ڈرامہ سیریل ’میرے پاس تم ہو‘ کی مقبولیت ’گیم آف تھرونز‘ کی مقبولیت سے زیادہ

آئی ایم ڈی بی (انٹرنیٹ مووی ڈیٹا بیس) کی رینکنگ میں ڈرامہ سیریل ’میرے پاس تم ہو‘ کی مقبولیت کا انداز اس سے ہو سکتا ہے کہ یہ ’گیم آف تھرونز‘ کی مقبولیت سے زیادہ دور نہیں ہے-پاکستان کی شوبز انڈسٹری کے لیے سال 2019 بہت اچھا رہا۔ رواں برس نہ صرف کئی ڈراموں نے مقبولیت کی حدوں کو چھوا بلکہ لاتعداد فلمیں بھی بنیں۔
چھوٹے بجٹ میں بننے والی ڈیڑھ گھنٹے کی فلم ’لال کبوتر‘ نے بین الاقوامی سطح پر کامیابی کے نئے ریکارڈز قائم کیے۔ سرمد کھوسٹ کی فلم ’زندگی تماشا‘ نے انٹرنیشنل فلم بوسان میں کِم جی سیوک ایوارڈ جیتا۔
اس سال جو فلمیں ریلیز ہوئیں ان میں ’گم‘، ’جیک پاٹ‘، ’لال کبوتر‘، ’شیردل‘، ’غازی‘، ’جنون‘، ’عشق‘، ’چھلاوا‘، ’رانگ نمبر2‘، سائیکو لوجیکل تھرلر ’کتاکشا‘، ’باجی‘، ’ریڈی سٹیڈی نو‘، ’تم ہی تو ہو‘، ’تیو‘، ’ہیرمان جا‘، ’پرے ہٹ لو‘، ’سپرسٹار‘، ’دال چاول‘، ’درج‘، ’کاف کنگناں‘، ’تلاش‘ اور ’سچ‘ شامل ہیں۔ان فلموں کا مجموعی طور پربزنس کچھ اس طرح رہا: ’رانگ نمبر‘ 22 کروڑ، ’چھلاوا‘ 15 کروڑ، ’شیر دل‘ 13 کروڑ، ’باجی‘ 12 کروڑ اور’ہیرمان جا‘ نے 11 کروڑ، ’سپرسٹار‘ 28 کروڑ اور ’پرے ہٹ لو‘ نے 27 کروڑ روپے کا بزنس کیا۔
اردو پنجابی کے علاوہ پشتو فلمیں بھی ریلیز ہوئیں۔ لاہور کے چند فلم میکرز نے سنگل سکرین سینما گھروں کے لیے کم بجٹ والی چند فلمیں بھی پروڈیوس کیں۔
فلم ’لال کبوتر‘ کے ساتھ ساتھ فلم ’باجی‘ کو بھی بین الاقوامی پذیرائی ملی-شمعون عباسی کی ڈائریکشن میں بننے والی فلم ’درج‘ اوربطور ڈائریکٹر خلیل الرحمان قمر کی پہلی فلم ’کاف کنگنا‘ کی ریلیز سے قبل حسب روایت غیر معمولی تشہیر کی گئی لیکن ریلیز کے بعد یہ فلمیں وہ کمال نہ کر سکیں جس کی توقع کی جا رہی تھی۔

