
نبیل بلوچ
شہید عبداللہ مراد بلوچ وہ درخشاں ستارہ تھے جنہوں نے سیاست کو عوام کے لیے ہمیشہ بطور خدمت استعمال کیا، آج بھی کراچی شہر کے کئی مضافاتی علاقے اس بات کی گواہی دیتے نظر آتے ہیں کہ شہید عبداللہ مراد بلوچ نے اپنی زندگی میں ان پسماندہ علاقوں کے غریب لوگوں کے لیے جس طرح بنیادی سہولیات کی فراہمی کے کام کرائے وہ آج بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں، بالخصوص ملیر اور اطراف کے عوام شہید عبداللہ مراد بلوچ کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کرسکیں گے، آپ جب تک زندہ رہے خود کو عوام کی خدمت کے لیے وقف کیے رکھا۔ شہید عبداللہ مراد بلوچ کی رگوں میں وہ خون شامل رہا ہے جن کے خاندان کے بزرگوں نے امن، محبت اور خدمت کو اپنا شعار بنا رکھا تھا
شہید عبداللہ مراد بلوچ 1959 میں حاجی مراد علی کے ایک انتہائی معزز بلوچ گھرانے میں پہلے بیٹے کے طور پر پیدا ہوئے جن کے آباؤ اجداد نے 19ویں صدی میں ملیر میں صدیق گاؤں آباد کیاتھا۔ خالی جائیداد کے دعوؤں نے ان کی کھیتی کی زمین کو چند ایکڑ تک کم کر دیاتھا جس پر ان کے والد نے اپنے خاندان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے سبزیاں اور پھل بھی اُگائے۔

شہید عبداللہ مراد بلوچ اپنی پیدائش کے علاقے جو اب موجودہ دور میں الفلاح سوسائٹی کہلائی جاتی ہے میں پلے بڑھے جبکہ انہوں نے 1979 میں جامعہ ملیہ کالج سے گریجویشن بھی مکمل کیا۔ انہوں نے اپنی کچھ خاندانی زمین فروخت کرنے کے بعد ایک تعمیراتی فرم ”سلمان گروپ“ کی بنیاد رکھی،اور پھر اپنی محنت اور لگن سے بالکل اس مثال کی مانند آگے بڑھتے چلے گئے کہ آپ دوسروں کے لیے اچھا سوچیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے لیے بھی اچھا ہی کرے گا، انہوں نے اپنے کاروبار میں اپنے خاندان کے ساتھ ساتھ ضرورت مندوں کو بھی شامل کیا اور بہت کشادہ دلی کے ساتھ غریبوں کے لیے بھی اپنی کمپنی کے شیئرز مختص کیے،پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ کی مخلوق کی بھلائی کے لیے شروع کیے جانے والے کاموں میں برکت نہ ہو، یہی کچھ شہید عبداللہ مراد بلوچ کے ساتھ بھی ہوا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کام میں برکت دی اور وہ مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھتے رہے،وہ اُس فرد کی مثال تھے جس کی ہمارے کاروباری، سماجی اور سیاسی عمل میں اشد ضرورت تھی،ایک تعلیم یافتہ اور خود مختارشخصیت کی حیثیت سے انہوں نے عوامی خدمت کی مشکل ترین شکل جو کہ سیاست ہے کے لیے اپنی محنت سے حاصل ہونے والی آسائشوں کو بھی خطرے میں ڈال دیامگر عوامی خدمت کو ہمیشہ ملحوظِ خاطر رکھا۔
شہید عبداللہ مراد نے 1997ء میں حلقہ این اے 196 ملیر سے پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے قومی اسمبلی کے امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑا جبکہ 2002ء میں PS-127 ملیر سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ شہید عبداللہ مراد کی طبیعت میں چونکہ عوامی خدمت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا یہی وجہ ہے کہ ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہونے اور اپوزیشن میں رہنے کے باوجود بھی آپ نے عوامی خدمت کے کاموں میں کوئی کمی نہیں آنے دی، آپ نے خاص طور پر تعلیم اور صحت کے میدان میں بہت زیادہ کام کیا، شہر کے مضافاتی علاقوں میں صحت کے بنیادی مراکز اور درس گاہیں بھی قائم کیں جہاں غریب اور مستحق افراد بلا کسی امتیاز آتے اور استفادہ کرتے، شہید عبداللہ مراد بلوچ نے اپنی انسان دوستی کے باعث لوگوں کے دلوں میں جگہ بنالی تھی اور انہوں نے خدمت خلق کے کاموں کا دائرہ کار مزید پھیلانے کے لیے مختلف سماجی تنظیموں کے ساتھ بھی مل کر کام کیا۔

