ایک ایسی نجی یونیورسٹی بھی ہے جس کے پاس وفاقی ایچ ای سی کی این او سی بھی نہیں ہے اور وہ میڈیکل کا پروگرام چلارہے ہیں- کراچی سمیت سندھ میں 5 یا 6 ایسی نجی جامعات کا انکشاف ہوا ہے جو بظاہر کاغذوں پر چل رہی ہیں، پورے ہفتے ان کے یہاں کسی بھی پروگرام کی کلاسز نہیں ہوتیں


ایک ایسی نجی یونیورسٹی بھی ہے جس کے پاس وفاقی ایچ ای سی کی این او سی بھی نہیں ہے اور وہ میڈیکل کا پروگرام چلارہے ہیں- کراچی سمیت سندھ میں 5 یا 6 ایسی نجی جامعات کا انکشاف ہوا ہے جو بظاہر کاغذوں پر چل رہی ہیں، پورے ہفتے ان کے یہاں کسی بھی پروگرام کی کلاسز نہیں ہوتیں

کراچی میں سرکاری سطح پر ایک نئی یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جارہا یے جسے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے طور پر چلایا جائے گا، اس یونیورسٹی کو ابتدا میں ڈگری ایوارڈنگ انسٹیٹیوٹ کے طور پر چارٹر دیا جائے گا۔ کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا بلاک 15میں قائم ایجوکیشن کالج کو یونیورسٹی/ڈگری ایوارڈنگ انسٹیٹیوٹ کا درجہ دیا جارہا ہے جس کے لیے سندھ ایچ ای سی کے ماتحت چارٹر انسپیکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی نے حال ہی میں مذکورہ کالج کا دورہ کیا ہے۔اس موقع پر سیکریٹری کالج ایجوکیشن آصف اکرام کی جانب سے بھی وائس چانسلرز پر مشتمل کمیٹی کو بریفنگ دی گئی، ڈائریکٹر جنرل چارٹر انسپیکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی نعمان احسن نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایجوکیشن کالج کو چارٹر دینے کے سلسلے

میں اب تک دو وزٹ ہوچکے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ڈی جی چارٹر کمیٹی نے کہاکہ کراچی سمیت سندھ میں 5 یا 6 ایسی نجی جامعات کا انکشاف ہوا ہے جو بظاہر کاغذوں پر چل رہی ہیں، پورے ہفتے ان کے یہاں کسی بھی پروگرام کی کلاسز نہیں ہوتیں لہذا اب ہم ان نجی جامعات کے خلاف کارروائی کرنے جارہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں نعمان احسن نے کہاکہ ایک ایسی نجی یونیورسٹی بھی ہے جس کے پاس وفاقی ایچ ای سی کی این او سی بھی نہیں ہے اور وہ میڈیکل کا پروگرام چلارہے ہیں

جبکہ کچھ ایسی جامعات یا ڈگری ایوارڈنگ انسٹیٹیوٹ ہیں جو انڈسٹریل لینڈ پر یونیورسٹی کا کیمپس کھول چکے ہیں جبکہ این او سی کے وقت ان کی جانب سے کیمپس کی دیگر جگہوں کو ظاہر کیا گیا تھا، انھوں نے بتایا کہ ان نجی جامعات کے خلاف کارروائی کے لیے کمیشن کی منظوری لی جارہی ہے۔

https://e.jang.com.pk/detail/852091
=================

کام کی جگہ ہراسانی‘ پاکستان 146 ممالک میں 145 ویں نمبر پر
اسلام آباد (ایجنسیاں)سپریم کورٹ نے ہراسانی کے ملزم کی نوکری سے جبری ریٹائرمنٹ کے خلاف درخواست خارج کردی‘جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے 9 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔فیصلے میں کہاگیاہے کہ کام کی جگہ پر ہراسانی عالمی مسئلہ ہے‘ہراسانی کے معاملے میں پاکستان 146ممالک میں 145ویں نمبرپرہے۔واضح رہے کہ ڈاکٹر سدرہ نے ڈرائیور کے خلاف ہراسانی سے متعلق پنجاب محتسب سے رجوع کیاتھا‘ محتسب نے ڈرائیور کو جبری ریٹائرمنٹ کی سزا سنائی تھی جسے لاہور ہائیکورٹ نے برقرار رکھا تھا‘ سپریم کورٹ نے لاہورہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف درخواست خارج کردی۔
==================

