صحافی اور جیالے اس بات پر مسکرا دیتے ہیں کہ سینیئر وزیر شرجیل میمن کے منہ سے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی تعریف کے بول کیوں نہیں نکلتے ، میڈیا ٹاک اور تقریروں میں شرجیل میمن اب وزیراعظم شہباز شریف کی تعریفیں کرتے نظر آتے ہیں ۔

صحافی اور جیالے اس بات پر مسکرا دیتے ہیں کہ سینیئر وزیر شرجیل میمن کے منہ سے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی تعریف کے بول کیوں نہیں نکلتے ، میڈیا ٹاک اور تقریروں میں شرجیل میمن اب وزیراعظم شہباز شریف کی تعریفیں کرتے نظر آتے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن مختلف تقاریب کی تقریروں بات چیت اور میڈیا ٹرک میں وزیراعظم شہباز شریف کی تعریف تو کرتے نظر آتے ہیں لیکن ان کے منہ سے سندھ کے وزیراعلی سید مراد علی شاہ کی تعریف میں الفاظ کم ہی نکلتے ہیں ایسا کیوں ہے اس سوال پر اکثر صحافی اور جیالے بھی مسکرا دیتے ہیں ۔ یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے دورہ کراچی میں خاص طور پر سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن کی رہائش گاہ پر وقت گزارا تھا اور وہاں پر شرجیل انعام میمن نے ان کو سندھ کے روایتی تحائف بھی پیش کیے تھے اس موقع پر وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ بھی اچانک وزیراعظم کے شرجیل میمن کے گھر جانے پر ان کے ہمراہ اور ضرور تھے لیکن لوگ حیران تھے کہ وہ کیوں گئے ؟ اس حوالے سے جتنے منہ اتنی باتیں ۔۔۔۔ سیاسی حلقوں میں یہ بحث ہوتی رہی ہے کہ وزیراعظم نے شرجیل میمن کے گھر جانے کا فیصلہ کیوں کیا تھا اس کے مقاصد کیا تھے وہ کس کو کیا پیغام دینا چاہتے تھے اس حوالے سے خیال کیا جاتا ہے کہ وزیراعلی سندھ کی حکومتی رٹ کے بارے میں پاکستان کی تاجر برادری اور سرمایہ کاروں نے جو شکایات طاقتور حلقوں کے سامنے رکھی تھیں اس کا تاثر زائل کرنے کے لیے شرجیل میمن نے اپنی اعلی قیادت کو یہ پیغام پہنچایا کہ اگر تاجر برادری اور سرمایہ کاروں اور وفاقی حکومت سے تعلقات بہتر رکھنے ہیں تو مجھے موقع دیا جائے وزیراعظم کے ساتھ بھی میری قربت ہے تعلقات بہتر ہیں اور تاجر برادری سرمایہ کاروں کے ساتھ بھی شرجیل میمن نے حالیہ دنوں میں کافی قربت دکھائی ہے خاص طور پر ان کے مختلف پروگراموں اور اجلاسوں میں سرمایہ کار اور تاجر بہادری کے بڑے نام شریک ہوئے ہیں جن میں عارف حبیب خاص طور پر نمایاں ہیں اور سٹاک ایکسچینج کے پروگرام سمیت مختلف پروگراموں اور اجلاسوں میں شرجیل انعام میمن کی زبانی عارف حبیب کی کافی تعریف

