
احمد فرید
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تمام عرب برادر اسلامی ممالک سے گزشتہ پون صدی پر محیط دوستانہ تعلقات ہیں بالخصوص سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات سے پاکستان کی برادرانہ سانجھ دہائیوں پر مشتمل بے مثال دوستی کی آ ئینہ دار ہے۔ تمام مسلم ممالک بالخصوص عرب برادر ممالک پاکستان کے ایٹمی پروگرام پربجا طور پر فخر کرتے ہیں۔ اور دامے درمے سخنے پاکستان کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے دل و جان سے پاکستان کے شانہ بشانہ ہیں۔
وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کی عربی ادب سے دلچسپی اور زبان و بیان پر عبورکی صلاحیت نے مذکورہ عرب ممالک کے حکمرانوں اور عوام کو نہ صرف پاکستان کے عوام سے قریب تر کر رکھا ہے بلکہ محبت، اخوت اور برادرانہ اشتراک عمل کی نت نئی مثالیں قائم ہو رہی ہیں، سعودی عرب اور قطری شاہی خاندان، شریف فیملی سے دوستی کی نسبت سے ہمیشہ پاکستان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اور ہمہ وقت پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زید النہیان صاحب شہباز شریف کو اپنا بھائی قرار دیتے ہیں اور پاکستان کے لیے انتہائی کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔ میاں شہباز شریف نے اپنے حالیہ دورہ متحدہ عرب امارت کے دوران متحدہ عرب امارات کے صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کی اور پاکستان آنے کا وعدہ کیا اور اسی وعدے کی بجا آوری کے لیے متحدہ عرب امارات کے صدر کی خصوصی ہدایت پر ابوظہبی کے ولی عہد اور ابوظہبی ایگزیکٹو کونسل کے چئیر مین شیخ خالد بن محمد بن زید النہیان پاکستان کے سرکاری دورے پر تشریف لائے۔ بطور ولی عہد ابوظہبی شیخ خالد بن محمد بن زید ا لنہیان کا یہ پہلا سرکاری دورہ تھا۔ اس موقعہ پر معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ نور خان ائیر بیس پر صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے معزز مہمانوں کا استقبال کیا جبکہ اس موقع پر خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری بھی موجود تھیں۔
ولی عہد ابوظہبی شیخ خالد بن محمد زید النہیان وزیر اعظم ہاؤس تشریف لائے تو اس موقع پر پا ک فوج کے چاک و چابند دستوں نے معزز مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا جبکہ اس موقع پر دونوں ملکوں کے قومی ترانے بجائے گئے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور شیخ خالد بن محمد بن زید النہیان کے درمیان ملاقات ہوئی اور دونوں رہنماؤں کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ د ینے اور اسٹرٹیجک شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے مزید براں اقتصادی اور ترقیاتی شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے کے مواقع تلاش کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ اس موقع پرشیخ خالد بن محمد بن زید النہیان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے درمیان شراکت داری ایک منفرد اور مضبوط ماڈل ہے جو ریلوے نیٹ ورک کی توسیع، قدرتی وسائل کی تلاش اور مالیاتی شعبے میں سرمایہ کاری جیسے اہم منصوبوں کے ذریعے پائیدا رقتصادی ترقی کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور ولی عہد ابو ظہبی شیخ خالد بن محمد بن زید النیہان کی موجودگی میں مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے معاہدوں پر دستخط کیے گئے ان معاہدوں میں ریلوے، معدنیات، مالیاتی خدمات اور اقتصادی زون کے قیام سے متعلق اہم منصوبے شامل ہیں۔ اس موقع پر اتحاد ریل اور پاکستان کی وزارت ریلوے کے درمیان ایک مفاہمتی یاداشت پر دستخط کیے گئے جس کا مقصد پاکستان کے موجودہ ریلوے نیٹ ورک کی آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانا اور نئے ریلوے نیٹ ورک کا قیام ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک میں سفری سہولیات کو بہتر بنانا نقل و حمل کو مزید موثر بنانا اور معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے اسی طرح معدنیات کے شعبے میں ایک مشترکہ منصوبہ بھی طے پایا۔جس کے تحت انٹر نیشنل ریسورسز ہولڈنگ (آئی۔ آر۔ ایچ) جو ٹو پوائنٹ زیرو کا ذیلی ادارہ ہے ان کے اور مری انرجیز کے درمیان ایک معاہدہ ہوا اس معاہدے کے تحت بلوچستان کے چاغی ضلع میں تانبے اور سونے کی مشترکہ تلاش کا منصوبہ شروع کیا جائے گا جو دونوں ممالک کے درمیان صنعتی ترقی اور معدنی وسائل کے بہتر استعمال کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ فنانشل سیکٹر میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے ایک معاہدہ طے پایا جس کے تحت ریسورسز ہولڈنگ فرسٹ ویمن بینک کے 82.64فیصد شئیر حاصل کریگی۔ یہ معاہدہ حکومت پاکستان کے نجکاری پروگرام کا حصہ ہے جس کا مقصد مختلف شعبو ں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور معیشت کو مزید مستحکم بنانا ہے۔
مزید برآں اے ڈی پورٹس گروپ اور پاکستان بورڈ آف انویسٹمنٹ کے درمیان ایک مفاہمتی …