پرائیویٹ میڈیکل کالجز کا پارلیمانی کمیٹی اور پی ایم ڈی سی کے احکامات ماننے سے انکار
اسلام آباد (عاطف شیرازی) پرائیویٹ میڈیکل کالجز کا پارلیمانی کمیٹی اور پی ایم ڈی سی کے احکامات ماننے سے انکار،میڈیکل سیکنڈ ائیر کے طلبہ کو بھی 30 لاکھ روپے تک فیس وصولی کے نوٹسز جاری کر دیئے گئے،پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی ہٹ دھرمی رک نہ سکی۔ پارلیمانی کمیٹی اور پی ایم ڈی سی کے احکامات کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے میڈیکل سیکنڈ ائیر کے طلبہ کو بھی 30 لاکھ روپے تک فیس وصولی کے نوٹسز جاری کر دیئے گئے۔ جبکہ حکومت کی طرف سے 2024-25 کے طلبہ سے فیس وصولی نہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ نجی میڈیکل کالجز کی زیادتیوں کے خلاف طلبہ کی بڑی تعداد نے مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما سینیٹر عرفان صدیقی، سینیٹر پلوشہ خان سمیت قائمہ کمیٹی صحت کے دیگر اراکین، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر صحت ڈاکٹر مختار برتھ اور سیکرٹری صحت کو صورتحال سے آگاہ کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارت صحت وزارت قانون اور پی ایم ڈی سی کے اعلیٰ افسران پر مشتمل ایک کمیٹی نے ایم بی بی ایس کی زیادہ سے زیادہ ٹیوشن فیس 12 لاکھ مقرر کرنے کی سفارشات حکومت کو جمع کرائی ہیں جبکہ حکومت نے ایم بی بی ایس کے 2024-25 کے طلبہ سے فیس وصولی پر پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

========
کے ایم ڈی سی کی امتحانی فیس پر جامعہ کراچی سے بات کرینگے، مئیر
کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے طلبہ کا احتجاج مئیر کراچی مرتضی وہاب سے مزاکرات کے بعد ختم ہوگیا اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈووکیٹ کی ہدایت پر اپوزیشن اراکین جماعت اسلامی نعمان الیاس، میڈیا کوآرڈینیٹر جواد شعیب ،ابرار احمد ، تیمور اور دیگر نے مئیر کراچی سے ملاقات کی اور طلبہ کے درمیان بات چیت کی راہ ہموار کی مئیر کراچی نے طلبہ کے وفد سے ملاقات کی اور انکے جائز مطالبات کے حل کےلئے کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کروائی اور کہا ایگزامنیشن فیس سے متعلق کراچی یونیورسٹی سے بات کی جائے گی پوائنٹ کو مسئلہ حل کیاجا ئےگا ڈیویلمپمنٹ چارجز کا از سر جائزہ لیا جائے گاجن طالبات کیساتھ سٹی وارڈ نز نے بدتمیزی کی ان طالبات سے مئیر نے معذرت کی اورکہا سٹی وارڈنز کو معطل کیاجا ئےگا اور ان دو طالبات کی ایگزامینشن فیس مئیر کراچی خود ادا کرینگے مئیرنے طلباء سے کہاکہ انکے دروازے کھلے ہیں احتجاج کاطریقہ اختیار نہ کریں بیٹھ کر مسایل پر بات کریں جماعت اسلامی کے اراکین کونسل کے ذریعے اپنی تمام مطالبات اور دستاویزات پر مبنی یاداشت دے دیں جو بھی ریلیف دیا جاسکتا ہو گا دیا جائے گاقبل ازیں طلبہ نے کے ایم سی بلڈنگ کے باہر اور اندر اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کیا نعرے بازی کی شام تک دھرنا دیا۔