اور ذکر سنا گیا ہے اور اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ شرجیل انعام میں من سرمایہ کر رہا ہوں اور تاجر برادری کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے عارف حبیب اور دیگر بڑے ناموں کی قربت حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں کافی کامیابی حاصل کر چکے ہیں مزید کے لیے کوشش جاری ہے ان اقدامات سے الی پارٹی قیادت کو پیغام دیا جا رہا ہے کہ جو کام وزیراعلی ہوتے ہوئے سید مراد علی شاہ نہیں کر سکے میں سینیئر وزیر کے طور پر کر رہا ہوں اور اگر مجھے مستقبل میں وزیراعلی سندھ بننے کا موقع فراہم کیا گیا تو نہ صرف وفاقی حکومت کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنے میں کام ا سکتا ہوں بلکہ کراچی سمیت ملک بھر کی تاجر صنعت کار برادری اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی مجھے حاصل ہے جو پیپلز پارٹی کے ساتھ سرمایہ کاروں تاجروں صنعت کاروں کے موجودہ خلا پر مبنی تعلقات کو بہتر بنانے میں کام ا سکتا ہے لہذا شجیلی نام میمن ہی ایک بہتر آپشن ہے ۔ دوسری طرف وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعلی اور صوبائی حکومت کی پوری توجہ صوبے کی ترقی اور عوام کی بہتری اور بھلائی کے کاموں پر مرکوز ہے وزیر اعلی خود نمائی پر یقین نہیں رکھتے اس لیے وہ میڈیا میں بہت کم اتے ہیں اور اپنے کام پر زیادہ وقت دیتے ہیں انہیں پارٹی قیادت کا اعتماد بھی حاصل ہے اور ان کی کارکردگی اور گزشتہ الیکشن کے نتائج صوبے کے عوام کی جانب سے ان پر بھرپور اعتماد کیا کر چکے ہیں وہ اپنی توجہ اپنے کاموں پر مرکوز رکھے ہوئے ہیں وفاقی حکومت سے ان کی اصولوں کی بنیاد پر اور سندھ کے عوام کے حقوق کی لڑائی رہتی ہے وہ کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے ماضی کے وزیراعظم ہوں یا موجودہ وزیر اعظم ان کے سامنے وزیراعلی سید مراد علی شاہ ہمیشہ سندھ کا مقدمہ بھی رکھتے ہیں اور ملک کو اصولوں اور ائین کے مطابق چلانے کی بات کرتے ہیں این ایف سی ایوارڈ ہو یا سی سی ائی کی باتیں ہوں ہر جگہ ائینی فورم ہو ائین کے مطابق چلانے کے لیے اواز اٹھاتے ہیں اور سندھ سمیت تمام صوبوں کو ان کے حقوق دینے کی بات کرتے ہیں ۔ چاروں صوبوں میں اس وقت سید مراد علی شاہ سب سے زیادہ تجربہ کار کامیاب اور ڈلیور کرنے والے وزیراعلی کی حیثیت رکھتے ہیں اور وزیراعلی سندھ کی سربراہی میں صوبائی حکومت کے اقدامات کی تعریف عالمی مالیاتی ادارے ورلڈ بینک اور غیر ملکی مندوبین اور وفود بھی کرتے ہیں جہاں تک سندھ کا وزیر اعلی بننے کی خواہش کا تعلق ہے وہ کوئی بھی خواہش مند ہو سکتا ہے اور ہر کسی کو اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے کوششیں کرنے کا پورا اختیار حق حاصل ہے فیصلہ پارٹی کی قیادت میں کرنا ہے اور پارٹی کی قیادت عوامی امنگوں کے مطابق فیصلے کرتی ہے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا بھرپور ہے تو ماد وزیر اعلی سندھ سید ناراض علی شاہ کو حاصل ہے اور وہ صوبے کی خدمت جاری رکھے ہوئے ہیں

سالک مجید جیوے پاکستان ڈاٹ کام
===========================

پیکا کی سپورٹ نہیں کرتا، لیکن جھوٹ پھیلانےکی سزا ہونی چاہیے: شرجیل میمن
تازہ ترینقومی خبریں28 فروری ، 2025
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ اگر ہم مل کر کوشش کریں تو ملک میں سیاسی استحکام لاسکتے ہیں۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ دنیا میں حکومت اور کاروباری طبقہ مل کرکام کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم نے بھی سندھ کے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ منصوبوں کو سراہا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ حکومتیں اور سرمایہ کار مل کر کام کریں تاکہ عوام کو سہولتیں میسر ہو سکیں۔

کراچی میں بلٹ ٹرین چلانا چاہتے ہیں: شرجیل انعام میمن

شرجیل میمن نے کہا کہ ٹرانسپورٹ سیکٹر میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ متعارف کرا رہے ہیں، سندھ کے پبلک پرائیویٹ ماڈل کی دنیا بھر میں پزیرائی ہوئی ہے۔

پی پی رہنما کا کہنا ہے کہ خواتین کو با اختیار بنانے کے لیے پنک اسکوٹر پروگرام اسکیم لا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لیے شاندار جگہ ہے، بڑی تعداد میں چینی سرمایہ کار پاکستان آ رہے ہیں۔

