اسٹیل انڈسٹری: پاکستان میں کارکردگی، چیلنجز اور مستقبل کے امکانات

اسٹیل انڈسٹری: پاکستان میں کارکردگی، چیلنجز اور مستقبل کے امکانات

تحریر: سالک مجید، ایڈیٹر جیوے پاکستان ڈاٹ کام
==============

اسٹیل انڈسٹری کسی بھی ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ صنعت نہ صرف تعمیرات، مینوفیکچرنگ اور انفراسٹرکچر کے شعبوں کو سپورٹ فراہم کرتی ہے بلکہ روزگار کے بے شمار مواقع بھی پیدا کرتی ہے۔ پاکستان میں اسٹیل انڈسٹری نے گزشتہ کچھ سالوں میں کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ سال 2024 کے عالمی اسٹیل انڈسٹری کے trends اور پاکستان میں اس صنعت کے مستقبل کے حوالے سے کئی اہم سوالات ہیں۔ کیا پاکستان میں اسٹیل انڈسٹری میں سرمایہ کاری فائدہ مند ہے؟ اس صنعت کو کن چیلنجز کا سامنا ہے؟ اور آیا پاکستان میں نئے اسٹیل ملز کے قیام کے امکانات ہیں؟

2024: عالمی اسٹیل انڈسٹری کا سال
2024 میں عالمی اسٹیل انڈسٹری نے کئی چیلنجز اور مواقع کا سامنا کیا۔ چین، جو دنیا کا سب سے بڑا اسٹیل پروڈیوسر ہے، نے اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کی کوششوں کے تحت اسٹیل کی پیداوار میں کمی کی۔ یہ صورتحال عالمی منڈی میں اسٹیل کی قیمتوں پر اثرانداز ہوئی۔ دوسری طرف، بھارت نے اپنی اسٹیل انڈسٹری کو جدید بنانے اور پیداوار بڑھانے پر توجہ مرکوز کی، جس سے وہ دنیا کا دوسرا بڑا اسٹیل پروڈیوسر بن گیا۔

یورپ اور امریکہ میں سبز توانائی کے رجحان نے اسٹیل انڈسٹری کو ماحول دوست پیداواری طریقوں پر منتقل ہونے پر مجبور کیا۔ اس کے نتیجے میں، گرین اسٹیل (Green Steel) کی مانگ میں اضافہ ہوا، جو کم کاربن اخراج کے ساتھ تیار کی جاتی ہے۔

پاکستان میں اسٹیل انڈسٹری: کارکردگی اور چیلنجز
پاکستان میں اسٹیل انڈسٹری کا حجم تقریباً 6 سے 7 ملین ٹن سالانہ ہے۔ ملک میں تقریباً 600 سے زائد اسٹیل کی چھوٹی بڑی کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جن میں سے کچھ بڑی کمپنیاں جیسے امکان اسٹیل، ایجیکس اسٹیل، اور ٹیوائن اسٹیل شامل ہیں۔ یہ صنعت لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے، خاص طور پر کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں۔

تاہم، پاکستان کی اسٹیل انڈسٹری کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے:

خام مال کی کمی: پاکستان میں اسٹیل بنانے کے لیے درکار خام مال جیسے آئرن اور کوئلہ مقامی سطح پر دستیاب نہیں ہے۔ اس کی درآمد مہنگی پڑتی ہے، جس سے پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے۔

بجلی اور گیس کے بحران: اسٹیل ملز کو بھاری مقدار میں توانائی درکار ہوتی ہے، لیکن پاکستان میں بجلی اور گیس کے بحران نے اس صنعت کو شدید متاثر کیا ہے۔

ٹیکس اور ڈیوٹیز: حکومتی پالیسیوں میں غیر مستحکم ٹیکس نظام اور درآمدی ڈیوٹیز نے اسٹیل انڈسٹری کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں۔

غیر قانونی درآمدات: سستے اور غیر معیاری اسٹیل کی غیر قانونی درآمدات نے مقامی صنعت کو نقصان پہنچایا ہے۔

پاکستان میں اسٹیل انڈسٹری میں سرمایہ کاری: فائدہ مند یا خطرناک؟
پاکستان میں اسٹیل انڈسٹری میں سرمایہ کاری کے لیے بڑے مواقع موجود ہیں، لیکن اس کے ساتھ کچھ خطرات بھی ہیں۔ ملک میں تعمیراتی شعبے کی ترقی، سی پیک منصوبوں کی وجہ سے انفراسٹرکچر کی مانگ، اور آبادی میں اضافہ اسٹیل کی طلب کو بڑھا رہے ہیں۔ اگر حکومت درآمدی پالیسیوں میں بہتری لائے، توانائی کے بحران کو حل کرے، اور خام مال کی دستیابی کو یقینی بنائے، تو اسٹیل انڈسٹری میں سرمایہ کاری فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

تاہم، غیر مستحکم معاشی حالات، کرنسی کی کمی، اور سیاسی عدم استحکام جیسے عوامل سرمایہ کاروں کے لیے خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔

اگلے 5 سالوں کی پیش گوئی
عالمی سطح پر، اسٹیل انڈسٹری میں گرین اسٹیل اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ پاکستان میں بھی، اگر حکومت اور صنعت کے درمیان بہتر تعاون ہو، تو اسٹیل انڈسٹری میں نمایاں ترقی کی گنجائش موجود ہے۔ اگلے 5 سالوں میں، اسٹیل کی طلب میں سالانہ 5 سے 7 فیصد تک اضافے کی توقع ہے، خاص طور پر تعمیراتی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں۔

نئے اسٹیل ملز کے امکانات
پاکستان میں نئے اسٹیل ملز کے قیام کے لیے بڑے مواقع موجود ہیں، لیکن اس کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:

خام مال کی درآمد پر ڈیوٹیز میں کمی۔

توانائی کے شعبے میں بہتری۔

غیر قانونی درآمدات پر کنٹرول۔

جدید ٹیکنالوجی اور گرین اسٹیل کے استعمال کو فروغ۔

اگر یہ اقدامات کیے جائیں، تو پاکستان میں نئے اسٹیل ملز کا قیام نہ صرف صنعت کو مضبوط بنائے گا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔

آخری بات
پاکستان کی اسٹیل انڈسٹری کو بے پناہ صلاحیت حاصل ہے، لیکن اسے ترقی کے لیے درست پالیسیوں اور حکومتی تعاون کی ضرورت ہے۔ اگر چیلنجز پر قابو پا لیا جائے، تو یہ صنعت نہ صرف ملکی معیشت کو مضبوط بنائے گی بلکہ سرمایہ کاروں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو گی۔

جیوے پاکستان کے پلیٹ فارم سے جڑے رہیں تاکہ معیشت، صنعت اور روزگار سے متعلق تازہ ترین معلومات حاصل کرتے رہیں۔

سالک مجید
ایڈیٹر، جیوے پاکستان ڈاٹ کام
کراچی، پاکستان