈنگ کی کمی، اور انتظامی ناکامیوں کو دور کرنے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کرنی ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ، طلبہ کو جدید تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کے لیے غیر ملکی جامعات سے تعاون بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

11۔ طلبہ کے لیے مواقع:
ہارورڈ جیسی جامعات کے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعلیم کو عام کرنے کے لیے مالی امداد اور سہولیات فراہم کرنا کتنا ضروری ہے۔ پاکستان میں بھی ایسے اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں۔ اس سلسلے میں حکومت اور نجی شعبے کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

12۔ مستقبل کے چیلنجز:
پاکستانی جامعات کو مستقبل میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید تعلیمی پالیسیاں اپنانا ہوں گی۔ سیکیورٹی کے مسائل کو حل کرنے کے ساتھ ساتھ، تعلیمی معیار کو بلند کرنے اور طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کی ضرورت ہے۔

13۔ عالمی تعاون کی اہمیت:
پاکستانی جامعات کو عالمی جامعات کے ساتھ تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس سے نہ صرف تعلیمی معیار میں بہتری آئے گی، بلکہ طلبہ کو بین الاقوامی سطح پر مواقع بھی فراہم ہوں گے۔ کامسیٹس یونیورسٹی کی کامیابی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ صحیح سمت میں اقدامات کرنے سے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

14۔ طلبہ کی کامیابی:
پاکستانی طلبہ کی غیر ملکی جامعات میں کامیابیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر انہیں مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ عالمی سطح پر اپنا لوہا منوا سکتے ہیں۔ ہارورڈ کانفرنس میں پاکستانی طالبہ کا اعزاز حاصل کرنا اس کی ایک واضح مثال ہے۔

15۔ امید کی کرن:
اگرچہ پاکستانی جامعات کو کئی مسائل کا سامنا ہے، لیکن کامسیٹس یونیورسٹی جیسی کامیابیاں اور طلبہ کی غیر ملکی جامعات میں کامیابیاں امید کی کرن ہیں۔ ان کامیابیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے پاس بھی صلاحیت ہے، بس اسے صحیح سمت میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔

نوٹ:
پاکستان اور غیر ملکی جامعات کے درمیان تعلیمی صورتحال کا موازنہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کو تعلیمی شعبے میں بہتری کے لیے کئی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ سیکیورٹی، فنڈنگ، اور تعلیمی معیار جیسے مسائل کو حل کرنے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کرنی ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ، غیر ملکی جامعات سے تعاون بڑھانے سے پاکستانی جامعات کو عالمی سطح پر بہتر پوزیشن حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