وزیرِ اطلاعات سندھ نے کہا کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لیے دنیا کی توجہ حاصل کر رہا ہے، سندھ حکومت ون ونڈو سہولت دینے کا عزم رکھتی ہے۔

شرجیل میمن نے مزید کہا کہ ذہنی طور پر پیکا کی سپورٹ نہیں کرتا، لیکن جھوٹ پھیلانےکی سزا ہونی چاہیے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پنجاب، کے پی، بلوچستان سب ملک کے حصے ہیں، جہاں اچھا کام ہو اس کی تعریف کرنی چاہیے۔
===========================

مور خہ27فروری 2025

کراچی 27 فروری ۔سندھ کابینہ نے ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی کے زیر انتظام ڈاؤ سائنس فاؤنڈیشن‘ قائم کرنے، میہڑ پولی ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ زیبسٹ کے حوالے کرنے، ڈبل ڈیکر بسیں خریدنے ، مزید الیکٹرک بسز خریدنے، اینٹی نارکوٹکس کے ریکارڈ کو آٹومیٹڈ کرنے، خواتین کو مفت پنک ٹیکسی ، کراچی واٹر اینڈ سیوریج منصوبے کے لئے دھابیجی تک ٹرانسمیشن لائن بچھانے ، ڈبل کیبن گاڑیوں کی رجسٹریشن ایک ہی کیٹیگری میں کرنے اور کے فور منصوبہ کے لیئے کلری بگھار فیڈر اور کینجھر جھیل کی توسیع کا منصوبہ کی لاگت پر نظرثانی کر کے منظوری دے دی ہے۔ سندھ کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کا اجلاس وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی کے زیر انتظام ’ڈاؤ سائنس فاؤنڈیشن‘ قائم کرنے کی منظوری دی گئی، جس کے تحت اب ڈاؤ سائنس فاؤنڈیشن کمپنی سانپ اور پاگل کتوں کے کاٹنے کی ویکسینز ، ادویات اور دیگر چیزیں بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں میہڑ پولی ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ زیبسٹ کے تحت چلانے کی منظوری دے دی ہے، جس سے مقامی نوجوانوں کو روزگار اور ہنر سیکھنے کے لئے مواقع میسر آئیں گے، سندھ کابینہ نے سندھ کے لوگوں کے لئے مزید بسیں خرید نے کا فیصلہ کیا ہے، ڈبل ڈیکر بسیں خرید کرنے کی منظوری دی گئی۔ کابینہ اجلاس میں کے فور منصوبہ کے لیئے کلری بگھار فیڈر اور کینجھر جھیل کی توسیع کا منصوبہ کی لاگت پر نظرثانی کر کے منظوری دی گئی۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے اینٹی نارکوٹکس کے رکارڈ کو آٹومیٹڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ڈبل کیبن گاڑیاں ٹیکس سے بچنے کے لئے لوگ کمرشل بنیادوں پر رجسٹرڈ کرواتے تھے اور ذاتی استعمال میں رکھتے تھے، کابینہ نے یہ والا نظام ختم کر دیا، آئندہ جو بھی گاڑیاں رجسٹرڈ ہونگی وہ ایک ہی کیٹیگری کے تحت رجسٹرڈ ہونگی، کوئی بھی ٹیکس چوری نہیں کر سکے گا، سندھ کابینہ نے پریمئم نمبر پلیٹس کا اوپن آکشن سے ملنے والی رقم سیلاب متاثرین کے گھروں کی تعمیر کے لیئے دینے کی منظوری دی گئی، حکومت سندھ نے فیصلہ کیا ہے کہ پریمئم نمبر پلیٹس سے حاصل ہونے والے رقم سندھ پیپلز ہاؤسنگ اسکیم کو دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نےپاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پریمئم نمبر پلیٹس کےاجراع کا سلسلہ شروع کیا تھا ،ہم نے دس کروڑ کی بھی ایک نمبر پلیٹ فروخت کی ہے، اس سے جو بھی پیسے جمع ہوئے ہیں، سندھ کابینہ نے منظوری دے دی ہے کہ وہ پیسے پیپلز ہاؤسنگ اسکیم کو دیئے جائیں۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کا مزید الیکٹرک