سابق صدر آصف زرداری سے مولانا فضل الرحمان کی ملاقات کی اندرونی کہانی

پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری سے سربراہ جے یوآئی (ف) مولانا فضل الرحمان نے ملاقات کی، مولانا فضل الرحمان نے آصف زرداری کی عیادت کی اور ملک کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔ تفصیلات کے مطابق جمیعت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سابق صدر آصف زرداری کی عیادت کرنے ضیاء الدین ہسپتال پہنچے، جہاں پر دونوں رہنماؤں میں ملاقات ہوئی ، ملاقات میں موجودہ سیاسی صورتحال اور آئندہ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
جمیعت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے احتجاجی تحریک کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے دل لاہورسے تحریک آغازکر رہے ہیں۔ 19مارچ کولاہور میں آئین پاکستان کانفرنس ہوگی۔چاروں صوبوں میں کنونشنز منعقد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ میں قوم کی ترجمانی ہوئی۔ ہم نے ہمت نہیں ہاری ہم آزادی مارچ سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔


انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کیلئے دروازے بند نہیں ہوئے۔ ن لیگ اور پیپلزپارٹی اپنے حجم کے مطابق ساتھ دیتی تو صورتحال مختلف ہوتی، دونوں جماعتوں نے ہمارا علامتی ساتھ دیا۔ عوام میں مایوسی پیدا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آٹا نہیں مل رہا، صدر کہتے ہیں ان کومعلوم نہیں ہے۔ ملک میں مہنگائی عروج پر ہے لیکن وزراء قوم کا تمسخراُڑا رہے ہیں۔
ایک وزیر کہتا لوگ کھانا کھا رہے۔ واضح رہے جمیعت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی صدارت میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں محمود خان اچکزئی، حاصل بزنجو، آفتاب شیرپاؤ اور اکرم درانی شریک ہوئے۔ اجلاس میں حکومت مخالف تحریک اوراپوزیشن کی حکمت عملی پرغورکیا گیا۔ اجلاس میں مسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی کی پالیسیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ آئندہ پیپلزپارٹی اورن لیگ سے مشاورت جاری رکھنے یا نہ رکھنے کے حوالے سے بھی لائحہ عمل تیار کیا گیا۔