
ڈاکٹر باری کی قیادت میں انڈس ہسپتال: پاکستان میں مفت اور معیاری صحت کی ایک کامیاب داستان

کراچی کے کورنگی علاقے میں 2007 میں صرف 150 بستروں کے ساتھ قائم ہونے والا انڈس ہسپتال آج پاکستان بھر میں لاکھوں افراد کو مفت اور معیاری صحت کی خدمات فراہم کر رہا ہے۔ یہ ہسپتال اب انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک (IHHN) کا حصہ بن چکا ہے، جو ملک بھر میں صحت کی سہولیات کا ایک وسیع نیٹ ورک ہے۔ اس کامیاب سفر کی بنیاد ڈاکٹر بشیر باری اور دیگر معالجین، مخیر حضرات اور کاروباری شخصیات نے رکھی، جن کا خواب پاکستان میں صحت کے شعبے کو بدلنا تھا۔
ابتدا اور ترقی:
انڈس ہسپتال کا آغاز کراچی کے کورنگی علاقے میں ایک چھوٹے سے ہسپتال کے طور پر ہوا، جو ایک پسماندہ علاقے میں صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے وقف تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ، یہ ادارہ ایک قومی نیٹ ورک میں تبدیل ہو گیا، جس میں ہسپتالوں کے علاوہ بلڈ بینک، جسمانی بحالی مراکز اور دیگر صحت کی سہولیات شامل ہیں۔
مفت علاج کی فراہمی:
IHHN کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ یہ پاکستان بھر میں لاکھوں مریضوں کو مفت اور اعلیٰ معیار کی صحت کی خدمات فراہم کرتا ہے۔ اس نیٹ ورک کے تحت 12 سیکنڈری اور ٹرشری کیئر ہسپتال، 4 ریجنل بلڈ سینٹرز، 3 جسمانی بحالی مراکز، اور پاکستان کا سب سے بڑا پیڈیاٹرک آنکولوجی یونٹ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، IHHN کے تحت 100 سے زائد پرائمری کیئر سہولیات بھی کام کر رہی ہیں۔
عوامی صحت کے منصوبے:
IHHN صرف علاج تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ عوامی صحت کے متعدد منصوبوں پر بھی کام کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، یہ نیٹ ورک سندھ حکومت اور دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے تاکہ اس کے اثرات کو مزید وسیع کیا جا سکے۔
بین الاقوامی تعاون:
انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کی کامیابی میں بین الاقوامی شراکت داروں کا بھی اہم کردار ہے۔ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور دیگر ممالک کے ادارے IHHN کے ساتھ مل کر پاکستان میں صحت کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر بشیر باری کا ویژن:
ڈاکٹر بشیر باری، جو انڈس ہسپتال کے بانیوں میں سے ایک ہیں، کا ویژن ایک ایسا صحت کا نظام قائم کرنا ہے جو معیاری، ہمدردانہ، مفت اور ہر کسی کے لیے قابل رسائی ہو۔ ان کی قیادت میں IHHN نے پاکستان میں صحت کے شعبے میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔
آخر میں:
انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کی کہانی نہ صرف پاکستان میں صحت کے شعبے کی ترقی کی عکاس ہے، بلکہ یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ جب عزم اور محنت ہو تو خوابوں کو حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر بشیر باری اور ان کی ٹیم کی کوششوں کو سلام پیش کرتے ہوئے، ہم امید کرتے ہیں کہ یہ سفر اسی طرح جاری رہے گا اور پاکستان میں صحت کا معیار مزید بہتر ہوگا۔
یہ کہانی نہ صرف انڈس ہسپتال کی کامیابی کو اجاگر کرتی ہے، بلکہ یہ ڈاکٹر بشیر باری جیسے رہنماوں کی قیادت اور عوامی خدمت کے جذبے کو بھی خراج تحسین پیش کرتی ہے۔