بسز خرید کرنے بھی منظوری دی ہے، وزیر اعظم شہباز شریف حلف برداری کا بعد پہلی مرتبہ جب کراچی آئے تھے تو انہوں نے ایک اجلاس میں سندھ کو 180 بسز دینے کا وعدہ کیا تھا، سندھ حکومت نے بھی کہا تھا کہ جتنی بسز وفاقی حکومت دے گی اتنی بسز ہم بھی خریدیں گے، ہم نے وزیر اعظم شہباز شریف سے 360 بسز کا مطالبہ کیا تھا ، وزیر اعظم نے 180 بسز دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن 2024-2025 کے بجٹ میں ایک بھی بس حکومت سندھ کو نہیں دی گئی، ہم نے وزیر اعظم کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے، پورا سال گزر گیا لیکن وہ بسز نہیں آئیں، ہم دوبارہ وزیر اعظم سے گزارش کریں گے ا نہوں نے کراچی میں جو وعدہ سندھ کے عوام سے کیا تھا، وہ وفا کریں اور ہمیں بسز فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کراچی میں پانی کے منصوبوں پر 1.6 بلین ڈالر خرچ کر رہی ہے، یہ کراچی کے عوام کے لئے حکومت سندھ کی جانب سے ایک بہت بڑا قدم ہے، عالمی بینک کے تعاون سے محکمہ توانائی دو لاکھ گھروں کو سولر سسٹم فراہم کر رہا ہے، آج کابینہ اجلاس میں منظوری دی گئی کہ ڈھائی لاکھ مزید گھروں کو سولر سسٹم فراہم کی جائیں گے۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ خواتین کو مفت میں پنک اسکوٹرز دینے جارہا ہے، جن خواتین کے پاس ٹو ویلرز لائسنس ہوگا ان کو پنک اسکوٹرز ملیں گے، چند ہفتوں کے اندر اسکوٹرز اوپن بیلیٹنگ کے ذریعے دیئے جائیں گے اور ہر مہینے میڈیا کے سامنے شفاف بیلٹنگ ہوگی، طالب علم، کاروبار اور نوکری پیشہ خواتین کو یہ اسکوٹرز فراہم کئے جائیں گے، محکمہ ٹرانسپورٹ خواتین کو بائیک چلانا بھی سکھائے گا، محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے لیڈی انسٹرکٹر مقرر کی جائیں گی جو خواتین کو بائیک چلانا سکھائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے اس طرح کے اقدام سے خواتین کو بااختیار بنانے میں مدد ملے گی، پیپلز پارٹی نے اپنے ہر دور حکومت میں خواتین کو بااختیار بنایا ہے، شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے پہلی وویمن بینک اور ویمن پولیس اسٹیشن بنایا، صدر آصف علی زرداری نے بی آئی ایس پی کا منصوبہ شروع کیا، پیپلز ہائوسنگ اسکیم کے تحت چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خواتین کو گھروں کامالکانہ حقوق فراہم کئے، صدر آصف علی زرداری نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار خواتین کے نوابشاہ اور لاڑکانہ میں ویمن کیڈٹ کالج ز بنائے، اب ہم پنک ٹیکسی بھی شروع کرنے جارہے ہیں، پندرہ بیس سال پہلے خواتین ووٹ تک کاسٹ نہیں کرسکتی تھی، پیپلز پارٹی نے ان کو حقوق دلوانےکےلئے جدوجہد کی۔ خواتین کو بااختیار بنانا شہید بی بی کی سوچ تھی اور یہ آج صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا ویژن ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی پوری توجہ عوام کو ریلیف دینے میں ہے، جتنے بھی اہم شعبے ہیں ان میں حکومت سندھ کام کر رہی ہے تاکہ عوام کو بہتر سے بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ ایک سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ جن لوگوں کو جلاؤ گھیراؤ کی ترغیب دینے میں فاروق ستار اور ان کی پارٹی کا ہاتھ تھا، اب وہ سارے جیل میں پڑے ہیں، فاروق ستار اب ان کو چھڑوائیں۔ فاروق ستار اگر سمجتے ہیں کہ لوگ ان کو پسند کرتے ہیں کہ تو آج مستعفی ہوں کل انتخابات لڑیں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا۔ وہ چاہتے ہیں کہ نفرتوں کی بات کریں، لوگوں نے ان کو ہر طرح سے پرکھ لیا ہے۔ فاروق ستار کو جو بولنا ہے بولنے دیں، ان کی جماعت کی کوئی سیاسی ساکھ نہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ریڈ لائن بی آر ٹی میں چیلنجز ہیں، سب سے بڑے چیلنجز یوٹیلٹیز کی منتقلی ہے، یوٹیلٹیز کی وجہ سے شہری علاقوں میں کام کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ بہت اچھے وکیل ہیں لیکن وہ 2018 کے انتخابات اور ان ان انتخابات کی پیداوار عمران خان کو کیوں بھول گئے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کسی بھی صوبہ کے وزیر اعلیٰ کوئی اچھا کام کرتا ہے تو ہمیں خوشی ہوتی ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب کے اشتہار میں 90 فیصد چیزیں مستقبل کے پروگرامز پر مبنی تھیں۔ ایک سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے حکومت سندھ کو خط لکھا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کیساتھ جو ڈیل کی ہے، ہمیں ذمہ دار حکومت کے طور پر اس کی پاسداری کرنی ہے، کسانوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے حکومت سندھ کڑوا گھونٹ پی رہی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ کسانوں کو نقصان بھی نہ ہو اور عوام کو سستی گندم مل سکے، ہمیں کہا گیا کہ گندم کی امدادی قیمت نہ بڑھائیں اور دوسری طرف ہمیں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ کے پاس اتنی مقدار میں گندم موجود ہونی چاہئے، گوداموں میں موجود گندم کے لئے حفاظتی اقدامات کئے جا رہے ہیں، لیکن کسانوں کےلئے وزیر اعلیٰ سندھ اور حکومت سندھ بہت زیادہ پریشان ہے، اس سال گندم کی پیداوار میں 20 فیصد کمی کے خدشات ہیں، آئی ایم ایف کی وجہ سے ہمارے ہاتھ ہاؤں بندھے ہوئے ہیں، لیکن حکومت سندھ اپنے کسانوں کے لئے بہتر حل تلاش کر رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ مصطفیٰ قتل کیس جیسے واقعات کی دُہائی میں گذشتہ ایک سال سے دے رہا ہوں، منشیات کی صورتحال نہایت خطرناک ہے، میں والدین سے گزارش کروں گا کہ وہ اپنے بچوں کو دیکھیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں، افسوسناک بات ہے کہ ایک اداکار کے بیٹے منشیات کے کیس میں گرفتار ہوئے ، حیدرآباد میں آکاش انصاری قتل ہوئے، قتل کا ملزم ان کا بیٹا نکلا، جو اولاد اپنے والدین کو اس طرح سے مار سکتی اور جلا سکتی ہے، سماج میں وہ اولاد کیا کچھ نہیں کر سکتی۔ بچوں میں منشیات کے استعمال پر اگر والدین چپ کر کے بیٹھے ہیں یا پھر لاعلم ہے تو یہ بھی مجرمانہ غفلت ہے، انسداد منشیات کے سلسلے میں اگر متعلقہ ادارے کچھ نہیں کر رہے تو یہ بھی مجرمناہ غفلت ہے، نوکریاں، سیاست، سب کچھ ہوتا رہے گا لیکن سب سے پہلے منشیات کو روکنا ہوگا ، ہمارے معاشرے میں منشیات کی وجہ سے خودکش بمبار اور زومبیز پیدا ہورہے ہیں جو کسی بھی وقت کہیں پر بھی کسی کو بھی مار سکتے ہیں، والدین اپنے بچوں کو منشیات سے دور رکھیں یہ نہیں ہو سکتا کہ والدین کو بچوں کے رویوں میں تبدیلی کا پتہ نہ چلے۔ پورے معاشرے کو اس لعنت کے خلاف ایک ہونا ہوگا۔

