
آر اینڈ آر، متاثرہ افراد کے حقوق کی پاسداری کو یقینی بنارہی ہے، ڈاکٹر سروش لودھی
سندھ بھر سے شرکا کی آمد، آر اینڈ آر پالیسی کے نفاذ کی تربیتی ورکشاپ کا اختتام
کراچی() آر اینڈ آر ورکشاپ میں سندھ بھر سے 55 شرکا کو ابتدائی طور پرتربیت فراہم کردی گئی ہے۔ سندھ میں ترقیاتی منصوبوں سے متعلقہ آباد کاری و بحالی (Resettlement and Rehablitation) آر اینڈ آر پالیسی کے مؤثر نفاذ کی چار روزہ تربیتی نشست کا اختتام جامعہ این ای ڈی کے سٹی کیمپس میں ہوا۔ یہ خصوصی تربیتی پروگرام پروجیکٹ کوآرڈینیشن اینڈ مانیٹرنگ یونٹ، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ، حکومت سندھ اور این ای ڈی یونیورسٹی کے سینٹر آف انوائرمنٹل اینڈ سوشل سسٹینیبلٹی کے باہمی اشتراک سے منعقد کیا گیا، جس میں ورلڈ بینک کی تکنیکی معاونت بھی شامل رہی۔ اس تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوۓ شیخ الجامعہ ڈاکٹرسروش لودھی کا کہنا تھا کہ دورانِ تربیت فیلڈ کا دورہ بھی کروانے سے تربیت حاصل کرنے والے افراد میں معروضی حالات کو سمجھنا زیادہ آسان ہوگیا۔ اس موقعے پر خطاب کرتے شیخ الجامعہ نے کہا کہ مارچ 2023 میں اپنائی گئی آر اینڈ آر پالیسی کا مقصد ترقیاتی منصوبوں میں متاثرہ افراد کے حقوق کی پاسداری کو یقینی بنانا ہے۔ اس موقعے پر گفتگو کرتے ہوۓ ڈائریکٹر سینٹر آف انوائرمنٹل اینڈ سوشل سسٹینیبلٹی ڈاکٹر محمد احمد نے کہاکہ چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ نجم شاہ کی ہدایت پر یہ تربیتی ورکشاپ علاقائی زبانوں میں کروائی گئی تاکہ مؤثر ہوسکے۔ اس تربیت میں مختلف محکموں اور انفراسٹرکچر ایجنسیوں کے قریباً 55 شرکا نے حصّہ لیا۔ جو عملی مشقوں کے ذریعے آر اینڈ آر پالیسی کو سمجھنے اور اس پر عملدرآمد کے طریقہ کار سے واقفیت حاصل کرچکے ہیں۔ اس موقعے پر وائس چانسلر این ای ڈی ڈاکٹر سروش لودھی، پی سی ایم یو، پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر غلام مرتضی ابڑو، ورلڈ بینک سپورٹ ٹیم کے ڈاکٹر محمد زمان، ڈین فیکلٹی آف آرکٹیکچر اینڈ سائنسز ڈاکٹر نعمان احمد اور سینٹر آف انوائرمنٹل اینڈ سوشل سسٹینیبلٹی کے ڈائریکٹر محمد احمد نے تربیت یافتہ افراد میں سرٹیفکٹس تقسیم کیے۔























