
اسلام آباد (فاروق اقدس) یوگنڈا کے شہری مزی ارنسٹوکی کتھا جو سوشل میڈیا میں دلچسپی اور توجہ کی مرکزبنی ہوئی ہے جس کی 16بیگمات، جن میں7سگی بہنیں بھی شامل، اولاد کی سنچری مکمل،144پوتے نواسے جوانی کی عمر میں داخل ہوچکے ، ’’گھریلو آبادی میں اضافے کا ریکارڈ‘‘ 50کے نام یاد ہیں ،باقیوں کو چہرے سے پہچانتا ہوں، 40بچوں سے محروم ہوچکا ہوں مشرقی معاشروں میں کثرت اولاد کو رحمت خداوندی قرار دیتے ہوئے تنگدستی کے باوجود خوشدلی سے قبول کیا جاتا ہے اور اولاد کی خواہش میں کثرت ازدواج سے بھی گریز نہیں کیا جاتا ، تاہم فی الوقت کچھ تذکرہ انفرادی طور پر گھریلو آبادی بڑھانے کے ریکارڈ بنانے کا۔ پاکستان کے مختلف علاقوں سے شاذونادر ہی سہی لیکن جب درجنوں پوتوں نواسوں اور نواسیوں کی شادی میں بیک وقت دادا اور نانا کی حیثیت سے شریک ہونے والی شخصیت کی خبریں شائع ہوتی ہیں تو لوگ حیرت اور تجسس کے ساتھ ان خبروں اور تصاویر کو دیکھتے ہیں
لیکن یہ ذکر ہے یوگنڈا کے ایک چھوٹے سے گائوں کے ایک شہری مزی ارنسٹو (Mzee Ernesto) جن کی شادیوں کی مجموعی تعداد 16، بچوں کی سنچری مکمل کرچکے ہیں جبکہ درجنوں پوتوں پوتیاں بھی جوانی کی عمروں میں داخل ہوچکی ہیں اور جن کی تعداد 144 بتائی جاتی ہے، مزی کا کہنا تھا کہ مجھے اعتراف ہے کہ مجھے سب بچوں کے نام نہیں آتے تاہم یہ بھی اچھی یادداشت ہے کہ مجھے 50 بچوں کے نام یاد ہیں باقیوں کو میں چہروں سے پہچانتا ہوں، بدقسمتی سے میں 40 بچوں سے محروم ہوچکا ہوں جن میں سے کچھ متعدی بیماریوں اور کچھ حادثات کے نتیجے میں جان سے گئے۔ مزی ارنسٹو سوشل میڈیا پر خاصے مقبول ہو رہے ہیں اور ان کی کتھا کو پسندیدگی سے پڑھا جارہا ہے، اپنے مختلف انٹرویوز میں ان کا کہنا ہے کہ میرے والد نے مجھے حکم بھی دیا تھا اور درخواست بھی کی تھی کہ میں خاندان میں اضافہ کرتے جائو چنانچہ میں نے 12 شادیاں کیں جن میں سات سگی بہنیں بھی شامل تھیں۔
https://e.jang.com.pk/detail/859311
==================================
ہینڈ آؤٹ نمبر
چیف منسٹر پاپولیشن مینجمنٹ اینڈ فیملی پروگرام کے تحت یوتھ کانفرنس کا انعقاد
مہمان خصوصی ڈائریکٹر جنرل پاپولیشن ویلفئیر ثمن رائے نے یوتھ کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب
وزیر اعلیٰ پنجاب نے صوبہ کی آبادی میں اضافے کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نوجوانوں کی شرکت اور اہمیت پر زور دیا ہے
حکومت پنجاب نوجوان سفیروں کا ایک نیٹ ورک قائم کرکے برا دریوں میں ر خاندانی منصوبہ بندی کے مقصد کو بہتر انداز میں آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہونگے
یوتھ کانفرنس کے کلیدی مقاصد میں بیداری کیلئے نوجوانوں کو آبادی کے انتظام، خاندانی منصوبہ بندی، اور تولیدی صحت کی اہمیت سے آگاہ کرناہے
نوجوان ہمارے صوبے کا مستقبل ہیں،انہیں علم، مہارت اور رویوں سے بااختیار بناکر مثبت تبدیلی کو تیزی سے آگے بڑھایا جا سکے گا
آبادی کے انتظام، خاندانی منصوبہ بندی، اور تولیدی صحت کے شعبے کے نامور ماہرین نے شرکاء کے ساتھ اپنی بصیرت اور تجربات کا اشتراک کیا
لاہور 06 مارچ۔۔ آبادی کے انتظام کے لیے نوجوان ذہنوں کو بااختیار بنانے کیلئے محکمہ بہبود آبادی پنجاب نے ٹی سی آئی گرین سٹار کے تعاون سے چیف منسٹر پاپولیشن مینجمنٹ اینڈ فیملی پروگرام کے تحت ایف سی سی کالج یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں یوتھ کانفرنس کا انعقاد کیا۔محکمہ کی سالانہ ترقیاتی پرگرام کے تحت منعقد ہونے والی اس کانفرنس کا مقصد آبادی میں اضافے اور صوبے کے وسائل پر اس کے اثرات کے اہم مسئلے سے نمٹنے کے لیے نوجوان ذہنوں کو شامل کرنا مقصود ہے۔
مہمان خصوصی ڈائریکٹر جنرل پاپولیشن ویلفئیر ثمن رائے نے یوتھ کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے صوبہ کی آبادی میں اضافے کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نوجوانوں کی شرکت اور اہمیت پر زور دیا ہے۔انہوں نے کہا نوجوان ہمارے صوبے کا مستقبل ہیں، اور یہ ضروری ہے کہ ہم انہیں علم، مہارت اور رویوں سے بااختیار بنائیں تاکہ مثبت تبدیلی کو تیزی سے آگے بڑھایا جا سکے۔اس کانفرنس کے ذریعے نوجوانوں کو آبادی کے انتظام اور خاندانی منصوبہ بندی کی کوششوں میں شامل کرنے کے لیے ایک وسیع تر اقدام کا آغاز کیاگیا ہے۔ حکومت پنجاب نوجوان سفیروں کا ایک نیٹ ورک قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو اپنی برادریوں میں آبادی کے انتظام اور خاندانی منصوبہ بندی کے مقصد کو بہتر انداز میں آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہونگے۔اس یوتھ کانفرنس کے کلیدی مقاصد میں بیداری کیلئے نوجوانوں کو آبادی کے انتظام، خاندانی منصوبہ بندی، اور تولیدی صحت کی اہمیت سے آگاہ کرنا، نوجوانوں کو ان کی کمیونٹیز میں تبدیلی کے ایجنٹ بننے کے لیے ضروری علم، ہنر اور رویوں سے آراستہ کرنا ہے۔ نوجوانوں کو آبادی کے انتظام اور خاندانی منصوبہ بندی کی کوششوں میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا شامل ہے۔
آبادی کے انتظام، خاندانی منصوبہ بندی، اور تولیدی صحت کے شعبے کے نامور ماہرین نے شرکاء کے ساتھ اپنی بصیرت اور تجربات کا اشتراک کیا۔ اس موقع پر نوجوانوں نے آبادی میں اضافے سے نمٹنے اور خاندانی منصوبہ بندی کو فروغ دینے کے لیے اپنے اختراعی منصوبوں اور خیالات بارے آگاہی بھی دی۔ شرکاء نے آبادی کے انتظام اور خاندانی منصوبہ بندی میں پیش آنے والے چیلنجوں اور مواقع پر مباحثے پیش کئے۔
٭٭٭٭٭























