
ن و القلم۔۔۔مدثر قدیر
عالمی یوم مرگی اور آگاہی۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں مرگی کی بیماری کے خلاف آگاہی کا عالمی دن 10فروری کو منایا گیا اس دن کو منانے کا مقصد اس بیماری کے خلاف لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا تھا کہ مرگی روگی علاج نہیں یہ اعصاب کی بیماری ہے اور لاعلاج نہیں ۔اس دن کو انٹرنیشنل بیورو آف ایپی لیپسی اور انٹرنیشنل لیگ آف ایپی لیپسی کے مشرکہ اعلامیہ کے تحت ہر سال فروری کے دوسرے ہفتے میںمنایا جاتا ہے ۔ہر سال یہ دن مختلف نظریات کے تحت منایا جاتا ہے اس سال یہ دن اس عزم یعنی MyEpilepsyJourney کے تحت منایا جارہا ہے ۔ اس تھیم نے لوگوں کو مرگی کے بارے میں اپنے ذاتی تجربات کا اشتراک کرنے کی ترغیب دی۔جس کا مقصد بیداری بڑھانا، ہمدردی پیدا کرنا، اور ایک معاون کمیونٹی بنانا تھا۔مرگی کے عالمی دن کے موقع پر میری نیورولوجسٹ ڈاکٹر عدنان اسلم اور نیورو سرجن ڈاکٹر عمار انور سے لمبی گفتگو ہوئی جس میں اس بیماری کے علاج اور خصوصی طور پر سرجری یعنی آپریشن کے ذریعے طریقہ علاج پر بات ہوئی ۔اس موقع پر بات کرتے ہوئے ایسوسی ایٹ پروفیسر آف نیورولوجی ،ڈاکٹر عدنان اسلم کا کہنا تھا مرگی جس کو جھٹکے دورے کی بیماری کہا جاتا ہے ایک ایسی بیماری ہے جس میں دماغ کے سیل شارٹ سرکٹ ہوتے ہیں اور ان سے بہت زیادہ مقدار میں برقیاتی اخراج ہوتا ہے۔ ہم جو بولتے ہیں بات کرتے ہیں چلتے ہیں پھرتے ہیں یہ سارا الیکٹریکل چارج کی وجہ سے ہے اورجب یہ الیکٹریکل ڈسچارج بہت زیادہ ہو جاتا ہے اور اتنا زیادہ ہو جاتا ہے کہ یہ ایب نارمل ہوجائے تو شارٹ سرکٹ ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں مریض کے جسم میں کچھ غیر ارادی حرکات رونما ہوتی ہیں جیسے کہ اچانک سے مریض کا ہاتھ پاؤں مڑ جانا، آنکھیں اوپر چڑھ جانا، زبان کاکٹ جانا اور پیشاب کپڑوں میں نکل جانا شامل ہیں جو مرگی کی سب سے بڑی ٹائپ جورلائزڈنگ پلاننگ ایپلیپسی ہے۔ پوری دنیا میں 65 ملین لوگ مرگی کا شکار ہیں اور ان میں ہر سال ڈھائی سے تین ملین لوگوں کا اضافہ ہو رہا ہے ، اگر پاکستان کی بات کریں تو پاکستان میں مرگی کے مریضوں کی جو تعداد پوری دنیا میں مرگی کے مریضوں کا 10 پرسنٹ ہے۔یہ وہ تعداد ہے جو رپورٹ ہوئی ہے مگر حقیقت میں مرگی کے مریضوں کی تعداد پاکستان میں اس سے کہیں زیادہ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم یہاں مرگی کے ساتھ بہت سارے توہمات اور تصورات کو جوڑ دیتے ہیں، جن کا حقیقت سے تعلق نہیں ہے ۔مرگی خدانخواستہ نہ جادو ہے ٹونا ہے اور نہ یہ کوئی ایسی چیز ہے جو بچے کے اوپر جو ہے وہ آگئی ہے اس کی وجہ سے اور اس کے نتیجے میں ہوتایہ ہے کہ مرگی کے مریضوں کا مرض چھپایا جاتا ہے اور ان کو ڈاکٹر کے پاس نہیں لے کے جایا جاتا۔ ایک سروے کیا گیا جس میں دیکھا گیا کہ پاکستان میں جو شہری علاقوں میں اگر 100 مریض ہیں تو ان میں سے صرف 27مریض ہی ایسے ہیں جو ڈاکٹروں تک پہنچتے ہیں اور علاج کرواتے ہیں اور اگر ہم بات کریں دیہی علاقوں میں تو صرف 2.1 پرسنٹ لوگ جو ہیں وہ علاج کراتے ہیں باقی سارے لوگ اس کو چھپا جاتے ہیں اور اس کے اس کے لیے عامل کے پاس بابے کے پاس پیر فقیر کے پاس جادو ٹونے والے کے پاس جاتے ہیںمگر ڈاکٹر کے پاس رجوع نہیں کرتے حالانکہ مرگی قابل علاج ہماری بیماری ہے اس کے لیے ماہر نیورالوجسٹ کے پاس جانے کی ضرورت ہے۔مرگی کی اقسام پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عدنان اسلم نے بتایاکہ مرگی کی سب سے پہلی قسم میں ہاتھ پاؤں اڑ جاتے ہیں آنکھیں اوپر چڑھ جاتی ہیں منہ سے جھاگ آتی ہے اور اس کے دوران مریض کا پیشاب کپڑوں میں نکل جاتا ہے اور زبان بھی کٹ جاتی ہے اور اس دوران مریض کو بالکل بھی ہوش نہیں ہوتا کہ اس کے پاس کون کھڑا ہے یہ جھٹکے والی کیفیت دو منٹ ڈھائی منٹ تک رہتی ہے اس کے بعد مریض یا تو بے ہوش ہو جاتا ہے یا پھر وہ غنودگی میں چلا جاتا ہے اس کا دورانیہ ا چار سے پانچ گھنٹے ہو سکتا ہے بسا اوقات اس سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے لیکن جب مریض ہوش میں آتا ہے تو اسے قطعی طور پر یاد نہیں ہوتا کہ اسے کیا ہوا وہ یہاں کیسے پہنچا ۔ اس قسم کو جنرلائز ٹونی پلاونک ایپیلیپسی کہتے ہیں۔ دوسری قسم وہ ہے جس میں مریض کا جسم ایک لہجے سے بھی کم دورانیے کہ یہ ایک سیکنڈ سے بھی کم دورانیے کے لیے جھٹکا کھاتا ہے اور مریض کے ہاتھ میں اگر کوئی کپ ہے پانی کا گلاس ہے کوئی چیز ہے تو وہ گر جاتی ہے اور لیکن اس میں مریض بالکل بھی بے ہوش نہیں ہوتا مریض ہوش میں رہتا ہے اور اس کو جھٹکا لگتا ہے اس کی یہ کیفیت بار بار بھی ہو سکتی ہے یعنی ایک دفعہ ہو کر پھر کچھ دیر کے بعد دوبارہ ہو سکتا ہے۔ مرگی کی تیسری قسم وہ ہے جس میں مریض چند سیکنڈ کے لیے گم سم ہو جاتا ہے اور گم سم ہونے کے دوران چند سیکنڈ کے لیے کیفیت ہوتی ہے یہ بچوں میں زیادہ کامن ہے اس کے دوران چند سیکنڈ کے دوران اگر مریض کو کوئی بات کہی جاتی ہے یا اسے کوئی انفارمیشن دی جاتی ہے یا اس سے کوئی کمانڈ دی جاتی ہے تو قطعی طور پر اس کمانڈ کو رسپانڈ نہیں کرتا۔ مرگی ایک قسم وہ ہے جس میں مریض چلتے چلتے بغیر ٹھوکر لگے بغیر وجہ کے گر جاتا ہے لیکن اس میں مریض کم بے ہوش نہیں ہوتا خوش میں رہتا ہے گرتا ہے اور پھر خود اٹھ جاتا ہے ۔ پانچویں قسم وہ ہے جس میں مریض نہ تو ہوش میں ہوتا ہے نہ وہ بے ہوش ہوتا ہے بلکہ ایک مدہوشی والی کیفیت ہوتی ہے مریض کو ایسے لگتا ہے جیسے غبار سر کو چڑھتا ہے اور پھر اس کے بعد بد حواسی یاں بے چینی جیسی کیفیت ہوتی ہے مریض کو بہت زیادہ غصہ ا ٓ سکتا ہے بغیر وجہ کے وہ بھڑک سکتا ہے مریض کو یاداشت میں پرابلم ہوتا ہے مریض کو ایسے لگتا ہے کہ جیسے اس نے کسی کو پہلی بار دیکھا ہے اور اس کو پتہ ہے کہ وہ پہلی بار دیکھتا ہے لیکن اس کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ میں نے پہلے بھی کہیں ان کو دیکھا ہوا ہے یہ فوکل ایپی لیپسی ہے اس میں مریض بے ہوش نہیں ہوتا۔مرگی دماغی بیماری ہے اور قابل علاج بیماری ہے 70 فیصد لوگ علاج کے ساتھ ٹھیک ہو جاتے ہیں اگر ان کا دوائیوں کا انتخاب ٹھیک ہے اور وہ دوائیاں باقاعدگی سے لیتے ہیں اور تین سال کے لیے اگر ایک بھی جھٹکانہ لگے تو ان کی دوائی بند ہو جاتی ہے ۔مرگی کے ساتھ ایک بات یہ بھی جڑی ہوئی ہے کہ جوتا سونگھانے سے یہ ٹھیک ہو جاتی ہے جو قطعی طور درست نہیںیہ دماغی بیماری ہے اور اس کے لیے ماہ نیورالوجسٹ سے دوائیاں لینی ضروری ہیں۔مرگی کی بیماری کے آپریشن پر بات کرتے ہوئے نیوروسرجن ڈاکٹر عمار انور نے بتایا کہ لوگوں کو اس بارے میں پتہ ہی نہیں ہے کہ مرگی کے لیے آپریشن بھی ہوتا ہے ۔مگر آپریشن کی ضرورت صرف 100میںسے صرف 2 مریضوں کیو ہوتی ہے باقی 98مریض ادویات کے ذریعے ہی ٹھیک ہوجاتے ہیں ۔مرگی کی سرجری پرانے وقتوں سے ہو رہی ہے ماڈرن ٹائمز میں جو پہلی رپورٹڈ سرجری تھی وہ 1880 میں سرویکٹر حوصلے نے کی جس کے بعد اس طریقہ کار کی تعلیم میں اضافہ ہوتا چلاگیا۔آپریشن کا عمل ان مریضوں کے لیے مخصوص ہوتاہے جن پر مرگی کی ادویات اثر نہیں کرتیں مگر آپریشن میں جانے سے پہلے کچھ ٹیسٹ کیے جاتے ہیں جن میں ایم آئی آر ، سی ٹی اسکین اور پیٹ اسکین شامل ہیں جن کی وجہ سے ہماری انویسٹیگیشنز ریفائن ہوتی ہیںاور پتہ چلتا ہے کہ دماغ میں کس جگہ پر مسئلہ درپیش ہے اور اس کو آپریشن کرکے نکالا جاسکتا ہے ۔مرگی کی سرجری کے پہلے طریقے میں دماغ کھول کر سرجری کی جاتی ہے جس کے بعد تین ماہ تک ادویات استعمال کی جاتی ہیں جبکہ دوسرے طریقہ میں دماغ کے متاثرہ حصے میں پیس میکر لگایا جاتا ہے جو مرگی کے دورے کو آنے سے پہلے محسوس کرکے اس کو روک دیتا ہے اس آپریشن کے بعد ادویات کھانے کی ضرورت نہیں پڑتی مگر یہ آپریشن مہنگا ہوتا ہے اور ہمارے ہاںاس حوالے سے لوگوں کا رجحان بھی کم ہے ۔مرگی کی آگاہی کے حوالے سے دونوں ڈاکٹروں کی رائے یہی تھی کہ اس مرض میں مبتلا مریضوں کو اپنا علاج کسی مستند ڈاکٹر یاں پھر قریبی ہسپتال میں جاکر کر کروانا چاہیے کیونکہ یہ مرض اعصابی بیماری ہے یہ کسی چیز کے زیر اثر جادو ٹونے سے نہیں ہوتی جس کے لیے توہمات مشہور ہیں۔