جن ڈراموں کوبہت زیادہ ریٹنگ ملی ان میں ’رانجھا رانجھا کردی‘، ’میرے پاس تم ہو‘، ’الف‘، ’عہد وفا‘، ’دو بول‘، ’خاص‘، ’میرآبرو‘، ’سنو چندا 2‘، ’عشق زہے نصیب‘ اور ’یاریاں‘ شامل ہیں۔
اگر ہم یہ کہیں کہ ’رانجھا رانجھا کردی‘ اور ’میرے پاس تم ہو‘ نے کامیابی کے ریکارڈز قائم کئے تو بے جا نہ ہوگا۔
’چیخ‘، ’آنگن‘، ’کیسا ہے نصیبا‘، ’اسیر محبت‘، ’دیدن‘، ’مریم پریرا‘ نے ڈرامہ شائقین کو اپنے سحرمیں مبتلا رکھا۔
آئی ایم ڈی بی (انٹرنیٹ مووی ڈیٹا بیس) کی رینکنگ میں ڈرامہ سیریل ’میرے پاس تم ہو‘ کی مقبولیت کا انداز اس سے ہو سکتا ہے کہ یہ ’گیم آف تھرونز‘ کی مقبولیت سے زیادہ دور نہیں ہے۔فلموں اور ٹی وی ڈراموں کا موازنہ کیا جائے تو یقیناً اس برس ڈرامہ انڈسٹری فلم انڈسٹری سے کافی آگے رہی ہر گھر میں ہرڈرامہ دیکھا گیا، لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ فلمیں اچھی نہیں بنیں، فلمیں اچھی بنیں اور مختلف موضوعات پر بنیں، لیکن فلمیں بننے کا تناسب کافی کم رہا جسے بڑھائے جانے کی ضرورت ہے۔
اگر پاکستانی سینما گھروں میں انڈین فلمیں نہیں لگ رہیں تو پھر ہمیں اپنی فلموں کی تعداد بڑھانی پڑے گی تاکہ شائقین بوریت کا شکار نہ ہوں۔
میوزیشن ساحرعلی بگا کو اس برس ملنے والی کامیابیوں کا تناسب پچھلے تمام برسوں سے زیادہ رہا۔ او ایس ٹی (اوریجنل ساﺅنڈ ٹریک) انڈسٹری میں خاصی ہلچل رہی۔ ڈراموں کے گانے خصوصی طور پر سپر ہٹ رہے جس میں ’میرے پاس تم ہو‘، ’جا تجھے معاف کیا‘ اور’اجے نئیں تیرا دل ٹُٹیا‘ قابل ذکر ہیں۔
ماہرہ خان اور مہوش حیات کو ہر پلیٹ فارم پر خاصی پذیرائی ملی یہاں تک کہ یہ دونوں ’جازب نظر خواتین‘ قرار پائیں۔ اسی طرح علی ظفر کو بھی ’جازب نظر مرد‘ قرار دیا گیا۔اس سال پرڈیوسرز نے ڈیجیٹل میڈیا پرکافی کام کرنے کی کوشش کی انٹرنیشنل ڈیجیٹیل پلیٹ فارم پر ایمازون اور نیٹ فلیکس کواپروچ کر کے ان کے ساتھ معاہدے کرنے کی کوششیں کیں، لیکن یہ کوششیں پایہ تکمیل تک نہ پہنچیں۔ تاہم امید ہے کہ اگلے سال وہ اس میدان میں کامیابی حاصل کریں گے۔
اس برس بڑی تعداد میں ویب سیریز بھی بنیں۔ یوٹیوب چینلز پر ہر طرح (سنجیدہ ،ہارر، کامیڈی) کا کام کیا گیا۔

پاکستانی فنکاروں نے اس برس انڈیا میں بالکل کام نہیں کیا نہ ہی انڈین مواد پاکستان میں چلایا گیا، اس برس ایک ایسا وقت بھی آیا کہ فلمیں نئی بن نہیں رہیں تھیں تو کئی سینما گھروں میں اسی سال بنی ہوئی فلموں کو دوبارہ نمائش کے لیے لگایا گیا۔
پاکستانی ڈائریکٹروں کی ڈاکومنٹریز انٹرنیشنل فلم فیسٹیولزمیں گئیں اور ایوارڈز جیتے ان میں’انڈس بلیوز‘ کا نام قابل ذکر ہے۔
اس سال اینٹرٹینمنٹ انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی جو شخصیات اس دنیا کو چھوڑ گئیں ان میں موسیقار نیازاحمد، نغمہ نگار نثار ناسک، اداکارعابد علی، ذہین طاہرہ، ہمایوں گیلانی، روحی بانو، گلاب چانڈیو، ڈائریکٹر ثاقب صدیقی، ٹی وی کے معروف ڈائریکٹرعاطف حسین، ڈاکٹرجمیل جالبی کے نام شامل ہیں۔اس برس کچھ جوڑے شادی کے بندھن میں بندھے۔ جن میں حمزہ علی عباسی اور ماڈل نیمل خاور، میرا سیٹھی اور ماڈل ثناء سرفراز کا نام قابل ذکر رہا۔
اسی طرح سے اینٹرٹینمنٹ انڈسٹری سے جڑے لوگوں کے سکینڈلز نے دھوم مچائی جن میں رابی پیرزادہ اور فاطمہ سہیل/محسن عباس قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ ڈرامہ انڈسٹری کی فیورٹ جوڑی آمنہ شیخ اورمحب مزرا کا محبت کا تعلق علیحدگی تک پہنچا۔
بشری انصاریٰ اور ڈائریکٹر اقبال حسین کے شادی کے بندھن میں بندھنے کی خبریں گردش کرتی رہیں۔ آمنہ کنول- ’’اردو نیوز