کراچی میں نیگلیریا سے 2025ء کی پہلی موت: احتیاطی تدابیر اور علاج کی اشد ضرورت

کراچی میں نیگلیریا سے 2025ء کی پہلی موت: احتیاطی تدابیر اور علاج کی اشد ضرورت

کراچی: سال 2025 کا پہلا کیس سامنے آتے ہی شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ گلشن اقبال کی رہائشی 36 سالہ خاتون کا انتقال دماغ کھانے والے جرثومے نیگلیریا فاولری (Naegleria fowleri) کے باعث ہوا۔ محکمہ صحت سندھ کے مطابق، خاتون کو 19 فروری کو نجی اسپتال لایا گیا، جہاں ٹیسٹ کے بعد 24 فروری کو نیگلیریا کی تصدیق ہوئی۔ تاہم، علاج کے باوجود وہ 23 فروری کو انتقال کر گئیں۔

نیگلیریا کیا ہے؟
نیگلیریا فاولری ایک مائیکروسکوپک جرثومہ ہے جو گرم اور تازہ پانی میں پایا جاتا ہے۔ یہ جرثومہ ناک کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو کر دماغ تک پہنچتا ہے اور دماغ کے خلیات کو تباہ کر دیتا ہے۔ اس بیماری کو “پرائمری امیبی میننگو اینسفلیٹس” (PAM) کہا جاتا ہے، جو انتہائی مہلک ثابت ہوتی ہے۔

علامات کیا ہیں؟
نیگلیریا کی ابتدائی علامات میں شدید سر درد، بخار، متلی، اور گردن میں اکڑاؤ شامل ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ مریض کو تشنج، ہوش کھو دینا، اور کوما جیسی شدید علامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ زیادہ تر کیسز میں، تشخیص کے بعد مریض کی موت چند دنوں میں ہو جاتی ہے۔

علاج کی کیا صورتحال ہے؟
نیگلیریا کا علاج انتہائی مشکل ہے، کیونکہ یہ بیماری تیزی سے پھیلتی ہے۔ تاہم، کچھ اینٹی فنگل ادویات جیسے ایمفوٹیریسین بی (Amphotericin B) کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، مریض کو انتہائی نگہداشت (ICU) میں رکھا جاتا ہے، جہاں اس کی علامات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاہم، اب تک اس بیماری کا کوئی مستند علاج دستیاب نہیں ہے۔

احتیاطی تدابیر کیا ہیں؟
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ نیگلیریا سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے۔ ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ نہاتے وقت ناک میں پانی جانے سے بچا جائے۔ خاص طور پر گرمیوں کے موسم میں جب پانی کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے، اس جرثومے کے پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

پانی کو کلورینیشن کیوں ضروری ہے؟
محکمہ صحت کے مطابق، پانی کو کلورینیشن کے عمل سے گزارنا نیگلیریا کے جرثومے کو مارنے کا ایک موثر طریقہ ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ صاف اور کلورین شدہ پانی استعمال کریں۔ گھروں میں زیرِ زمین ٹینکوں اور اوورہیڈ ٹینکوں کو باقاعدگی سے صاف کیا جائے اور ان میں کلورین ڈالی جائے۔

عوام کو کیا کرنا چاہیے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام کو چاہیے کہ وہ سوئمنگ پولز، جھیلوں، اور تالابوں میں تیراکی سے گریز کریں۔ اگر تیراکی ضروری ہو تو ناک کو بند رکھنے والے کلپس یا خصوصی پلگ استعمال کریں۔ اس کے علاوہ، گھروں میں شاور کے استعمال کے دوران بھی ناک میں پانی جانے سے بچنے کی کوشش کریں۔

حکومتی اقدامات کی ضرورت
صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو نیگلیریا کے خلاف بڑے پیمانے پر آگاہی مہم چلانی چاہیے۔ پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے اور کلورینیشن کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں، اسپتالوں میں نیگلیریا کے مریضوں کے لیے خصوصی علاج کی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔

عوام کی ذمہ داری
ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام کو بھی اپنی صحت کے معاملے میں سنجیدہ ہونا چاہیے۔ پانی کے ذرائع کو صاف رکھنے اور کلورینیشن کے عمل کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اگر کسی کو بھی نیگلیریا کی علامات محسوس ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

آخر میں
نیگلیریا جیسے مہلک جرثومے سے بچاؤ کے لیے احتیاط اور آگاہی ہی سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ حکومت اور عوام دونوں کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ ہر شہری کو چاہیے کہ وہ اپنے اردگرد صفائی کا خیال رکھے اور پانی کے محفوظ استعمال کو یقینی بنائے۔ صرف احتیاط ہی ہمیں نیگلیریا جیسے خاموش قاتل سے بچا سکتی ہے۔