نئی نہریں نکالنے پر سندھ میں تشویش

عزیز سنگھور

گرین پاکستان انیشی ایٹو منصوبے کے تحت دریائے سندھ سے چولستان کینال سمیت چھ دیگر نئی نہریں نکالنے کی تجویز پر سندھ میں تشویش پائی جاتی ہے۔
گرین پاکستان منصوبے پر سندھ میں شدید اعتراضات پائے جاتے ہیں، کیونکہ سندھ کے عوام اور ماہرین کا خیال ہے کہ اس کینال کی تعمیر سے پہلے سے پانی کی قلت کے شکار سندھ کو مزید نقصان ہوگا۔
خاص طور پر خشک سالی اور ڈاؤن اسٹریم کوٹڑی میں پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے۔ چولستان کینال سے مزید پانی نکالنے سے یہ بحران مزید شدید ہو جائے گا۔
سندھ کی زراعت کا انحصار دریائے سندھ پر ہے۔ اگر چولستان کینال کے ذریعے پانی پنجاب منتقل کیا گیا تو سندھ کے کاشتکاروں کو پانی کی شدید کمی کا سامنا ہوگا، جس سے زراعت متاثر ہوگی۔
پانی کی کمی کے باعث نہ صرف دریائے سندھ کے ڈیلٹا پر منفی اثرات مرتب ہوں گے بلکہ سمندری پانی اندر داخل ہو کر سندھ کے ساحلی علاقوں (خصوصاً ٹھٹھہ اور بدین) میں زرخیز زمینوں کو مزید بنجر بنا سکتا ہے۔
خیال رہے کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کا قیام شہباز شریف کی حکومت کی مرہون منت ہے جبکہ اس ادارے کے قیام پر صدر آصف علی زرداری کا بڑا ہاتھ ہے۔
اب تک جو منصوبے سامنے آئے ہیں، ان میں زیادہ تر پنجاب میں ترقیاتی کاموں پر مرکوز ہیں جبکہ سندھ اور بلوچستان کے خدشات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔جس کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہی صورتحال رہی، تو کیا سندھ کے عوام اور قیادت کو مزید مزاحمت کرنی چاہیے؟


یہ معاملہ مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے، اور اگر اسے شفاف طریقے سے حل نہ کیا گیا تو سندھ اور پنجاب کے درمیان مزید بداعتمادی پیدا ہو سکتی ہے۔
گرین پاکستان انیشی ایٹو کو ماحولیاتی تحفظ اور جنگلات کی بحالی کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن جیسے جیسے اس منصوبے کی تفصیلات سامنے آ رہی ہیں، اس پر بھی سی پیک کی طرح پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے مفادات سے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں۔
گرین پاکستان کے تحت بڑے پیمانے پر زمینیں، جنگلات اور ماحول دوست منصوبوں کے لیے مختص کی جا رہی ہیں، جن میں زیادہ تر زمینیں پہلے ہی حساس یا متنازعہ ہیں۔

سندھ کے قوم پرست حلقے بار بار اس منصوبے کو “ماحولیاتی قبضہ” قرار دے رہے ہیں، لیکن ان کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی جو کبھی عوامی اور انقلابی سیاست کی دعویدار تھی، اب ایک جاگیردارانہ، مڈل کلاس اور اشرافیہ کی جماعت بن چکی ہے۔
آج کی پیپلز پارٹی صرف پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے اقتدار میں رہنے کی سیاست کر رہی ہے۔
سندھ میں گزشتہ کئی دہائیوں سے پیپلز پارٹی حکومت میں ہونے کے باوجود سندھ میں تعلیم کا برا حال ہے۔ صحت کے شعبے میں زبوں حالی ہے۔ غربت اور بیروزگاری بڑھ چکی ہے۔ جاگیرداروں کا قبضہ اور استحصال مزید مضبوط ہو گیا ہے۔
یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ یہ جماعت اب عوامی مفادات کی نمائندہ نہیں رہی، بلکہ ایک “ریاستی اشرافیہ” کا حصہ بن چکی ہے جو صرف اپنے اقتدار کے دوام کے لیے کام کر رہی ہے۔
کارل مارکس نے جو “مڈل کلاس” کے بارے میں کہا، وہ پاکستان جیسے ممالک میں بالکل درست ثابت ہوتا ہے۔ یہ طبقہ خود امیر طبقے میں شامل ہونے کی خواہش رکھتا ہے، لیکن حقیقت میں محنت کش طبقے سے بھی کٹا ہوا ہوتا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر سندھ کے پانی کے حقوق اور وسائل کو مسلسل نظر انداز کیا گیا تو اس کا براہِ راست اثر سندھ میں علیحدگی پسند تحریکوں کی عوامی مقبولیت پر پڑ سکتا ہے۔ تاریخی طور پر جب بھی کسی قوم یا صوبے کے ساتھ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، سیاسی استحصال یا معیشتی ناانصافی کی گئی، تو وہاں علیحدگی پسند جذبات کو تقویت ملی۔

اگر دریائے سندھ سے مزید پانی نکال کر پنجاب کو دیا گیا اور سندھ کی زراعت مزید تباہی کا شکار ہوئی، تو یہ اقدام سندھ کے عوام میں مزید غصہ اور مایوسی پیدا کردے گا۔
ماضی میں بھی سندھ میں قوم پرست تحریکیں رہی ہیں، لیکن اگر اب معاشی استحصال کے ساتھ ساتھ پانی جیسے بنیادی حق کو بھی سلب کیا گیا

تاریخ بتاتی ہے کہ محرومی، ناانصافی، اور ریاستی جبر قوموں کو بغاوت کی طرف دھکیلتا ہے، اور اگر پانی جیسے بنیادی وسائل پر بھی ڈاکہ ڈالا گیا، تو سندھ میں شدید ردعمل دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
پاکستان پہلے ہی معاشی بحران، دہشت گردی سے نبردآزما ہے۔۔
سندھ کے پانی کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے اور دریائے سندھ سے مزید نہریں نکالنے کا منصوبہ ترک کیا جائے۔
سندھ کی زراعت اور معیشت کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی زراعتی اور صنعتی منصوبے شروع کیے جائیں۔
سندھ میں سیاسی اور قوم پرست جماعتوں کو اعتماد میں لے کر ڈائیلاگ اور مشاورت کا عمل شروع کیا جائے،