پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں رکاوٹ: امریکی اقدامات کے اثرات

پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں رکاوٹ: امریکی اقدامات کے اثرات

پولیو جیسے مہلک مرض کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر کی جانے والی کوششوں کو ایک نئی رکاوٹ کا سامنا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ کی جانب سے فنڈز میں کمی کو فوری طور پر پلٹا نہ گیا، تو پولیو کے خاتمے کا ہدف مزید پیچھے چلا جائے گا۔ یہ بات خاص طور پر پاکستان اور افغانستان کے تناظر میں اہم ہے، جہاں پولیو وائرس اب بھی موجود ہے۔

عالمی ادارہ صحت، یونیسیف اور گیٹس فاؤنڈیشن جیسے گروپوں کے ساتھ مل کر پولیو کے خاتمے کے لیے کام کر رہا ہے۔ تاہم، امریکہ کے WHO سے دستبرداری کے فیصلے نے ان کوششوں کو متاثر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، امریکہ کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) کے ساتھ تعاون بھی معطل ہو گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے، یونیسیف کے پولیو گرانٹ کو ختم کر دیا گیا، جبکہ امریکی محکمہ خارجہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ‘امریکہ فرسٹ’ پالیسی کے تحت USAID کے 90 فیصد گرانٹس میں کمی کر دی۔

WHO کے مشرقی بحیرہ روم کے علاقے کے پولیو خاتمہ پروگرام کے ڈائریکٹر حامد جعفری کے مطابق، اس شراکت کو اس سال امریکہ سے متوقع 133 ملین ڈالر کی کمی کا سامنا ہے۔ یہ خطہ پاکستان اور افغانستان کو شامل کرتا ہے، جہاں پولیو وائرس کی جنگلی شکل پھیل رہی ہے۔ جعفری نے کہا کہ اگر فنڈز کی کمی جاری رہی، تو پولیو کے خاتمے میں تاخیر ہو سکتی ہے، اور زیادہ بچے معذوری کا شکار ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیو کے خاتمے میں جتنی تاخیر ہوگی، اس کی لاگت بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی۔

جغرافیائی اور سیاسی چیلنجز کے باوجود، پاکستان اور افغانستان میں پولیو ویکسینیشن مہمات جاری ہیں۔ صحت کے کارکنان گھر گھر جا کر بچوں کو ویکسین کی قطرے پلاتے ہیں۔ تاہم، فنڈز کی کمی سے ان مہمات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ جعفری نے کہا کہ شراکت دار فنڈز کی کمی سے نمٹنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں، لیکن انہیں امید ہے کہ امریکہ پولیو کے خلاف جنگ کو دوبارہ فنڈ کرے گا۔

یونیسیف نے تبصرے کے لیے درخواستوں کا جواب نہیں دیا، جبکہ گیٹس فاؤنڈیشن کے ترجمان نے کہا کہ کوئی بھی فاؤنڈیشن امریکہ کے چھوڑے گئے خلا کو پورا نہیں کر سکتی۔ گزشتہ ہفتے، سعودی عرب نے پولیو کے خاتمے کے لیے 500 ملین ڈالر کا عطیہ دیا، جو ایک اہم قدم ہے۔

پولیو کے خاتمے کے لیے شراکت کو پہلے ہی 2029 تک 2.4 بلین ڈالر کی کمی کا سامنا ہے۔ گزشتہ سال یہ تسلیم کیا گیا تھا کہ اس مرض کے خاتمے میں توقع سے زیادہ وقت اور لاگت درکار ہوگی۔

پولیو کے خاتمے کی کوششوں کو درپیش چیلنجز کے باوجود، صحت کے کارکنان اور تنظیمیں اپنی کوششوں میں مصروف ہیں۔ پاکستان میں، لاہور جیسے شہروں میں گھر گھر ویکسینیشن مہمات جاری ہیں۔ 23 مئی 2022 کو لاہور میں ایک صحت کارکن نے ایک بچے کو پولیو ویکسین کے قطرے پلائے، جو ان کوششوں کی ایک جھلک ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ پولیو کے خاتمے کے لیے درکار وسائل اور تعاون کو برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے۔ اگرچہ فنڈز کی کمی ایک بڑا چیلنج ہے، لیکن اس کے باوجود، پاکستان اور افغانستان میں ویکسینیشن مہمات کو جاری رکھنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں عوامی شعور اور تعاون بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ والدین کو بچوں کو ویکسین پلوانے کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے۔ صحت کے کارکنان کی محنت اور عوامی تعاون کے بغیر، پولیو جیسے مرض کا خاتمہ ممکن نہیں۔

عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ پولیو کے خاتمے کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور اس سلسلے میں درکار وسائل فراہم کرے۔ امریکہ جیسے بڑے ممالک کی جانب سے فنڈز میں کمی نہ صرف پاکستان اور افغانستان، بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

پولیو کے خاتمے کی کوششوں کو درپیش چیلنجز کے باوجود، امید کی کرن اب بھی موجود ہے۔ سعودی عرب جیسے ممالک کے عطیات اور دیگر ذرائع سے فنڈز کی کمی کو پورا کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ عالمی ادارہ صحت اور اس کے شراکت داروں کا عزم ہے کہ وہ پولیو کے خاتمے کے لیے اپنی کوششوں کو جاری رکھیں گے۔

پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں عوامی شعور اور تعاون بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ والدین کو بچوں کو ویکسین پلوانے کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے۔ صحت کے کارکنان کی محنت اور عوامی تعاون کے بغیر، پولیو جیسے مرض کا خاتمہ ممکن نہیں۔