
ایک غریب لڑکے نے کیسے دنیا کی سب سے مشہور گھڑی “رولیکس” بنائی؟
1893 کا سال تھا۔ جرمنی کا ایک 12 سالہ لڑکا ہنس ولزڈورف اپنے والدین کو کھو دیتا ہے۔ والدین کی طرف سے اسے تھوڑی سی رقم ورثے میں ملتی ہے، لیکن سفر کے دوران یہ رقم چوری ہو جاتی ہے۔ ہنس کے پاس اب کچھ نہیں بچا تھا، سوائے ایک چیز کے—گھڑیوں کے لیے اس کا بے پناہ جنون۔ یہی جنون اسے دنیا کی سب سے بڑی گھڑی بنانے والی کمپنی “رولیکس” کی بنیاد رکھنے میں مدد دے گا۔
ہنس کے والدین کی وفات کے بعد، اس کے رشتہ داروں نے اس کے والدین کے کاروبار کو فروخت کر دیا اور ہنس کو ایک بورڈنگ اسکول بھیج دیا۔ وہاں اس کی دوستی ایک سوئٹزرلینڈ کے لڑکے سے ہوئی، جس نے اسے سوئٹزرلینڈ کی گھڑی سازی کی صنعت کے بارے میں بتایا۔ ہنس کو احساس ہوا کہ اس کا مستقبل اسی صنعت میں ہے۔ چنانچہ 1900 میں، 19 سال کی عمر میں، وہ جرمنی چھوڑ کر سوئٹزرلینڈ چلا گیا۔
وہاں اسے ایک گھڑی بنانے والی کمپنی “کیونا کورٹن” میں نوکری مل گئی، جہاں اس کا کام روزانہ سینکڑوں گھڑیوں کی درستگی کو چیک کرنا تھا۔ یہ کام اسے بے حد پسند آیا اور وہ کامل گھڑیاں بنانے کا خواب دیکھنے لگا۔ 1903 میں، ہنس نے لندن جانے کا فیصلہ کیا، لیکن سفر کے دوران اس کا سارا پیسہ چوری ہو گیا۔ یہ اس کی زندگی کا ایک بڑا دھچکا تھا، لیکن ہنس نے ہمت نہ ہاری۔ لندن میں اسے ایک اور گھڑی بنانے والی کمپنی میں مارکیٹنگ اور سیلز کی نوکری مل گئی۔
اگلے دو سالوں میں، ہنس نے گھڑیوں کی تیاری، فروخت، اور صارفین کی ضروریات کے بارے میں بہت کچھ سیکھا۔ اسے احساس ہوا کہ زیادہ تر کمپنیاں گھڑیوں کو خوبصورت اور آرائشی بنانے پر توجہ دیتی ہیں، جبکہ صارفین سادہ، درست، پائیدار اور خوبصورت گھڑیاں چاہتے ہیں۔ اس صورتحال کو بدلنے کے لیے، 24 سالہ ہنس نے اپنی گھڑی بنانے والی کمپنی شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔
ہنس کے پاس سرمایہ کم تھا، اس لیے اس نے اپنے بہنوئی کو بزنس پارٹنر بنایا اور 1905 میں “ولزڈورف اینڈ ڈیوس” نامی کمپنی کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے مسافروں کے لیے پاکٹ واچ بنانے کا فیصلہ کیا، جو عام گھڑیوں سے چھوٹی اور پورٹیبل تھی۔ یہ گھڑی کامیاب رہی، لیکن ہنس کا خواب اس سے بھی بڑا تھا۔
ہنس نے پیشگوئی کی تھی کہ مستقبل میں رِسٹ واچز پاکٹ واچز کی جگہ لے لیں گی۔ لیکن اس وقت لوگوں کا خیال تھا کہ رِسٹ واچز صرف خواتین پہنتی ہیں۔ ہنس نے اس تصور کو بدلنے کا فیصلہ کیا۔ 1906 میں، اس نے برطانیہ میں مردوں اور خواتین دونوں کے لیے گولڈ اور سلور رِسٹ واچز متعارف کروائیں، جنہیں “بریسلیٹ واچز” کا نام دیا گیا۔ یہ گھڑیاں بہت مقبول ہوئیں۔
ہنس نے اپنی گھڑیوں کو ایک منفرد نام دینے کا فیصلہ کیا۔ مختلف حروف کو ملا کر، اس نے 100 سے زیادہ ناموں کے امتزاج سے “رولیکس” کا نام تخلیق کیا، جو 1908 میں رجسٹرڈ ہوا۔ رولیکس کی کامیابی کا سفر یہیں سے شروع ہوا۔
ہنس نے گھڑیوں کی درستگی کو بہتر بنانے کے لیے بے انتہا محنت کی۔ 1910 میں، اس نے دنیا کی پہلی کرونومیٹر سرٹیفائیڈ رِسٹ واچ بنائی، جس نے رولیکس کی شہرت کو چار چاند لگا دیئے۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران، ہنس نے فوجیوں کے لیے “ٹرینچ واچز” بنائیں، جو مشکل حالات میں بھی کام کرتی تھیں۔
1926 میں، ہنس نے دنیا کی پہلی واٹر پروف گھڑی “رولیکس آئسٹر” متعارف کروائی۔ اس گھڑی کو فروغ دینے کے لیے، ہنس نے ایک تیراک میرسیڈیز گلیٹزے کو برانڈ ایمبیسیڈر بنایا، جس نے انگلش چینل تیرتے ہوئے رولیکس آئسٹر پہنی۔ یہ منفرد مارکیٹنگ اسٹریٹجی نے رولیکس کو دنیا بھر میں مشہور کر دیا۔
ہنس نے 1931 میں “رولیکس آئسٹر پیرپیچوئل” متعارف کروائی، جو دنیا کی پہلی مکمل طور پر خودکار گھڑی تھی۔ یہ گھڑی ہاتھ کی حرکت سے چلتی تھی اور اسے ہر روز چابی دینے کی ضرورت نہیں تھی۔
ہنس ولزڈورف نے 1960 میں 79 سال کی عمر میں دنیا کو الوداع کہا، لیکن وہ ایک ایسی گھڑی کا ورثہ چھوڑ گیا جو آج بھی دنیا بھر میں شاہانہ شان کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ یہ تھی رولیکس کی کہانی—ایک غریب لڑکے کی محنت، لگن، اور جنون کی کہانی۔
اگر آپ کو یہ کہانی پسند آئی ہے، تو اس ویڈیو کو ضرور دیکھیں: How A Poor Boy Created Rolex۔