ہینڈآؤٹ نمبر 264۔۔۔
مور خہ27فروری 2025

کراچی 27 فروری ۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے فاروق ستار کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار کا شمار سیاست کے بہت بڑے شعبدہ بازوں میں ہوتا ہے، فاروق ستار کے الزامات حقیقت سے زیادہ سیاسی شعبدہ بازی ہیں۔ ایک بیان میں سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کو غیر ضروری تنقید کا نشانہ بنانے سے پہلے انہیں حقائق اور اعداد و شمار کا مطالعہ کرنا چاہیے تھا، سندھ حکومت نے پچھلے پانچ سال میں 160 ارب روپے سے زائد کے بقایاجات اور پنشن کی مد میں ادائیگیاں کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے ایم سی، کے ڈی اے اور واٹر بورڈ جیسے ادارے خودمختار ادارے ہیں، جو اپنی مالی ذمہ داریوں کے خود ذمہ دار ہیں، صرف کراچی کے بلدیاتی اداروں کو سندھ حکومت نے پچھلے سال 20 ارب روپے کے قریب اضافی گرانٹ دی تاکہ وہ مالی بحران سے نکل سکیں۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کراچی اور حیدرآباد کے بلدیاتی اداروں کے مسائل کا اصل سبب ماضی میں ایم کیو ایم کی ناقص حکمرانی اور کرپشن ہے، 2017 سے پہلے بھی بلدیاتی ادارے ایم کیو ایم کے پاس تھے، لیکن بدقسمتی سے ان اداروں کو مالی اور انتظامی تباہی کی طرف دھکیلا گیا، ایم کیو ایم کی سرپرستی میں کے ڈی اے ، کے ایم سی ، واٹر بورڈ اور دیگر اداروں میں بے تحاشا کرپشن کی گئی، جعلی بھرتیاں ہوئیں، اور وسائل کا غلط استعمال کیا گیا، آج یہ ادارے جن مالی مشکلات کا شکار ہیں، وہ ایم کیو ایم کی سابقہ لوٹ مار کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاروق ستار دعویٰ کر رہے ہیں کہ 80 فیصد واجبات سندھ حکومت کے ذمہ ہیں، جو سراسر غلط ہے، بلدیاتی ادارے خودمختار ادارے ہیں اور ان کے پنشن فنڈز اور مالیاتی امور ان کے اپنے دائرہ کار میں آتے ہیں، سندھ حکومت نے کئی مواقع پر بلدیاتی اداروں کی مدد کی، لیکن یہ ادارے ایم کیو ایم کے دور حکومت میں خود کو مالی طور پر مستحکم کرنے میں ناکام رہے۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ میں ملازمتیں آئینی اور قانونی طریقہ کار کے تحت دی جاتی ہیں، اگر فاروق ستار کے پاس کوئی ثبوت ہیں کہ جعلی ڈومیسائل پر بھرتیاں ہوئی ہیں، تو وہ سامنے لائیں، ایم کیو ایم کے دور میں بھی سرکاری نوکریاں دی گئیں، تب کیا شفافیت یقینی بنائی گئی تھی؟ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کو وفاق سے جو فنڈز ملتے ہیں، وہ شفاف طریقے سے خرچ کیے جاتے ہیں، اگر فاروق ستار سمجھتے ہیں کہ 25 ارب روپے غائب ہو گئے ہیں، تو وہ ثبوت فراہم کریں، حکومت آزاد اور شفاف آڈٹ کے لیے تیار ہے۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ حکومت کسی بھی وائٹ پیپر سے خوفزدہ نہیں ہے، بلکہ ہم خود ایک حقیقت نامہ جاری کریں گے جس میں ایم کیو ایم کی سابقہ حکومت کی مالی بدعنوانیوں اور کراچی کے تباہ حال بلدیاتی اداروں کی حقیقت عوام کے سامنے رکھی جائے گی، ایم کیو ایم کراچی میں اپنی سیاسی ساکھ کھو چکی ہے، اور اب وہ عوام کو گمراہ کرنے کے لیے جھوٹے دعوے کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے کراچی، حیدرآباد اور دیگر شہری علاقوں میں متعدد جدید ترقیاتی منصوبے مکمل کیے، جبکہ ایم کیو ایم کے دور میں شہر کھنڈر میں تبدیل ہو گیا تھا، اگر ایم کیو ایم واقعی کراچی اور حیدرآباد کے عوام کی خیر خواہ ہوتی، تو یہ ادارے آج مالی بحران کا شکار نہ ہوتے۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ فاروق ستار اور ایم کیو ایم اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے سندھ حکومت پر الزامات لگا رہے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ بلدیاتی اداروں کو ماضی میں جس طرح چلایا گیا، اس کے باعث آج کے مسائل پیدا ہوئے، سندھ حکومت کراچی کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے، اور ہر ممکن ریلیف فراہم کرے گی، لیکن جو ماضی میں لوٹ مار ہوئی، اس کا حساب بھی ایم کیو ایم کو دینا ہوگا۔

ہینڈآؤٹ نمبر 263۔۔۔
===========