
میرپورخاص
رپورٹ
تحسین احمد خان
وفاقی حکومت کی جانب سے سندھو دریا میں سے 6 نئے کینال نکالنے کے خلاف جمیعت علماء اسلام کی جانب سے پریس کلب کے سامنے احتجاج مظاہرہ کیا گیا، مظاہرین ہاتھوں میں بینر اور پارٹی پرچم اٹھا کر نعرے بازی کرتے رہے تفصیلات کے مطابق سندھو دریا سے 6 نئے کینال نکالنے کے خلاف جے یو آئی کی جانب سے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اس موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے قاری فدا حسین، مولانا ابراہیم مھر، ہاشم سمیجو، قاری اسحاق منگریو اور دیگر نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف کسانوں اور آبادگاروں کا ہی نہیں ہے بلکہ سندھ کے چھوٹے اور بڑے شہروں کی معیشت کا تعلق بھی زراعت سے ہے جو معاشی طور پر بھی تباہ ہو جائے گا انہوں نے کہا کہ زراعت تباہ ہو جائے گی زراعت سے متعلقہ صنعتیں، شوگر ملز، کاٹن فیکٹریاں، آئل ملز اور زرعی انجینئرنگ سے متعلق کارخانے بند ہو جائیں گے اور ہزاروں لوگ بے روزگار ہو جائیں گے انہوں نے کہا کہ پہلے کالاباغ ڈیم بنانے کے حوالے سے سندھ پر حملے کی کوشش کی گئی اور اب دریائے سندھ سے 6 نئے کینال نکالنے کی بات کی جا رہی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب نئے کینال کے ذریعے ہماری آنے والی نسلوں کو تباہ کرنے کی سازش رچائی گئی ہے انھوں نے کہا کہ یہ سیاسی احتجاج نہیں ہے یہاں پر احتجاج کرنے والے تمام کسان، آبادگار، تاجر، وکلاء اور عام شہری ہیں لیکن بدقسمتی سے اسمبلیوں میں ہماری نمائندگی مناسب طریقے سے نہیں ہوتی انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک فیڈریشن ہے جس میں تمام صوبوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں انھوں نے کہا کہ پنجاب کے حکمران طبقہ ڈیڑھ صدی سے دریائے سندھ کا پانی چوری کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ اب ایوان صدر سے فرمان جاری ہو رہا ہے کہ سندھ کے حصے کا پانی چھینا جائے ایوان صدر کو غیر متنازعہ ہونا چاہئے چاروں صوبوں کے برابر حقوق کا سوچنا چاہیئے لیکن یہ ایوان صدر سندھ کے حقوق کی سودے بازی کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی والے بیشک اسمبلیوں میں عوام کے حقوق کی آواز نہ اٹھائیں لیکن سندھ کے عوام نے سڑکوں پر اسمبلیاں لگا کر نئے کینال کے خلاف اپنے فیصلے کا اظہار کیا ہے انھوں نے کہا کہ نئے کینال نکالنے کا منصوبہ سندھ کو تباہ کرنے کی سازش ہے انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم بنا کر اس سے صرف 2 کینال نکالی جارہی تھی لیکن سندھ کے لوگوں نے مزاحمت کی اب 6 کینال نکالی جا رہی ہیں جس سے سندھ بنجر ہوجائے گا انھوں نے کہا کہ یہ پانی کسی تعلقہ، ضلع یا ڈویژن سے نہیں بلکہ پورے سندھ سے لیا جا رہا ہے زندگی کا واحد ذریعہ پانی بھی چھینا جا رہا ہے اس لئے سندھ باسیوں اکھٹا ہو کر اس منصوبے کے خلاف آواز بلند کرنا ہو گا تاکہ اس منصوبے کے فیصلے کو واپس لیا جا سکے۔