شہید عبداللہ مراد کے چھ بچے ہیں جن میں چار صاحب زادے اور دو صاحب زادیاں شامل ہیں، سب سے بڑے صاحب زادے سلمان عبداللہ مراد بلوچ نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سیاست کو اپنے لیے عوامی خدمت کے طور پر منتخب کیا اور اسی سفر پر گامزن رہتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر، ڈسٹرکٹ کونسل کراچی کے چیئرمین اور اب پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے ڈپٹی میئر کی حیثیت سے عوامی خدمت کے میدان میں نمایاں نظر آرہے ہیں، ان کے دفتر میں روزانہ کی بنیاد پر عوام کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے، ان کے دفتر کے دروازے بطور ڈپٹی میئر کراچی عوام کے لیے کھلے ہوئے ہیں جہاں عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے اپنی درخواستوں کے ہمراہ رجوع کرتے ہیں اور پھر ڈپٹی میئر کے دفتر سے وہ درخواستیں متعلقہ محکموں کو ضروری کارروائی کے لیے ارسال کردی جاتی ہیں۔
ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد نے ماضی میں بحیثیت چیئرمین ضلع کونسل کراچی اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بالخصوص کراچی کے دیہی علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا وہ سلسلہ آج بھی جاری رکھا ہوا ہے جو ان کے والد شہید نے اپنی زندگی کا نصب العین بنایا ہوا تھا، آج بھی ملیر میں کھیل کے کئی بڑے میدان اور ڈسپنسریاں شہید عبداللہ مراد بلوچ کے نام سے منسوب ہیں اور کام کر رہی ہیں۔
سلمان عبداللہ مراد نے اپنے والد شہید عبداللہ مراد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شہر کے مختلف مقاما ت پر بالعموم اور ملیر سمیت اطراف کے علاقوں میں بالخصوص بیشمار ترقیاتی کام کرائے، ساتھ ہی ساتھ انہوں نے والد کی شہادت کے بعد ”شہید عبداللہ مراد فاؤنڈیشن“ کی بنیاد بھی رکھی جس کا مقصد پاکستان کے کم مراعات یافتہ شہریوں کے تعلیمی مراکزکی بہتری، طبی خدمات، زکوٰۃ اور امداد، کپڑے اور خوراک، کھیلوں کے پروگرام، نوجوانوں اور طالب علموں کی ترقی کے پروگرام، خواتین کو بااختیار بنانے اور ٹیم بنانے کے پروگراموں کے ذریعے خدمت کی فراہمی ہے۔ ”شہید عبداللہ مراد فاؤنڈیشن“کا وژن کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگراموں کے ذریعے محبت، امن، ہم آہنگی، بھائی چارے اور باہمی مصروفیات کو فروغ دینا ہے۔ ”شہید عبداللہ مراد فاؤنڈیشن“کے تحت خوراک، طبی امداد، خشک سالی، سیلاب، تباہی اور قدرتی آفات کے لیے ہنگامی کیمپ بھی قائم کیے جاتے ہیں جس کی حالیہ مثال مظفرآباد اور آواران بلوچستان کے لیے قائم کیے گئے کیمپ تھے۔
2004ء میں عبداللہ مراد بلوچ کو کراچی میں شہید کردیا گیا اور آج 6 مارچ 2025ء کو شہید عبداللہ مراد بلوچ کی 21 ویں برسی ہے، ان کا خاندان، ان کے دوست، ان کا حلقہ اور ان کی پارٹی ایک بہترین انسان سے محروم ہو گئی ہے۔ ملک نے ایک ایسے سیاسی رہنما کو کھو دیا ہے جو ہمارے مستقبل میں اس سے بھی زیادہ قیمتی شراکت کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ شہید عبداللہ مراد بلوچ کی مغفرت اور درجات بلند فرمائے اور ان کی اولاد کے لیے عوامی خدمت کے نقش قدم پر چلنا آسان فرمائے اور ان کی حفاظت فرمائے۔ آمین























