ملک میں بے روزگاری، مہنگائی اور محنت کش طبقے پر ظلم جاری ہے، جس کی کوئی حد نہیں

لاڑکانہ ہائیڈرو یونین کے ورکرز کنونشن سے مرکزی صدر عبداللطیف نظامانی اقبال خان اور نثار شیخ خطاب کرتے ہوئے
================

لاڑکانہ رپورٹ محمد عاشق پٹھان واپڈا ہائیڈرو لیبر یونین کے مرکزی چیئرمین عبداللطیف نظامانی نے نظامانی لیبر ہال میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں بے روزگاری، مہنگائی اور محنت کش طبقے پر ظلم جاری ہے، جس کی کوئی حد نہیں، اس وقت ملک میں پاور سیکٹر میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا فیصلہ کیا گیا ہے، پہلے مرحلے میں اسلام آباد، گوجرانوالہ اور فیصل آباد کی سب سے زیادہ منافع بخش کمپنیوں کی نجکاری کرتے ہوئے سرکاری پاور پلانٹس بند کر کے ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک دے کر جبری طور پر گھر بھیجا جائے گا انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگی بجلی فراہم کرنے والے 90 آئی پی پیز ہیں جو ہر یونٹ پر 60 فیصد جرمانہ وصول کرتے ہیں جو کہ پاور پلانٹس کی بجلی رکھنے والے لوگوں سے تعلق رکھتے ہیں، یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملک میں مہنگائی نہیں ہے اور ملک ترقی کر رہا ہے، جب کہ کوئی چیز سستی نہیں ہو رہی، روز بروز مہنگی ہو رہی ہے، اس کے مقابلے میں نیپرا ریگولیٹرز کی تنخواہیں 5 لاکھ روپے سے بڑھ کر 3.2 لاکھ روپے ہو گئی ہیں جبکہ اراکین اسمبلی کی تنخواہیں 69 ہزار روپے سے بڑھ کر 5 لاکھ روپے سے زائد ہو گئی ہیں، عدلیہ کی تنخواہوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے اور انہیں لامتناہی سہولیات فراہم کی گئی ہیں جس کی کوئی حد نہیں دوسری طرف حکمران کہتے ہیں کہ ملک میں بجلی سستی کر دیں گے لیکن بجلی سستی نہیں ہو رہی کیونکہ ایک طرف آئی پی پیز کا غلبہ ہے تو دوسری جانب سرکاری مرکری پلانٹ کو بند کر کے ورکرز کی بھرتی پر پابندی لگا کر کئی سالوں سے ایک لاکھ خالی آسامیوں پر ملازمین کی بھرتی روک کر اس کی جگہ ایس ڈی اوز اور منیجرز کو بھرتی کیا جا رہا ہے، جن لوگوں نے ساری زندگی پاور ہاؤس چلایا ان کو گولڈن ہینڈ شیک دے کر بے روزگار کیا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ پنشن میں اصلاحات اس لیے کی گئی ہیں کہ 2024 کے بعد اگر کوئی بھرتی ہوتا ہے تو وہ خود کو 10 فیصد جبکہ حکومت 20 فیصد پنشن ادا کرے گی، یہ پنشن حکومت سے نہیں بلکہ ملازم کی اپنی تنخواہ سے ہوگی، اس کے مقابلے میں ای او بی آئی کی پنشن بھی زیادہ ہے، عبداللطیف نظامانی کا کہنا تھا کہ صورتحال سنگین اور تشویشناک ہے وزیر انرجی کہتے ہیں جو فیصلے ہو گئے فائنل ہیں آپ کی کوئی بات نہیں سنی جائے گی، ہمارے 20 فیصد سن کوٹہ پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ بھرتی تو پہلے ہی نہیں ہو رہی، پاور سیکٹر میں 5500 افراد ایسے ہیں جنہیں گولڈن ہینڈ شیک کے تحت فارغ کر دیا جائے گا، ورکرز کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ نہیں کیا جا رہا، اے بی سی کیٹیگری میں بھرتی، ٹی اینڈ پی اور آلات فراہم نہیں کیے جا رہے، سہون، شہدادکوٹ ودیگر علاقوں میں مزدوروں کے ساتھ آئے روز حادثات ہوتے اور وہ معذور ہو رہے ہیں، بجلی نادہندگان سے رکوری کے لیے رینجرس بھیجی گئی ہے جو ہمارے ساتھ کام کر رہے ہیں ہم ان کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن انہیں پیٹرول کھانا، ٹرانسپورٹ کون فراہم کرے گا اور ان کی فرمائشیں کون پوری کرے گا ؟ ہمیں پوچھنا ہے کہ کیا یہ آپ اور ہم فراہم کریں گے ؟ انہوں نے کہا کہ بجلی چوری عروج پر ہے جس کا زمہ دار مزدور نہیں بلکہ حکومت، صارفین اور انتظامیہ ہے، ہمارے پاس بجلی چوری روکنے کی کوئی پالیسی نہیں ہے طاقتور سے کوئی سوال نہیں ہوتا ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، انہوں نے کہا تنخواہ دار طبقے پر بھاری ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے ٹیکس کی رقم ایف بی آر میں جمع ہو رہی ہے وفاقی وزیر پرویز کہتے ہیں کہ جنوری میں ملازمین کے ٹیکس سے 300 ارب جمع کروائے جا چکے ہیں، سرکار اربوں کا ٹیکس لے کر بھی کوٹڑی پاور پلانٹ کو گیس تک نہیں مل رہی، جامشورو، گڈو لاکھڑا، مظفر گڑھ، نندی پور پاور پلانٹس بھی بند ہیں، کوٹڑی اور لاکھڑا پاور پلانٹ کی مشینری بھی فروخت کی جا رہی ہے صرف لوہا 30 ارب کا ہوگا یہ بھی حکمران ہی خرید کریں گے، طاقتور ٹیکس نیٹ سے باہر ہے غریب طبقے کو پیسا جا رہا ہے پہلے آرڈیننس پر دستخط کر کے پاس کرتے اور بعد میں مشورے مانگے جاتے ہیں یہ کہاں کا انصاف ہے یہاں ون مین شو چل رہا ہے اس سے ملک کو نقصان ہوا اور مزید ہونے کے قوی امکان ہیں، سوشل جسٹس ختم کیا جا رہا ہے جس کے لیے جنگ جاری ہے ہمیشہ مزدوروں اور شہریوں کے حق کی بات کی ہے، عبداللطیف نظامانی کا کہنا تھا کہ ہم شور کرنے کی بجائے اپنی آواز اقتدار کے ایوانوں تک پہنچانا چاہتے ہیں بات کی جائے ورنہ زمہ دار حکومت ہی ہوگی، انہوں نے کہا ماضی میں نواز شریف محترمہ شہید بے نظیر، اور عمران خان نے بھی نجکاری کا فیصلہ کیا لیکن ہم نے نجکاری نہیں ہونے دی اب 26 جنوری سے 6 ماہ کے لیے احتجاج پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اظہار کی آزادی بھی چھین لی ہے شکر ہے کہ 18 فروری پر این آر سی نے پابندی کا آرڈر معطل کر دیا جس کے بعد ہم نے احتجاج ریکارڈ کروایا ہے ہم جانتے ہیں رکاوٹیں کون پیدا کرتے ہیں جو نظر نہیں آتے انہیں ہوش کے ناخن لینا ہونگے، کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز تو ربر اسٹیمپ ہیں، انہوں نے مشورہ دیا کہ مجھے چاہے پکڑ لیں لیکن بات کریں ماضی میں بھی 32 ہزار فوجی بھیجے گئے جنہوں نے آتے ہی کہا ملازمین چور ہیں لیکن پھر ہم جنرل پرویز مشرف سے ملے اور یونین پر پابندی ختم کی گئی تھی اب بھی یونین کام کر رہی ہے بات کی جائے ہم محنت، جدو جہد خون پسینا بہا کر بہت کم مراعتیں ملتی ہیں، حالات خراب کر کے بجلی صارفین کو سولر پر شفٹ کیا جا رہے ہے تاکہ ادارے تباہ ہوں، انہوں نے اپیل کی کہ معیشت اداروں کو تباہ نا کیا جائے کیونکہ اس سے مزدور طبقہ زندگی سے تنگ آ جائے گا، ورکرز کنونشن سے صوبائی سیکرٹری جنرل اقبال خان، ریجنل چیئرمین نثار شیخ، عبداللہ سومرو، محمود پٹھان، علی محمد جتوئی، ہادی بخش جتوئی خرم میمن، و دیگر نے بھی خطاب کیا