موبائل کا ضرورت سے زیادہ استعمال ، ایئربڈز اور ہینڈز فری سے نکلنے والی شعاعیں سماعت کو متاثر کرنے کا باعث بن رہی ہیں ، پروفیسر ڈاکٹر زیبا احمد

موبائل کا ضرورت سے زیادہ استعمال ، ایئربڈز اور ہینڈز فری سے نکلنے والی شعاعیں سماعت کو متاثر کرنے کا باعث بن رہی ہیں ، پروفیسر ڈاکٹر زیبا احمد

ایک سال میں سول اسپتال میں کان کی سوزش ( سی ایس اوایم )کے 100 مریضوں کی سرجری کی گئی

کراچی: پروفیسر ڈاکٹرزیبا احمد نے کہا ہے کہ پان ، چھالیہ ، گٹکا ، نشہ آور اشیا کے علاوہ موبائل کا ضرورت سے زیادہ استعمال اور بلیوٹوتھ، ایئربڈز اور ہینڈز فری سے نکلنے والی شعاعیں سماعت کو متاثر کرنے کا باعث بن رہی ہیں،ٹریفک کا بے ہنگم شور بھی ایک آلودگی ہے جس کے خاتمے کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے ، یہ باتیں انہوں نے سماعت کے عالمی دن کی مناسبت سے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور ڈاکٹر رتھ کے ایم فاؤ سول اسپتال کے اشتراک سے منعقد ہ سیمینارمیں کہیں، جس کا انعقاد سول اسپتال کے ای این ٹی ڈپارٹمنٹ یونٹ –ون میں ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ پروفیسر ڈاکٹر زیبا احمدکی صدارت میں ہوا،سیمینار میں ڈاکٹر طارق زاہد خان، ڈاکٹر تہمینہ جنید، ڈاکٹر صدف ضیا سمیت فیکلٹی ، پوسٹ گریجویٹ ٹرینیز اور طلبا کی بڑی تعداد شریک ہوئی، اس موقع پر سول اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹرخالد بخاری، اور پرنسپل ڈاؤ میڈیکل کالج پروفیسر صبا سہیل نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی، سیمینار کے دوران ای این ٹی ریذیڈنٹس نے کان کی مختلف بیماریوں ،

ان کی تشخیص و علاج پر مبنی موضوعات پر گفتگو کی، سیمینار کے دوران سول اسپتال میں گزشتہ ایک برس کے دوران کان کی سوزش( سی ایس او ایم) کے سرجیکل علاج کے اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے،سیمینار میں بتایا گیا کہ جنوری 2024 سے یکم مارچ 2025 تک سول اسپتال کراچی میں سی ایس اوایم کے 100 مریضوں کی سرجری کی گئی، جن میں سے 69 فیصد یونٹ –ون اور 31 فیصد یونٹ –ٹومیں کی گئیں،سیمینار میں یہ بھی بتایا گیا کہ کان میں درد یا سوزش کے علاج میں تاخیر کی وجہ سے سرجری کی ضرورت پیش آتی ہے اورکچھ کیسز میں مریض سماعت سے مکمل طور پر محروم ہوجاتا ہے کیونکہ وہ اپنی بیماری کے آخری اسٹیج پر ڈاکٹر سے رجوع کرتا ہے جس کے باعث اسے پھرآلہ سماعت کا سہارا لینا پڑتا ہے، سماعت کے عالمی دن کے موقع پر گفتگوکرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر زیبا احمد نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے سماعت کا عالمی دن سب سے پہلے 2007 میں منایا گیا تھا، ڈاکٹر زیبا احمد نے کہا کہ یہ دن دنیا بھر میں سماعت کی دیکھ بھال کی سہولیات کی یاد دہانی ہے جو امراض سے بچاؤ، تھراپی کے ساتھ ساتھ سماعت کو محفوظ رکھنے کے لیے ری ہیبی لیٹیشن کے طریقہ کار پر توجہ مرکوز کرتا ہے، یہ سماعت اور ہیئرنگ کیئر کے مقصد کے لیے یہ ایک انتہائی اہم دن ہے، پروفیسر زیبا نے کہا کہ میں اس بات پر زوردیتی ہوں کہ یہ ہیئرنگ کیئر جو ڈبلیو ایچ او کی جانب سے کی جارہی ہے احتیاطی تدابیر کے حوالے سے بالکل درست ہے، ان کا کہنا تھا کہ ان احتیاطی تدابیر کاآغازگھر سے ہوتاہے، انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے تربیت کا آغاز گھر سے ہوتا ہے، ڈاکٹر زیبا کا کہنا تھا کہ سماعت متاثر ہونےکی بہت سی وجوہات ہیں جیسا کہ خسرے کی وجہ سے نوزائیدہ بچوں میں پیدائشی نقائص ہوجاتے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ بچوں میں سانس کی اوپری نالی میں بھی انفیکشن سے سماعت متاثر ہوتی ہے،انہوں نے مزید بتایا کہ جلد کی دائمی بیماری کی وجہ سے بھی کان کا پردہ متاثر ہوتا ہے جس کے نتیجے میں کولی اسٹیٹوما نامی بیماری پیدا ہوتی ہے، بعدازاں سول اسپتال کے ای این ٹی وارڈ سے لے کر ڈاؤ میڈیکل کالج کے کلاک ٹاور تک آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا،واک کےاختتام پر ڈاکٹر صبا سہیل کی قیادت میں ورلڈ ہیئرنگ ڈے کی تھیم کی مناسبت سے جامنی رنگ کے غبارے فضا میں چھوڑے گئے ۔