
ایچ بی ایل نے 2024 میں 120 ارب روپے کا ریکارڈ منافع کمایا”-
بینک کی کامیابی: زرعی شعبے میں انقلاب
ماحولیاتی اور مالی کامیابیاں
حبیب بینک(ایچ بی ایل) کے صدر اور سی ای او محمد ناصر سلیم نے 2024 کے مالی سال کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ بینک نے 120 ارب روپے کا ریکارڈ منافع کمایا ہے۔ یہ بینک کی تاریخ میں اب تک کا سب سے زیادہ منافع ہے، جو 2004 میں بینک کی پرائیویٹائزیشن کے بعد سے سب سے بڑا اعداد و شمار ہے۔
ایچ بی ایل کی کامیابی کے اہم پہلو:
ناصر سلیم نے کہا کہ بینک کی کامیابی صرف مالی اعداد و شمار تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایچ بی ایل نے پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کیا ہے، خاص طور پر زرعی شعبے میں، جو ملک کے جی ڈی پی کا 25 فیصد ہے۔ اگر اس سے وابستہ دیگر صنعتوں کو شامل کیا جائے تو یہ شرح 40 سے 45 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔
زرعی شعبے میں ایچ بی ایل کا کردار:
ایچ بی ایل نے پاکستان زرعی کوئلیشن کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے اور چھوٹے کسانوں کو مالی مدد فراہم کرنے میں پیش پیش رہا ہے۔ ناصر سلیم کے مطابق، پاکستان کے بیشتر کسان چھوٹے ہیں، جن کے پاس 12.5 ایکڑ سے کم زمین ہے۔ ایچ بی ایل نے ان کسانوں کو جدید زرعی مہارتیں فراہم کرنے اور ان کی پیداوار بڑھانے میں مدد کی ہے۔
ایچ بی ایل زر سروسز کا آغاز:
بینک نے چھوٹے کسانوں کے لیے ایک علیحدہ سبسڈری “ایچ بی ایل زر سروسز” قائم کی ہے، جو کسانوں کو بیج، کھاد، مشینری، اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، کسانوں کو ان کی پیداوار کی فروخت کے لیے بھی مدد فراہم کی جاتی ہے۔ ناصر سلیم نے کہا کہ یہ اقدام زرعی شعبے میں ایک انقلاب ہے۔

بینکنگ سیکٹر کی زرعی شعبے میں شرکت:
ناصر سلیم نے بتایا کہ پاکستان میں بینکنگ سیکٹر کی زرعی شعبے میں شرکت 10 فیصد سے بھی کم ہے، جبکہ 90 فیصد کسان غیر رسمی شعبے سے وابستہ ہیں۔ ایچ بی ایل کا مقصد ہے کہ زیادہ سے زیادہ کسانوں کو جدید زرعی مہارتیں فراہم کی جائیں، جس سے پاکستان کی زرعی پیداوار میں 40 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
ماحولیاتی اقدامات:
ایچ بی ایل نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے بھی اہم اقدامات کیے ہیں۔ بینک نے کوئلے سے چلنے والے منصوبوں اور تمباکو سے متعلق کاروباروں کو فنڈ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ناصر سلیم نے کہا کہ بینک کے نئے عمارتیں ماحولیاتی معیارات کے مطابق تعمیر کی جا رہی ہیں۔
مستقبل کے منصوبے:
ایچ بی ایل کا مقصد صرف مالی خدمات فراہم کرنا نہیں ہے، بلکہ لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانا ہے۔ بینک نے چھوٹے کسانوں کو جدید زرعی مہارتیں فراہم کرنے اور ان کی آمدنی میں اضافہ کرنے کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے ہیں۔
ایچ بی ایل کی قیادت:
ناصر سلیم نے کہا کہ ایچ بی ایل کی کامیابی کا راز اس کی قیادت اور ملازمین کی محنت میں پوشیدہ ہے۔ بینک نے نہ صرف مالی خدمات فراہم کی ہیں، بلکہ معاشرتی اور ماحولیاتی ذمہ داریوں کو بھی پورا کیا ہے۔
آخر میں:
ایچ بی ایل کی 2024 کی کامیابی نہ صرف مالی لحاظ سے بلکہ معاشرتی اور ماحولیاتی لحاظ سے بھی اہم ہے۔ بینک نے پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے اور لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔
مزید معلومات کے لیے جیوے پاکستان ڈاٹ کام وزٹ کریں: www.jeeveypakistan.com























