اگر 92 کا ورلڈ کپ کپتان نے نہیں چیئرمین پی سی بی نے جیتا تھا تو تو پھر اب محسن نقوی کو چیئرمین سے ہٹانا بنتا ہے ، گراؤنڈ میں کپتان نے رزلٹ دینا ہوتا ہے اگر کپتان سلیکشن سے مطمئن نہیں تھا تو کپتانی سے مستعفی ہو جاتا !

اگر 92 کا ورلڈ کپ کپتان نے نہیں چیئرمین پی سی بی نے جیتا تھا تو تو پھر اب محسن نقوی کو چیئرمین سے ہٹانا بنتا ہے ، گراؤنڈ میں کپتان نے رزلٹ دینا ہوتا ہے اگر کپتان سلیکشن سے مطمئن نہیں تھا تو کپتانی سے مستعفی ہو جاتا ! تفصیلات کے مطابق چیمپینز ٹرافی کے اہم میچ میں بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد پوری ٹیم اور پاکستان کرکٹ بورڈ سخت تنقید کی زد میں ہے شائقین کرکٹ کے دل ٹوٹ گئے ہیں اور تمام سپر سٹار کھلاڑیوں کی شامت ہے سب کو ٹیم سے نکالنے اور چیئرمین کرکٹ بورڈ سے لے کر کپتان رضوان تک سے استعفی لینے کی بات ہو رہی ہے دوسری طرف کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اگر 92 کا ورلڈ کپ کپتان کی بجائے چیئرمین پی سی بی نے جیتا تھا تو پھر اب محسن نقوی کو چیئرمین پی سی بی کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ بنتا ہے بات یہ ہے کہ گراؤنڈ میں کپتان نے رزلٹ دینا ہوتا ہے اگر ٹیم سلیکشن بطان کی مرضی کے مطابق نہیں تھی تو اسے مستعفی ہو جانا چاہیے تھا سلیکٹرز سے ضرور پوچھا جانا چاہیے لیکن جو ٹیم گراؤنڈ میں اتری ہے وہ بہتر جواب دہ ہے اگر وہ ٹیم جیت جاتی تو سب واہ واہ کر رہے ہوتے ہیں اب ہار گئی ہے تو سب اعتراض کر رہے ہیں کوئی بھی ٹیم ایک دن میں نہیں بنتی ٹیم کو بنانے میں کافی وقت لگتا ہے ٹیم کمبینیشن کیسے بنانے ہیں اور کب کس پلیئر کو کہاں کھلانا ہے یا نہیں کھلانا یہ فیصلہ کپتان اور ٹیم مینجمنٹ کرتی ہے جو ٹیم 300 گیندوں کے میچ میں 100 سے ڈیڑھ سو گیندیں ڈاٹ کھیل جائے وہ کیسے فاتح بن سکتی ہے خود سوچیں یہ رضوان 11 نہیں ہے بلکہ یہ ڈاٹ بال 11 بن چکی ہے ہر کھلاڑی بشمول کپتان ڈاٹ بالیں کھیل رہا ہے تو کیسے جیتیں گے باولنگ کمزور شعبہ تھا بیٹنگ میں پھر بھی بہتر تھے تو ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کیوں نہیں کی اگر پہلے بھارت کو کھیلنے کا موقع دیتے تو وہ تیز کھیلنے کے چکر میں جلدی جلدی وکٹیں گنواتے اور ہماری بیٹنگ کے سامنے ایک ٹارگٹ ہوتا تو اس کو حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے تھے ایک دن پہلے اسٹریلیا نے انگلینڈ کے خلاف ساڑھے سو کا ریکارڈ ہدف حاصل کر کے بتا دیا تھا کہ ٹارگٹ کیسے حاصل کیا جاتا ہے رضوان نیوزی لینڈ اور بھارت کے خلاف ٹاس جیت کر بھی اس کا فائدہ نہ اٹھا سکے رضوان بطور کپتان ناکام ہوئے اور ملبہ بورڈ پر کیوں ؟ جن کھلاڑیوں کو لاکھوں روپے معاوضہ ملتا ہے ماہانہ وہ پرفارم کیوں نہیں کرتے ؟ جو سابق کھلاڑی ٹیم کے ساتھ اور بورڈ کے ساتھ منسلک ہیں لاکھوں روپے ماہانہ وصول کرتے ہیں ان کا ان پٹ کیا ہے ؟ اگر محسن نقوی نان ٹیکنیکل ہیں کرکٹ کے بارے میں نہیں جانتے مینجمنٹ زیادہ اچھی کرتے ہیں اور ان کے پاس وقت نہیں ہے مصروف ہیں اور سلیکشن میں مداخلت نہیں کرتے تو سلیکشن کمیٹی جواب دے ہے اور پرانے کھلاڑیوں کو چاہیے کہ سامنے آئیں خاص طور پر وہ سابق کھلاڑی جو کرکٹ بورڈ کے ساتھ مختلف حیثیت میں منسلک ہیں رابطے میں ہیں اور ان کو عزت بھی ملتی ہے پیسے بھی وہ قوم کو بتائیں کہ وہ کرکٹ ٹیم کی بہتری کے لیے کیا کرتے رہے ہیں اور ان کی غلطیاں کیا ہیں اور ان کا احتساب کیسے ہو ۔ ٹیم مسلسل ہار رہی ہے اور دنیا میں اس کی رینکنگ نیچے جا رہی ہے ہاکی جیسا حشر نہ ہو جائے کہیں اللہ خیر کرے ۔ سب رو رہے ہیں چیخ رہے ہیں بار بار کہہ رہے ہیں غلطیاں کر رہے ہو غلطیوں کو سدھارو جو ٹیم سلیکٹ کی ہے وہ ٹورنامنٹ جیتنے جیسی نہیں مضبوط ۔ سلیکٹرز کو ہر مہینے بھاری رقم مل جاتی ہے جو لوگ بورڈ کے ساتھ ماہانہ لاکھوں روپے کما رہے ہیں ان کو کوئی فکر نہیں ۔ پاکستان کی کرکٹ تباہ ہو رہی ہے شائقین مایوس ہو رہے ہیں اور پاکستان کی کرکٹ مسلسل نیچے جا رہی ہے

سالک مجید – جیوے پاکستان ڈاٹ کام