
تحریر
ماریہ اسماعیل
حکومت سندھ اورریلوے پاکستان کی جانب سے تھرڈزرٹ ٹرین سفاری کامقررہ راستہ ایک عمیق ثفافتی اورقدرتی مہم جوئی پیش کرتاہے۔کراچی کی ہلچل سے بھرپورسٹرکوں سے لے کرزیروپوائنٹ کے پرسکون صحرائی مناظرتک اس اس دلچسپ سفرسے تمام سیاح لطف اندوز ہوئے ۔
کراچی کینٹ اسیٹشن سے صبع نوبجے نکلنے والی تھرڈزرٹ ٹرین سفاری کی دوبوگیاں سیاحوں کے لیے جبکہ ایک ڈائننگ کارہیں۔

اس ٹرین میں کراچی سمیت مختلف شہروں سے 80سیاحوں جس میں ایک جرمن خاتون اورنوجوانوں کاایک گروپ بھی

شامل تھا۔کراچی سے کوٹری۔حیدرآباد۔ٹنڈوجام۔ٹنڈوالہیارسے ہوتی ہوئی میرپورخاص پہنچی وہاں سے شادی پلی۔پتھورواورڈھوروناروسے ہوتی ہوئی عمرکوٹ کے علاقے چھورکینٹ پرپہنچی جہاں مقامی مردخصرات اوربچوں نے سیاحوں کاپرتپاک اسقبال کیا

اورپھولوں نچھاورکیے وہاں گانے بجے کااہتمام بھی تھا۔چھوراسیٹشن پرگاڑی تورک گئی مگرسیاحوں کوکوچزکے ذریعے قبضہ پرچی جی دیری فوجی ریزورٹ کاوزٹ کرایا۔جہاں چندنوجوانوں نے رقص کرکے سیاحوں کااسقبال کیا۔وہاں




پرمختلف علاقوں کے مقامی لوگوں نے ثفافتی چیزوں اورکھانے پینے جس چائے اوردیگراشیاشامل ہیں ان کے اسٹال لگے ہوئے تھے یہاں پرعمرکوٹ کی خاص مٹھائی کااسٹال بھی تھاجوہاتھ سے گھی میں بنائی جاتی ہے ۔
یہاں پرسیاحوں کے لیے محفل موسیقی کااہتمام بھی کیاگیاجس میں سندھ کے نامورفنکاروں نے اپنے فن کامظاہرہ کیا۔یہاں پرجوگیوں نے سانپوں کے کرتب بھی دیکھائے جس کودیکھکرسیاح خاص محفوظ رہے

۔ایک 80سال جوگی کاکہناہے کہ وہ نسل درنسل یہ کام کررہے ہیں ۔تھرمیں 170سے زائدسانپ موجود ہیں جن میں کچھ انتہائی زہریلے ہیں ۔مگروہ سب ان کے اشاروں پرناچتے ہیں اورانہوں کافی مقابلے بھی


جیتے اورنیلام گھرمیں مرحوم طارق غریز نے ان کوانعام بھی دیاتھا۔بہرحال رات کاڈنرکرنے کے بعد چھورکینٹ اسیٹشن پرواپس آئے ۔
یہاں آنے والے سیاح جن میں ڈاکٹر۔نوجوان ۔رٹیارٹرفوجی آفیسرکی فمیلی اورجرمن سیاح خاتون سمیت دیگرنے بتایاکہ وہ بہت لطف اندوزہوئے ہیں اورایسالگ رہاہے ہم ایک الگ دنیامیں موجود ہیں




۔انہوں نے کہاکہ صاف ستھری ٹرین ہے۔سیکیورٹی کے بہترانتظام ہیں اورسروس بھی لاجواب ہیں جس سے دل خوش ہوگیاہے ۔ محکمہ سیاحت وثفافت سندھ کے ڈائریکٹر جنرل فیاض علی شاھ کاکہناہے کہ اس ٹرین کامقصد تھرکے صحراکے حوالے سے لوگوں کوآگاہی دیناہے۔اس ٹرین میں میں سفرکے ساتھ رات کے قیام کابندوبست ۔دودنوں کاکھاناسمیت سیکیورٹی کے بہتر انتظام ہیں ۔ان کاکہناتھاسندھ حکومت اس سفرپرسبسڈی دے کرشروع میں 32ہزارروپے مقررکیے ہیں جبکہ بچوں کے لیے 16ہزارہے ۔ڈائریکٹرکاکہناہے ہم جب لوگوں کی دلچسپی دیکھیں گے توہوسکتاہے کرایہ کم کردے ۔




صبع ساڑھے سات بجے ٹرین اپنی اگلی منزل زیروپوائنٹ کے لیے روانہ ہوئی ۔ہم سب سے پہلے کھوکھرپاراپہنچے وہاں پربچوں سمیت دیگرنے سیاحوں کاہاتھ لہراکراسقبال کیا۔اس کے بعد ٹرین کی آخری منزل زیروپوائنٹ جوانڈیاکے بارڈ کے قریب ہے چنددن قبل اس کانام تبدیل کرکے ماروی رکھاگیاہے۔یہاں پرسندھ رینجرز کے آفیسرز اورنوجونواں نے سیاحوں کااسقبال کیااورپاکستان اورانڈیاکے بارڈکے حوالے بریفگ دی ۔انہوں مہمانوں کی چائے سمیت دیگراشیاسے تواضع کیا۔تھرڈزرٹ ٹرین سفری وہاں سے کراچی کے لیے روانہ ہوگئی رات کے ساڑھے سات بجے یہ کراچی کے کینٹ اسیٹشن پرپہنچی گئی ۔یہ اس سفرکادوسراراؤنڈ تھاجو26فروری سے 27تک تھااس کاتیسراراؤنڈ 13اگست سے 14اگست تک ہوگا۔اس ٹرین کاافتتاح 8فروری کوصوبائی وزیرسیاحت وثفافت ذوالفقارعلی شاھ نے کیاتھا۔























