یونان؛60تارکین وطن ترکی سے سمندری راستے ڈنکی لگاتے بچا لیے گئے۔

یونان؛60تارکین وطن ترکی سے سمندری راستے ڈنکی لگاتے بچا لیے گئے۔
یونان میں تارکین وطن کی آمد میں کمی، لیکن خطرناک راستوں سے ڈنکی کی روانگی ،اموات میں اضافے کا سبب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔،،،،،،،،،،، ۔۔۔۔
ایتھنز(دیس پردیس نیوز)یونان کے حکام نے ہفتے کے روز تقریباً 60 تارکین وطن کو بچایا، جو ترکی سے مشرقی ایجیئن سمندر کے قریبی جزائر کی طرف جانے والے ایک خطرناک راستے پر دو الگ الگ واقعات میں پھنس گئے تھے۔ کوسٹ گارڈ کے مطابق، حالیہ ہفتوں میں یونان میں ایسی آمدوں میں اضافہ ہوا ہے، جن میں زیادہ تر چھوٹے اور غیر محفوظ کشتیوں میں سوار تارکین وطن شامل ہیں، جنہیں اسمگلرز فراہم کرتے ہیں۔
کوسٹ گارڈ کی ایک بیان میں کہا گیا کہ ایک پیٹرول کشتی نے ہفتے کی صبح جزیرہ لیسبوس کے قریب ایک ڈرفٹنگ انفلیٹیبل ڈنگھی میں 41 افراد کو دریافت کیا۔ تمام افراد کو بحفاظت نکال کر جزیرے کے استقبال مرکز میں منتقل کر دیا گیا۔ اسی دن ایک اور پیٹرول کشتی نے مشرقی ایجیئن کے آرکی جزائر کے قریب ایک اور ڈنگھی روکی، جس میں 17 افراد سوار تھے۔ تارکین وطن کو جزیرہ پاتموس منتقل کر دیا گیا، جبکہ ان میں سے ایک کو اسمگلنگ کے دھندے میں ملوث ہونے کے شبہے میں گرفتار کیا گیا۔
یونانی حکام کا کہنا ہے کہ افریقہ میں جاری تنازعات کی وجہ سے مرکزی اسمگلنگ راستوں پر دباؤ بڑھا ہے، اور ترکی میں کم معیار کی انفلیٹیبل کشتیوں کی بڑھتی ہوئی مارکیٹ بھی تارکین وطن کی آمد میں اضافے کا سبب بنی ہے۔ بہتر موسمِ گرما کی صورتحال نے بھی تعداد میں اضافے میں مدد کی ہے۔یونانی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی سمندری سرحدوں پر کشتیوں کو روکنے کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، جس سے پچھلے کچھ سالوں میں تارکین وطن کی آمد میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔
تاہم، انسانی حقوق کے گروپوں نے یونان پر الزام لگایا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر ان لوگوں کو ترکی واپس بھیج رہا ہے جو یونانی ساحلوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ایتھنز نے اس الزام کو مسترد کیا ہے۔